پاکستان کی معاشی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے: ورلڈ بینک
- سوموار 14 / اکتوبر / 2019
- 4960
عالمی بینک نے کہا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں پاکستان کی معاشی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے موجودہ معاشی عدم استحکام کی بنیادی وجہ بلند تجارتی خسارہ اور زرمبادلہ کے کم ذخائر ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ قلیل مدت میں ملک کی اقتصادی ترقی کی رفتار سست روی کا شکار رہے گی۔ جب کہ درمیانی مدت کے لیے ملکی ترقی کا انحصار ان ضروری اصلاحات پر ہے جس کے ذریعے پائیدار ترقی اور مسابقت کی فضا پیدا کی جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششیں معاشی سلجھاؤ کے دوران محدود رہنے کی توقع ہے۔
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ جون 2019 تک پاکستان کا تجارتی خسارہ کم ہو کر 13.5 ارب ڈالرز پر آگیا تھا جو ملکی آمدنی کا تقریبا 4.3 فی صد ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں تجارتی خسارہ تقریباً 6 ارب ڈالرز تک کم ہوا ہے۔ خسارے میں کمی کی بنیادی وجہ درآمدات میں 14.9 فی صد کمی بتائی جارہی ہے۔ دوسری جانب برآمدات میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہؤا۔
رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ تجارتی خسارہ مالی سال 2020 کے دوران قومی اقتصادی پیداوار کے لحاظ سے 2.2 فی صد مزید کم ہو جائے گا جو 2021 میں 2.6 فی صد تک کم ہو سکتا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق اس کمی کی وجہ شرح تبادلہ میں لچک کی وجہ سے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں تھوڑا سا اضافہ بتائی جا رہی ہے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کی جانب سے لکویڈیٹی ملنے کے باعث مالی آمدنی میں اضافہ دیکھا گیا۔ البتہ سال 2019 کے دوران خراب مالی کارکردگی کی اہم وجہ ریونیو کلیکشن میں کمی اور سود کی بلند شرح کی ادائیگیوں کو قرار دیا گیا ہے۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کے ریونیو کلیکشن میں 6.3 فی صد کمی دیکھی گئی ہے۔ ان بنیادوں پر ملک کا مجموعی مالی خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا تقریبا 8.8 فی صد بنتا ہے۔ یہ خسارہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 2.4 فی صد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں ٹیکس ریونیو جمود کا شکار رہا ہے جب کہ نان ٹیکس ریونیو میں بھی تقریبا 44 فی صد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر مرکزی بینک کے منافع میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کے باعث حکومت کو کم پیسے منتقل ہوئے۔