صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تحقیقات میں تیزی کا امکان
- منگل 15 / اکتوبر / 2019
- 4330
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کوششیں زور پکڑ رہی ہیں۔ یہ سب کچھ ایسے موقع پر ہورہا ہے جب دو ہفتے کی تعطیلات کے بعد کانگریس کا اجلاس منگل سے دوبارہ شروع ہوگا۔
کانگریس کے کچھ ارکان ان تعطیلات کے دوران دارالحکومت واشنگٹن میں موجود رہے اور ایوان نمائندگان کی تین کمیٹیوں نے صدر کے مبینہ مواخذے سے متعلق اپنی تحقیقات جاری رکھیں۔ اس دوران انہوں نے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سمیت مختلف اداروں کے اہل کاروں کو شہادتوں کے لیے سمن جاری کئے۔
ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان کانگریس صدر ٹرمپ کی گزشتہ جولائی میں یوکرائن کے نئے صدر ولادی میر زیلینسکی سے فون پر ہونے والی بات چیت کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں جس میں مبینہ طور پر صدر ٹرمپ نے یوکرین کے ہم منصب سے سابق نائب صدر جو بائیدن اور اُن کے بیٹے کے خلاف کاروباری بے ضابطگیوں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
جو بائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی کے کلیدی صدارتی امیدواروں میں سے ایک ہیں۔ جو بائیڈن یا اُن کے بیٹے کے خلاف امریکہ میں یا یوکرائن میں کسی کاروباری بے ضابطگیوں کے بارے میں اب تک کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا صدر ٹرمپ نے یوکرائن کے صدر سے بات کرتے ہوئے آئندہ صدارتی انتخاب میں اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے کردار پر بقول اس کے کیچڑ اچھالنے کے لیے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے یا نہیں۔
منگل کے روز امریکی کانگریس کا اجلاس دوبارہ شروع ہونے کے بعد تحقیقات میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ ہاؤس کی کمیٹیوں کو ثبوت حاصل کرنے کے لیے تیزی سے کام کرنا ہوگا تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کیا صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک لائی جائے یا نہیں۔
مواخذے کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز ایک مخبر کی طرف سے صدر ٹرمپ کی یوکرائنی صدر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی خفیہ معلومات سامنے لانے سے ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ان تحقیقات کے لیے کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کریں گے۔ تاہم ان کی انتظامیہ کے کچھ ارکان تحقیقات میں حصہ لے رہے ہیں۔
تحقیقات کے سلسلے میں ہاؤس کی انٹیلی جینس، نگرانی، اصلاحات اور امور خارجہ کی کمیٹیوں نے امریکی محکمہ خارجہ کے متعدد اہل کاروں کو بلا کر ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔ اس کے علاوہ ان کمیٹیوں نے یوکرائن میں سابق امریکی سفیروں کرٹ وولکر اور میری یووانووچ سے بھی سوال جواب کیے ہیں۔
ہاؤس انٹیلی جینس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف کا کہنا ہے کہ وسل بلوئر کی شناخت کو خفیہ رکھنے کی خاطر اسے کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کیلئے نہیں بلایا جائے گا۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ اور یوکرائن کے صدر کی فون پر بات چیت کا ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا تھا اور ایڈم شیف کا کہنا تھا کہ اس کی موجودگی میں وسل بلوئر سے بات کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔