حکومت عدالت عظمیٰ کو دباؤ میں لانا چاہتی ہے: منیر اے ملک

  • سوموار 14 / اکتوبر / 2019
  • 5130

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت کے دوران جج کے وکیل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز کے خلاف کیس کا بنیادی مقصد اعلیٰ عدلیہ پر دباؤ ڈالنا ہے۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر دائر صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ منیر اے ملک نے عدالت کوبتایا کہ کسی معزز جج کے خلاف تعصب یا ذاتی عناد کا الزام نہیں لگایا۔ اس معاملے میں بنیادی مقصد اعلیٰ عدلیہ کے ججز پر دباؤ ڈالنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے 2004 میں لندن کا پہلا فلیٹ خریادا تھا۔ اس فلیٹ کو خریدنے کے 5 سال بعد جسٹس عیسیٰ جج بنے تھے۔ 2013 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بچوں نے دوسرا اور تیسرا فلیٹ لیا۔  اس وقت ان کے موکل چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تھے۔ منیر اے ملک نے بتایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ براہ راست یا بالواسطہ فلیٹس کے مالک نہیں۔ وہ بینیفشل مالک بھی نہیں ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل پر بے ایمانی یا کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور صدر پاکستان دونوں آئینی عہدے رکھتے ہیں۔ توقع ہے کہ فریقین آئینی عہدوں کے تقدس کا خیال رکھیں گے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کردار کشی کی مہم جاری ہے۔ لائرز ایکشن کمیٹی اور اثاثہ جات ریکوری یونٹ بھی ریفرنس پر بات کرتے ہیں جبکہ صدر مملکت اور معاون خصوصی برائے اطلاعات نے بھی اس صدارتی ریفرنس پر بات کی۔ منیر اے ملک نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مستقبل میں چیف جسٹس بننا ہے۔ ان کے موکل کو اب اپنے دفاع کا موقع ملا ہے۔

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ 2009 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آمدن 3 کروڑ 60 لاکھ روپے تھی۔ جج بنے تو سالانہ تنخواہ ماہانہ آمدن کے برابر آگئی۔ ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ درخواست گزار پر کبھی کرپشن کے الزامات نہیں لگے۔

سماعت کے دوران منیر اے ملک نے کہا کہ میں عدالت کو اس معاملے کے پس منظر میں لے جانا چاہتا ہوں اور میں اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دوں گا جبکہ آرٹیکل 248 کی شق پر بھی دلائل دوں گا، میرے دلائل ریفرنس کی قانونی حیثیت سے متعلق ہیں کہ کیوں ریفرنس خارج ہونا چاہئے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دھرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی تھی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دھرنا کیس سے متعلق فیصلہ دیا، جس میں پی ٹی آئی، شیخ رشید احمد اور دیگر کا ذکر کیا گیا جبکہ پرویز مشرف کے دور میں کراچی میں وکلا کے قتل کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔ تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے میں خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کو بھی آشکار کیا گیا جبکہ اصغر خان کیس میں خفیہ ایجنسیوں کی سیاسی مداخلت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

منیر اے ملک کے دلائل پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ فیض آباد دھرنا فیصلے کے کتنے عرصے بعد ریفرنس دائر ہوا، اس پر منیر اے ملک نے بتایا کہ 10 اپریل 2019 کو وحید ڈوگر کی شکایت موصول ہوئی جبکہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ 6 فروری 2019 کو سنایا گیا تھا۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کیا عدالتی فیصلے کی بنیاد پر ریفرنس دائر ہوسکتا ہے؟ جس پر منیر اے ملک نے کہا کہ وزیر قانون جانتے ہیں کہ جج کو اس انداز میں نہیں ہٹایا جاسکتا۔

ساتھ ہی منیر اے ملک نے فیصلے پر نظرثانی درخواستوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی نظرثانی درخواست وزارت دفاع کی درخواست سے زیادہ سخت ہے، جس پر جسٹس منیر اختر نے کہا کہ ان درخواستوں کا حوالہ نہ دیں جو واپس لی جا چکی ہیں۔ اس پر منیر اے ملک نے کہا کہ بنیادی طور پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مائنڈ سیٹ ظاہر کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایم کیو ایم کی جانب سے دائر درخواست واپس نہیں لی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی درخواستوں میں ایک جیسے سوالات اٹھائے گئے۔ اس پر جسٹس منیر اختر نے کہا کہ حیرت ہے ایم کیو ایم کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراض نہیں لگایا۔ ساتھ ہی بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ کسی کے دماغ کو نہیں پڑھ سکتے۔  نظر ثانی درخواستوں پر متعلقہ عدالت فیصلہ کرے گی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا نظر ثانی درخواست میں جج کے خلاف کارروائی کا کہا گیا تھا، اس پر منیر اے ملک نے کہا کہ 7 ماہ سے نظرثانی درخواست پر سماعت نہیں ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر قانون کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہے جبکہ پی ٹی آئی کے سربراہ وزیراعظم عمران خان ہیں۔

اسی دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ممکن ہے درخواست گزار چاہتے ہوں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس نہ سنیں، دونوں درخواستیں ایک ہی فونٹ میں لکهی گئیں، ساتھ ہی جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے دونوں جماعتوں کے وکلا نے ڈرافٹ کا تبادلہ کیا ہے، دونوں جماعتوں نے کمپیوٹر بهی ایک ہی استعمال کیا ہے۔ کیس کی سماعت کل صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

قبل ازیں سپریم جوڈیشل کونسل کے جواب پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اعتراضات عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ کونسل کی جانب سے اٹارنی جنرل کا جواب جمع کرانا درست نہیں۔ اٹارنی جنرل صرف وفاقی حکومت کو قانونی معاملات میں مشورے دینے کا پابند ہے نہ کہ وہ نجی پریکٹس کرے۔

انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ سپریم کورٹ، سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے دائرہ اختیار سے باہر جانے پر ان کے خلاف متعلقہ اداروں کو کاروائی کا حکم دے چکی ہے، لہٰذا کونسل کو اختیار حاصل نہیں تھا کہ اٹارنی جنرل کو جواب جمع کرانے کی ذمہ داری دیتی، کونسل کی جانب سے اٹارنی جنرل کو اپنا وکیل تفویض کرنا آئین کی شق 100 کی خلاف ورزی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اعتراض کیا کہ اٹارنی جنرل فار پاکستان انور منصور خان وفاقی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں، لہٰذا انہیں کسی ایسی کارروائی میں ملوث نہیں ہونا چاہیے تھا جس کے لیے وفاقی حکومت نے انہیں مختص نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ درخواست میں لگائے گئے الزامات پر کونسل اور سیکریٹری کی جانب سے مناسب جواب نہ آنے کی صورت میں الزامات کو تسلیم شدہ تصور کیا جائے۔