سیاسی پتلی تماشہ

ریت، مٹی اور سیمنٹ میں ایک خاصیت تو مشترکہ ہے کہ تینوں پانی سے مل کر، سانچے میں ڈھل کر کوئی بھی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جیسے کہ ہمارے سیاستدان۔

انسانی کردار بھی ایسے ہی خمیر سے بنے ہوتے ہیں۔ ریت کے گھروندے ہمیشہ سے ہی کمزور ہوتے ہیں اور اسی لیے سمندر کی لہروں سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ جن عناصر سے بنے یہ کردار ہوتے ہیں وہی خاصیت سامنے آتی ہے۔۔۔۔ریت کے جیسے کمزور جو بس ایک لہر کے آنے تک ہی قائم رہتے ہیں۔ مٹی کا البتہ الگ روپ ہے۔ جو گرمی سردی سہہ جاتی ہے اور اگر بارش طوفان میں ڈھے جائے تو پھر سے گوندھ کر دوبارہ کھڑا کرلو۔ ایسے کردار کے لوگوں میں لچک بہت ہوتی ہے۔ بہہ گئے تو پھر سے پانی میں گھل کر نئے سانچے میں ڈھل گئے۔۔۔۔ ہر بار نئے روپ میں آجاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی ہمارے سیاستداں بھی ہوتے ہیں۔

انسان مٹی کے گھر بناکر کبھی اس میں رہتا بھی تھامگر اس کی ناپختگی کو کم حیثیت جان کر انسان نے سیمنٹ ایجاد کرلیا۔ ایک بار پانی میں گھول کر دیوار بنا لو جب تک گیلا ہے جیسے چاہو ڈھال لو۔ ہیرے جواہر جڑدو، نقاشی کرکے خوبصورت بنالو۔ مگر جب خشک ہوکر اپنی حیثیت بنالے تو پھر قطعی غیر لچکدار۔ ہرطرح کی ہوا، بارش اور طوفان سے لاپرواہ، اپنی شکل میں قائم۔ ٹوٹ جائے مگر اپنا کردار نہ بدلے ۔پختہ اور پائیدار۔ مگرسیمنٹ کی طرح کا پختہ کردار انسان نہ بنا سکا۔گو ہمارے معاشرے میں خصوصاً اور دنیا میں عموماً ایسے کردار ناپید ہوتے جارہے ہیں مگر اب بھی ایک آدھ کردار کے سخت جان انسان آپ کو مل جائیں گے۔

سب سے مشکل شیشے کی مانند نازک کردار کے لوگ ہوتے ہیں اور جلد ٹوٹ جاتے ہیں۔ میرے خیال سے ان تمام خام مال میں سے سیاستداں مٹی کے بنے ہوتے ہیں۔ جب ہی طوفان سے ڈھے کر بھی دوبارہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اگرچہ کہ ان سیاست کے بتوں کا مجسمہ ساز تو کوئی اور ہی ہے۔ اور خاصا مکار بھی ہے۔ کبھی کسی پتلے میں پانی زیادہ ملاکر اسے کمزور کر دیتا ہے تو کبھی کسی ڈھیر میں اتنا کم پانی ڈالتا ہے کہ پتلا بننے سے قبل ہی ٹوٹ جاتا ہے۔

سیاست کی مٹی سے پتلے ٹوٹے بنتے رہتے ہیں۔ مٹتے ابھرتے رہتے ہیں۔ مگر کچھ گھاگ قسم کے سیاسی پتلے آگ کی تپش سے سخت جان ہوجاتے ہیں۔ اور انہیں مجسمہ ساز دوبارہ سے گھول کر نئے قالب میں نہیں ڈھال سکتا۔ نتیجتاً وہ انہیں توڑ ڈالتا ہے۔

ادھر سیاسی پتلوں کی ایک لمبی قطار میں مجسمہ ساز نے ایک بالکل نیا اور مختلف پتلا پیش کیا۔ مگر لگتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مجسمہ ساز کی بینائی کمزور ہوتی جارہی ہے اور ہاتھوں میں رعشہ پڑتا جارہا ہے۔ چونکہ نئے پتلے پرانے کے مقابلے میں کمزور تر ہوتے جارہے ہیں۔ اور ہلکے سے طوفان میں ہی ان کے ڈھے جانے کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا نے انسان مٹی اور جنات کو آگ سے بنایا ہے۔ سیاست کے پتلے بنانے والا مجسمہ ساز ضرور جناتی ہی ہوگا۔ اس کے آگ جیسے تیور اور لپک میں تیزی دیکھ کر ایسا ہی اندازہ ہوتا ہے۔ آگ کی یہ خاصیت ہے کہ وہ آندھی میں مزید بھڑکتی ہے اور جلا کر سب کچھ بھسم کردیتی ہے۔ اب اگر سیمنٹ کی مانند مضبوط کردار کا کوئی سیاسی پتلا غیب سے نہ آیا تو پتلی تماشہ کہیں ختم ہی نہ ہوجائے۔ خدا نہ کرے۔ بندہ تو اسی کے درپے ہے۔