الیکشن کمیشن کے 2 نئے اراکین کی تعیناتی کا معاملہ پارلیمنٹ بھیجنے کا حکم
- سوموار 14 / اکتوبر / 2019
- 4560
اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے 2 نئے اراکین کی تعیناتی کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے معاملہ پارلیمنٹ بھیجنے کا حکم دے دیا۔
الیکشن کمیشن کے 2 نئے اراکین کی تعیناتی کے خلاف درخواستوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ ڈیڈلاک ختم کروائیں اور الیکشن کمیشن کو ’نان فنکشنل‘ بننے سے روکیں۔
دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی تقرریوں سے متعلق درخواستیں سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں بھی دائر ہوئی ہیں۔ جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ’یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے، کیا آپ الیکشن کمیشن کو غیر فعال کرنا چاہتے ہیں؟ الیکشن کمیشن تقریباً غیر فعال ہوچکا ہے، کیا پارلیمنٹ اتنا چھوٹا معاملہ حل نہیں کرسکتی؟‘
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینیٹ کو یہ معاملہ مشاورت سے حل کرنا چاہیے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت ابھی تک ڈیڈ لاک کا دفاع کرنا چاہتی ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے وفاقی حکومت سے ہدایات لینے کی اجازت دی جائے۔
سماعت سے قبل وزارت برائے پارلیمانی امور کے سیکریٹری نے وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کروایا تھا اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست کے فیصلے تک ہائی کورٹ میں اس معاملے کو زیر التوا رکھا جائے۔
واضح رہے کہ 22 اگست کو صدر مملکت نے خالد محمود صدیقی اور منیر احمد کاکڑ کو بالترتیب سندھ اور بلوچستان میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کا رکن مقرر کیا تھا۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے صدر عارف علوی کی جانب سے تقرر کردہ الیکشن کمیشن اراکین سے حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا تھا کہ ان 2 اراکین کی تعیناتی کو آئین میں اراکین کی تقرری آئین کے آرٹیکل 213 اور 214 کی خلاف ورزی ہے۔ بعدازاں سینئر وکیل جہانگیر خان جدون نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کے دو اراکین کی تعیناتی کو چیلنج کیا تھا۔
الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان کے اراکین عبدالغفار سومرو اور جسٹس (ر) شکیل بلوچ رواں سال جنوری میں ریٹائر ہو گئے تھے اور قانون کے تحت ان عہدوں کو 45 دنوں میں پُر کرنا ہوتا ہے۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے درمیان اختلاف کے باعث ان عہدوں پر تقرر میں تاخیر ہوئی۔