نوجوان نسل کی راہنمائی کیسے کی جائے
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 13 / اکتوبر / 2019
- 7990
پاکستان کی ایک بڑی سیاسی طاقت نوجوان طبقہ ہے۔کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی نکتہ نوجوان نسل کی ترقی سے جڑا ہوتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ ریاستی و حکومتی سطح پر سازگار ماحول سے ان کی ترقی کو ممکن بنایا جائے۔
یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ جب ریاستی و حکومتی سطح پر نوجوان طبقہ سیاسی ترجیحات کا حصہ ہو۔ سیاسی ترجیحات سے مراد یہ ہے کہ حکومتی سطح پر نوجوانوں کے تناظر میں وسائل کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے او رنوجوانوں میں پڑھے لکھے، ناخواندہ، شہری اور دیہی لڑکے اور لڑکیاں،معذور، خواجہ سرا اور کمزور طبقات شامل ہونے چاہیے۔
ہماری حکومت اور ریاستی ادارے نوجوانوں کی بات تو بہت کرتے ہیں اور دعوی کیا جاتا ہے کہ ان کو اپنی مختلف پالیسیوں کی مدد سے ہم ان کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے گا۔لیکن عملی طور پر ہماری حکومتی پالیسیوں میں ہمیں نوجوان طبقہ کے مسائل کی وہ عکاسی نہیں ہوتی جو ہونی چاہیے تھی۔حالانکہ تحریک انصاف اور عمران خان کی حقیقی سیاسی طاقت ہی نوجوان طبقہ ہے او راس طبقہ کو عمران خان اور ان کی حکومت سے بہت زیادہ سیاسی توقعات وابستہ ہیں۔عمومی طور پر ہماری سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتیں نوجوان طبقہ کو اپنے سیاسی حق میں ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں او ریہ ہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ سیاسی سطح پر اہل سیاست کے ہاتھوں سیاسی استحصال کا بھی شکار ہوتا ہے۔
اس وقت نوجوانوں کو سات سطحوں پر مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ اول تعلیمی نظام میں نوجوانوں کو درست سمت میں راہنمائی اور مارکیٹ سے جڑی ضرورتوں کو بنیاد بنا کر مستقبل کی منصوبہ بندی یا حکمت عملی کا تعین جس میں استاد اور والدین کا اہم کردار ہوگا۔ دوئم معاشی سطح پر نوجوان طبقہ کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا بالخصوص خود سے روزگار پیدا کرنے کا رجحان پیدا کرنا، نوجوانوں کو حکومتی سے سطح سے ان کے لیے آسان شرائط او ربلاسود قرضوں کی فراہمی،سوئم سیاسی، سماجی شعور کی آگاہی اور معاشرے کی ترقی میں ان کی اپنی ذمہ داری اور حق،
چہارم غیر نصابی او رکھیلوں کی سرگرمیوں کے آسان مواقع، پنجم ایک ایسا سازگار ماحول جو نوجوان طبقہ کو بلاخوف، ججھک آگے بڑھنے کے مواقع جو میرٹ پر مبنی ہو، ششم ایسے نوجوان جو ناخواندہ ہیں، معذور ہیں یا یا دیگر محروم طبقات میں شامل ہیں ان کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی کے دھارے میں شامل کرنا اہم ہوگا۔ہفتم ہمیں نوجوانوں میں امید کا پہلو بھی پیدا کرنا چاہیے او ران کو ایک غیر یقینی یا عدم تحفظ کے احساس سے باہر نکالنا اور ان کو باو رکروانا کہ وہ حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں نوجوانوں کی کیا راہنمائی کرنی چاہیے او راس کا ایسا کونسا طریقہ کار ہونا چاہیے جو حقیقی معنوں میں ان نوجوانوں کی ترقی کو یقینی بناسکے۔ ہمیں اس حوالے سے سب سے پہلے نئی نسل کو یہ باور کروانا ہوگاکہ حالات سے مایوس ہونے کی بجائے وہ حالات سے مقابلہ کرنا سیکھیں۔ یقینی طور پر نوجوان نسل کو کئی سطحوں پر مختلف حوالوں سے چیلنجز کا سامنا ہے مگر ان کے لیے فوری طور پر کوئی بھی آئیڈیل ماحول فراہم نہیں کرسکے گا۔ ان ہی برے حالات او رمشکل صورتحال کا مقابلہ کرنا اور اس میں اپنے لیے محفوظ راستہ تلاش کرنا ہی ان کا اصل کام ہے۔نوجوان بڑے خواب ضرور دیکھیں او ران کو دیکھنا بھی چاہیے،لیکن حالات کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ وہ حقیقی دنیا سے بھی آگاہ ہوں او رترقی کے عمل میں چھوٹے یا نچلی سطح سے اپنے کام کا آغاز کریں۔یہ سوچ کہ صرف بڑا کام ہی کرنا ہے درست حکمت عملی نہیں بلکہ بڑے کام تک جانے کے لیے چھوٹے کام سے کام کا آغاز کرنا چاہیے۔یہ جو نوجوان نسل ریاست او رحکومت پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے ا س کے مقابلے میں ایک متبادل سو چ کے ساتھ آگے بڑھیں اور خود سے اپنا کام کرنے کی کوشش کریں او ریہ سوچ اور فکر ان کو زیادہ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔
ایک مسئلہ بہت زیادہ ذہنی دباؤ، مایوسی او رلاتعلقی کا پیدا ہوتا ہے۔ یہ عمل دو خرابیاں پید ا کرتا ہے۔ اول ہر کام کو مایوسی کے تناظر میں دیکھنا اور معاملات سے لاتعلق ہونا، دوئم منفی سرگرمیوں کا حصہ بنا۔ ا س کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ غیرنصابی سرگرمی سمیت کھیل کا حصہ بننا ہوگا۔کیونکہ ایک صحت مند دماغ ہی صحت مند معاشرہ اور خود کو مثبت طو رپر پیش کرسکتا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں لڑکوں اور بالخصوص لڑکیوں کے غیر نصابی یا کھیلوں کی سرگرمی کا عمل اتنا زیادہ کمرشل ہوگیا ہے کہ اب نوجوان طبقہ ان سہولیات تک رسائی نہیں رکھ پاتااو رایسے میں حکومت کی لاتعلقی بھی مایوس کن ہے۔
ہمارے اہل دانش، ریاست او رحکومت کو بنیادی بات یہ سمجھنی ہوگی کہ نوجوان طبقہ کسی سیاسی وسماجی یا مذہبی واعظوں یا لوگوں کو موٹیویشنل عمل کو بنیاد بنانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ریاست او رحکومت سمیت تمام فریقین کی سطح پر ایک بڑی سیاسی، سماجی، انتظامی او رمالی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ قومی سطح پر موجود قانون سازی،پالیسی او رحکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگااو راس میں نوجوانوں کو بنیاد بنا کر کچھ نئی سوچ اور فکر کو تقویت دینی ہوگی۔مسئلہ قانو ن سازی نہیں بلکہ جو قانون موجود ہیں ان پر عملدرآمد کا نظام شفاف بنانا ہوگا۔یہ جو اس وقت ہمیں امیری، غریبی یا حق او رحقوق کے نام پر محرومی یا عدم تحفظ کا احساس غالب نظر آتا ہے اس نے ریاست اور نوجوانوں کے درمیان ایک بڑی خلیج یا فاصلے پیدا کردیے ہیں۔
ریاست او رحکومت کو سمجھنا ہوگا کہ ان کا حکمرانی کا نظام نوجوانوں میں زیادہ مایوسی او رلاتعلقی پیدا کرتا ہے او رہم حکمرانی کے نظام میں اس نوجوان طبقہ کو شامل او ران کی ترجیحات کا تعین کیے بغیر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ حکمت عملی درست نہیں او راس سے نوجوان طبقہ کی کوئی بڑی راہنمائی ممکن نہیں ہوسکے گی۔کیونکہ ان کو ایسا نظام درکار ہے جو ان کے بنیادی حقوق کی ضمانت بھی دے سکے او رآگے بڑھنے کے تمام مواقع بھی فراہم کرسکے۔ یہ عمل یقینی طور پر منصفانہ اور شفاف حکمرانی کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔
اسی طرح نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کی دنیا علم ا ور صلاحیت کی دنیا ہے اور اس دنیا میں وہی لوگ اپنے لیے جگہ بناسکیں گے جو علم اور اپنی صلاحیت کو بنیاد بنا کر اس میں رنگ بھرنے کی کوشش کریں گے۔ محض ڈگری کے حصول کی بنیاد پر ان کو کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکے گی اس کے لیے ان میں ڈگری سمیت ایسی صلاحیتوں کی ضرورت ہے جو اس وقت عملی طور پر معاشرے کو درکار ہے۔اس میں ہمیں اپنے پورے تعلیمی نظام کی اصلاح کرنی ہے اور اس نظام کو ملکی اور مارکیٹ کی ضرورت کے تحت ڈھالنا ہے۔
ایک بنیادی مسئلہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیتی عمل کا فقدان ہے۔ معاشرے میں جس تیزی سے ہماری اخلاقی تربیت کا عمل کمزور ہوا ہے اس نے اخلاقی بحران بھی پیدا کیا ہے۔ایک اچھا انسان کیا ہوتا ہے یہ اب ہمارے ایجنڈے کا حصہ کم اور زیادہ ہم بس ایک کامیاب انسان بننا چاہتے ہیں۔ کامیاب انسان اور اخلاقی معیارات کو علیحدہ علیحدہ خانوں میں دیکھنے کی بجائے ہمیں ایک ہی زوایہ سے سمجھنا ہوگا اچھے انسان کے لیے اچھے اخلاقی اصول بھی اہم ہوتے ہیں او ریہ اس کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔
نوجوانوں کو اپنے ارد گرد کے ماحول کے بارے میں زیادہ باخبر ہونا چاہیے او راس میں اسے اپنے اچھے او ربرے کی تمیز کا فرق معلوم ہونا چاہیے۔یہ جو حالات سے گمراہی کا عمل ہوتا ہے وہ ہمیں اندھیروں کی طرف دکھیلتا ہے اور روشنی میں آنے کے لیے ہمیں لوگوں کے ماضی کے تجربات سے سیکھ کر درست راستے کا چناو ہوتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان لڑکوں او رلڑکیوں دونوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور یہ عملی طو رپر محنتی نوجوان ہیں جو بہت کچھ کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔لیکن خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمیں عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ یہ عمل ہم نوجوانوں کو ایک بہترگائڈ لائن، تربیت اور قیادت کے طور پر دے سکتے ہیں۔ہمیں بطور ریاست، حکومت اور معاشرہ نوجوان طبقہ کا ہاتھ پکڑنا ہے اور ثابت کرنا ہے کہ وہ اس ترقی کے سفر میں تنہا نہیں بلکہ مجموعی طور پر معاشرہ ان کے ساتھ کھڑا ہے، یہ عمل نوجوان طبقہ کی ترقی کی ضمانت بن سکے گا۔