بیرون ملک ثالثی اور اندرونی انتشار

ہماری ریاست اور حکمرانوں نے جن ترجیحات کا تعین کیا ہے اس کے نتیجہ میں افرا تفری، انتشار اور معاشی بد حالی بڑھتی  دیکھائی دیتی ہے۔ سماجی، سیاسی اور معاشی منظر نامے پر مایوسی اور قنوطیت آ گئی ہے۔ پارلیمنٹ اور دیگر ادارے اپنے اصل کردار کے بارے میں غیر متعلق ہو چکے ہیں۔ چہرے بے سکون اور نگاہیں سوال کرتی ہیں۔

 ہم نے کیا اندرونی مسائل پر قابو پا لیا ہے کہ اب ہم بیرون ملک ثالثی کا کردار نبھانے جا رہے ہیں جس کے بارے میں عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تناؤ کی کیفیات ختم کرنے کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ثالثی کے بارے میں کسی نے نہیں کہا بلکہ وہ اپنے تئیں کرنا چاہتے ہیں۔  کسی بھی پاپولسٹ لیڈر کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی شخصیت کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی جس کیلئے وہ مقامی میڈیا اینکرز، تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کی مدد سے اپنے تشخص کو ابھارنا چاہتا ہے۔ ویسے بھی جو لیڈر داخلی وسائل کو حل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو وہ بین الاقوامی میڈیا کی خبروں میں آکر اپنی حیثیت کو نمایاں اور اپنی ناکامیوں کو چھپانا چاہتا ہے۔ ہم ہر روز میڈیا اور اخبارات میں روایتی بیانات تجزیے اور باتیں سن کر اکتا چکے ہیں، حکومت کے حامی دانشوروں کے بقول اپنے کرپشن کے مقدمات کے منطقی انجام اور سزا سے بچنے کیلئے حکومت کے خلاف تحریک چلانا چاہتی ہے جس سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

 دوسرے دھرنوں اور احتجاجی تحریکوں سے ملک معاشی عدم استحکام سے دو چار ہو سکتا ہے، ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کیلئے میں نے پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ سے رابطہ کیا۔ جو روایتی سیاستدانوں سے الگ ایک منفرد نظریاتی اور دانشور اور سماجی علتوں کا ماہرہونے کی وجہ سے مسائل کے حل کے بارے میں سائینٹیفک اپروچ رکھتے ہیں اور اپنی بات کو دلیل تاریخی حقائق کے تناظر میں بیان کرتے ہیں۔ وہ جذباتیت کی بجائے منطق سے بات کو آگے بڑھاتے ہیں جس کا تعلق زمینی حقائق سے ہوتا ہے۔ وہ محض ہوائی باتیں کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ ان کے تجزیے ہمیشہ متوازن اور ترقی پسند شعور اور فہم و فراست سے لیس ہوتے ہیں۔

قمر زمان کائرہ، مولانا فضل الرحمان کی کی احتجاجی تحریک اور دھرنے کے بارے  میں کہتے ہیں کہ مولانا نے 2018کے انتخابات کے بعد فوراً کہہ دیا تھا کہ اسمبلیوں میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے لہذا حلف نہ اٹھایا جائے۔ اس وقت مولانا کا یہ کہنا کسی بیک ڈور سازش کی وجہ نہیں تھا تا ہم اپوزیشن نے انہیں رضا مند کیا کہ وہ اسمبلیوں میں حلف اٹھائیں اور جمہوری عمل میں شریک ہوں۔ دوسری طرف اپوزیشن نے بھی عمران خان سے یہ توقع کی کہ وہ انتخابات میں کیے ہوئے اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرے گا۔ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے میثاق معیشت کی پیش کش کی جبکہ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر تحریک انصاف ملک کو اقتصادی بحران سے نکالاتی اور غریبوں کو ریلیف فراہم کرتی ہے تو ہم اس کا ساتھ دیں گے۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔عمران خان نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر تنہا ہی ملکی مسائل کو حل کرنے کا عندیہ دیا اور کبھی بھی اہم معاملات میں پارلیمنٹ کی رائے لینے کی خواہش کا اظہار نہ کیا۔

اس کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور اداروں کی ہلا شیری اور دھمکیوں سے تجارت اور صنعت بیٹھ گئی ہے۔ مالیاتی پالیسیوں کو آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق چلانے سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کی قوت خرید 2007کی نسبت نصف رہ گئی ہے۔ملک میں دودھ اور گلاب کے عرق سے دھلی حکومت کے باوجود کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے ایک سال میں تاریخ کے سب سے زیادہ قرضے لیے ہیں جبکہ دو ارب ڈالر کے قرضے واپس کیے ہیں۔ تمام ادارے  پرفارم نہیں کر رہے ہیں۔ کوئی ترقیاتی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا گیا جس کو حکومت اپنی بہتر کارکردگی کے بطور پیش کر سکے۔

میاں نواز شریف کے عہد میں قرضے لیے اور واپس بھی کیے گئے۔ شاہرات اور بجلی کے منصوبے تعمیر کیے گئے۔ تجارتی خساروں میں بجلی گھروں اور سی پیک میں استعمال ہونے والی مشینری درآمد کرنے کی وجہ سے اضافہ ہوا۔ بہر صورت ملک کے مالی معاملات بہتر طریقے سے چلائے جاتے رہے گو اس میں غریب طبقات کیلئے فلاح و بہبود کا کوئی کام یا قانون سازی نہیں کی گئی تھی۔صدر آصف زرداری کے عہد میں ملازمین کی تنخواہوں میں 150%اضافہ کیا گیا۔ تیل کی قیمتیں 150ڈالر فی بیرل ہونے کے باوجود ان کی قیمتوں کوعوام تک منتقل نہ کیا گیا اور نہ ہی گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ صدر آصف زرداری اور میاں نواز شریف کے دور حکومت میں مہنگائی کنٹرول میں رہی مگر آج کونسی افتاد آن پڑی ہے کہ تمام شعبہ جات  ناکام ہوگئے۔ حکومت ملک کی 70%غریب آبادی کو صاف پانی صحت اور تعلیم کی سہولتیں مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ سابق حکومت کے جاری پروجیکٹس میں بھی کٹ لگا دیا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا دھرنا اور اجتماع حکومتی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ ان کے مطالبات کی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اخلاقی حمایت کرتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی دھرنوں کا حصہ نہیں بنے گی کیونکہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ 1988سے آج آزادی مارچ تک لوگ جمہوریت  سبوتاژ کرنے کیلئے جمہوریت کے نام پر باہر نکلتے رہے ہیں۔ وہ اس کے پیچھے سازشوں کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ ان کہانیوں کے پلاٹ کون لکھواتا ہے۔ بھٹو کے خلاف نظام مصطفی کے نام پر سازشی پلان پروان چڑھایا گیا۔کبھی امریکہ زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگائے گئے۔جہاد افغانستان کے نام پر دو نسلوں کو جنگی کیفیات میں دھکیل دیا گیا کبھی مجاہدین اسلام کو تخریب کار قرار دیا گیا۔کبھی ایم آر ڈی اور آے آر ڈی کی تحریک چلیں۔بے نظیر کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد مکمل طور پر زندگی کے کینویس سے غائب کر دیا گیا۔کبھی میاں صاحب نے اقتدار اور معزول ججوں کی بحالی کیلئے مارچ کیا۔یہ تمام اقدامات عوام کے مفادات میں کہاں تھے۔  عوام ان لیڈروں کی سب حسرتیں کاوشیں اور داستانیں اپنی جگہ ہم نے اپنے سیاسی قرینوں اور انداز فکر کو ڈیجیٹل عہد کے تقاضوں سے ہم کنار نہیں کر سکے۔ آج بھی وہیں وارداتیں اور پرانے سیاسی ہتھکنڈے ہیں کہ کسی طریقے سے اقتدار کو حاصل کیا جائے۔

 عوام کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کدھر جائیں اور ان کے مسائل کون حل کرے گا۔فضل الرحمان کے دھرنے کی وجہ سے آج ریاستی اداروں اور حکومتی پارٹی کے ایوانوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔یہ احتجاج مولانا فضل الرحمان کا اپنا جماعتی فیصلہ ہے مگر ان کے مطالبات کچھ غلط نہیں ہیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ دھرنوں نے ہمیشہ مفاد عامہ کی سیاست کو نقصان پہنچایا ہے۔ شنید ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنی تحریک کا آغاز بالائی سندھ سے کررہے ہیں جہاں پر انہیں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی حمایت حاصل ہوگی۔میڈیا کو آزادی مارچ کی کوریج کرنے سے روکا جا رہا ہے مگر ان تمام اقدامات سے جہاں پر عوام کے مسائل حل ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے  تو ان کے اور سیاسی جماعتوں کے محض لائحہ عمل ہی رہ جاتا ہے۔ یاد رہے ملک میں منتخب ادارے موجود ہیں جن سے قانون سازی کا کام لیا جا سکتا ہے مگر عمران خان تمام انتظامی امور آرڈیننسوں کے ذریعے چلا رہے ہیں۔ وہ اس ملک کے منتخب سربراہ تو ہیں مگر وہ ملک کے سیاہ  و سفید کے مالک نہیں ہیں اور نہی ہی خلیفہ ہیں کیونکہ ان معاملات کی ذمہ داری کسی اور ادارے نے اٹھا رکھی ہے۔ وہ امریکہ گئے پینٹا گون میں مذاکرات کس نے کیے، وہ پانچ سو لوگوں کو جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں مگر انہیں کس نے روکا ہے۔ بے بسی نے پوری پاکستانی سیاست، معیشت اور سماجیت کو یر غمال بنا رکھا ہے۔ اختیارات ہیں مگر ان کا استعمال ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ بیورو کریسی انتظامی اختیارات استعمال کرنے سے گریزاں ہے۔ تاجر اور صنعت کاروں نے سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ عدالتیں پر جوش انقلابی تبصرے کرتی ہیں مگر فیصلے انقلابی نہیں ہوتے۔ جس کے کام کرنے کی ذمہ داری ہے وہ سر انجام نہیں دے رہابلکہ اس کی جگہ نادیدہ قوتیں اپنی ہدایات جاری کر رہی ہیں۔ حفیظ شیخ اور اس کی ٹیم معیشت کی بہتری کے بارے میں خوشخبریاں دیتی رہتی ہے مگر تاجر اپنے مسائل کے حل کیلئے مقتدارہ قوتوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ شیخ عبدالرزاق داؤد اپنے ادارے تو باخوبی چلا رہے ہیں مگر صنعت کاری کیلئے ساز گار فزا قائم نہیں کر سکے۔ ڈاکٹر عشرت حسین جو پاکستانی میں سرمایہ داری نظام کے نمائیندے ہیں،  ان کی موجودگی کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو رہا۔ہمارے کالم نگاروں، دانشوروں اور ماہر معاشیات کی طرف سے معیشت کی بحال کے بارے میں کونسی ٹھوس تجاویزسامنے آئی ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ ہر طرف نظریاتی سیاسی اور فکری انتشار ہے۔

پاکستان میں چلنے والی تحریکوں میں سب سے بڑی عوامی تحریک 1969اور1968میں چلائی گئی جس  کے پیچھے کوئی سازش موجود نہیں تھی۔ اس تحریک کے نتیجہ میں جہاں ایوبی آمریت کا خاتمہ ہوا تو وہاں پر پیپلز پارٹی کے انقلابی منشور سے غریب طبقات کو سماجی معاشی اور آئینی حقوق حاصل ہوئے۔ اس کی وجہ  پیپلز پارٹی کی نظریاتی قیادت کی عملیت پسندی تھی جس نے ووٹرز کے ساتھ اپنے وعدے پورے کرنے کی کوشش کی۔

اس دوران یہ خبر آئی ہے کہ  ایتھوپیا کے صدر ابی احمد کو امن کا نوبل پرائز دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ایتھوپیا عرصہ دراز سے بد ترین امن عامہ اور خارجی طور پر علاقائی تناضات کا شکار تھا۔ ابی احمد نے بہت سی اصلاحات کا آغاز کیا۔  پہلے سو دنوں میں ہنگامی حالات کو ختم کیا۔ ہزاروں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا، زرائع ابلاغ سے پابندی ہٹائی،حزب مخالف کی غیر قانونی جماعتوں کو قانونی قرار دیا۔ ابی احمد کے اقدامات میں پاکستان کیلئے سوچنے کیلئے بہت کچھ ہے۔ حکومت  پاکستانی اپوزیشن کے ساتھ مل کر معاملات کو طے کر سکتی ہے۔   امن اور ترقی اندرونی صلح جوئی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ملک کے مقتدرہ طبقات، تھینک ٹینک اور دانش قدوں کو اس ضمن میں سوچنا چاہیے۔