نشہ: موت کا سوداگر۔۔۔

منشیات ایک قدرتی یا مصنوعی شے ہے جس  کے مسلسل لینے  سے انسان خود کو بحال محسوس کرتا ہے اور زیادہ مقدار میں استعمال سے مہلک  ثابت ہوسکتی ہے۔ نشے کا عادی انسان اس کے بغیر زندگی بسر نہیں کرسکتا۔

 موریشس میں عموماً جس طرح کے منشیات استعمال ہوتے ہیں، وہ ہیں چرس، گانجا، افیون، ہیروئن، مصنوعی نشہ یا پھر دوائیاں جیسے کھانسی کی دوائی کا حددرجہ استعمال۔نشے کے منفی اثرات سے لوگ عموماً واقف ہوتے ہیں، پھر بھی کئی لوگ اس کے جال میں پھنستے  ہیں۔  اپنے ذاتی مسائل سے چھٹکارا پانے کے لئے لوگ منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی تجسس کو پورا کرنے کے لئے اس سے مسحور ہونا چاہتے ہیں۔ یا پھر اپنی شرمندگی یا ہچکچاہٹ کو مٹانے کے لئے منشیات لیتے ہیں۔  ایسے بھی لوگ ہیں جو دوستوں اور بری صحبت سے متاثر ہو کر نشہ شروع کرتے ہیں۔  دوسرے ان کا مذاق نہ اڑائیں اس لئے وہ دباؤ میں آکر نشہ کرنے لگتے ہیں۔  وقتی طور پر نشہ انہیں اپنے احساسِ کمتری کو بھلانے میں مدد کرتا ہے۔

نشے کا عادی بننے میں کئی مراحل شامل ہیں۔  جب نشہ باز نشہ کرتا ہے شروع میں نشہ اس کے مسائل کا حل معلوم ہوتا ہے۔  وہ خود کو بہتر محسوس کرنے لگتا ہے۔  نشہ اس کی زندگی میں ایک اہم مقام لینے لگتا ہے۔  دھیرے دھیرے وہ نشے کی مقدار کو بڑھانے لگتا ہے۔  اس طرح وہ جال میں پھنس جاتا ہے۔ وہ بس نشہ حاصل کرنے کے بارے میں سوچتا ہے۔  اب وہ اپنے دوستوں اور گھر کے افراد سے اپنی لت کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔  وہ پانی خودداری اور استغنا کو بالائے طاق رکھ کر نشہ خریدنے کے لئے جھوٹ بولنے لگتا ہے  اور چوری بھی کرنے لگتا ہے۔  اب احساس ندامت کے باعث وہ تلملانے لگتا ہے۔  وہ دوسروں سے دوری اختیار کرنے لگتا ہے اور اسے کوئی بھی چیزمنطقی طور پر سمجھانا مشکل ہے۔  وہ عجیب و غریب رویہ بھی اختیار کرنے لگتا ہے۔ گھر والوں اور اغزاء و اقرباء سے اس کے تعلقات الجھنے لگتے ہیں۔  ملازمت میں اس کی کارکردگی میں نمایاں گراوٹ آتی ہے۔ وہ اکثر غیر حاضر رہتا ہے اور اس کی نوکری ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔  اس مرحلے میں وہ پوری طرح نشے کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہے۔

نشہ باز کا جسم نشے کا آہستہ آہستہ عادی ہونے لگتا ہے۔  اب وہ نشہ لینے کے لئے ہاتھ پیر مارتا  ہے۔  وہ پوری تقویت سے نشے کوخرید کر لینے کی کوشش کرے گا کیونکہ نشے کی کمی سے اس کا جسم تڑپنے لگتا ہے اور اس کے جسم میں شدید درد و کرب اٹھنے لگتا ہے، وہ خود کو بیمار محسوس کرتا ہے اور اس کے پسینے چھوٹنے لگتے ہیں۔اب وہ ایسے نشے کی تلاش کرتا ہے جس سے اسے آرام ملے۔ نشہ کے اثر کی کمی محسوس ہوتے ہی اس کی حالت جہنم کی طرح بدترہو جاتی ہے۔ وہ سکون پانے کے لئے نشے کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے۔  اس کے بغیر وہ کوئی کام انجام نہیں دے پاتا۔  اس موڑ پر وہ نشہ کا مکمل عادی ہوجاتا ہے اور اس کی زندگی کا دارومدار صرف نشہ ہے۔

نشہ ایک ہشاش بشاش انسان کی طیعت میں نمایاں تبدیلی لاسکتا ہے۔  ایک خوش اخلاق وحشی جیسا ہوسکتا ہے۔  مزاج میں چڑچڑاپن آجاتا ہے۔  وہ غصّہ میں لوگوں پر حملہ کرنے لگتا ہے۔  وہ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے تاکہ دنیا کو اس کی بری عادت کا علم نہ ہو۔  وہ اپنے خاندان، اپنے احباب اور اپنے مالک کو دھوکا دینے لگتا ہے، جھوٹ بولتا ہے اور علیحدگی اختیار کرنے لگتا ہے۔

نشہ انسان کے ذہن پر تذبذب کی حالت طاری کردیتا ہے اور وہ کھل کر صاف فیصلہ لینے کی استطاعت کھو دیتا ہے۔  ایک نشہ بازکا ذہن قرب و جوار کے ماحول کو الگ نگاہ سے دیکھتا ہے۔  وہ بس نشے کو اپنا ساتھی مانتا ہے اور یہ لت اس کے جسمانی اور ذہنی اعضا پر اثرپژیرہوتی ہے اور اس کے رویہ میں تغیر رونما ہونے لگتا ہے۔  اس کے جسم کے اعضا دھیرے دھیرے خراب ہونے لگتے ہیں۔  اس طرح جسم کئی بیماریوں اور وباکا شکار ہونے لگتا ہے۔

کئی سڑک حادثے، جرم جیسے کہ عصمت دری، جوڑی اور لڑائی جھگڑے نشے کی حالت میں  ہوتے ہیں۔  جرم کی دنیا کی کئی منزلیں ہیں اور اکثر و بیشتر ان کو نشے کی تجارت اور منشیات سے جوڑا جاتا ہے۔  نشے کے کاروبار کے خلاف لڑنے سے اور نشے باز کا خیال رکھنے سے ملک کی معیشت پر اثر براہ راست اثرہوتا ہے۔  دراصل  نشہ کسی ملک کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔  نوجوان جو اپنے ملک کو آگے لے جاسکتے تھے، نشہ کی زد میں آکر برباد  ہوجاتے ہیں۔

منشیات کو روکنا ہر ایک کی ذمے داری ہے۔  اس کی روک تھام میں والدین، خاندان اور معاشرہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔  نوجوان کو اس کے بارے میں متنبہ ہونا چاہئے تاکہ وہ اس جال میں نہ پھنس جائیں۔  ان میں اتنی ہمت ہونی چاہئے کہ جو بھی انہیں نشیلی چیز دیں وہ منع کرسکیں اگرچہ وہ ان کا کوئی قریبی کیوں نہ ہو۔ ان کے قوتِ ارادی کو مضبوط ہونا چاہئے تاکہ وہ اس کا شکار نہ بن جائیں۔

اس ضمن میں سرکار کی کئی قوانین عائد کئے ہیں۔ عام  جگہوں میں سگریٹ پینا منع ہے۔  نوجوانوں کو شراب بیچنا یا دینا منع ہے۔ اسکولوں اور کھلم کھلا شراب کا استعمال کرنا منع ہے۔  منشیات لینے اور اس کی تجارت قانوناً جرم ہے اور اس کے لئے کڑی سزا ہے۔