ملک بھر میں ڈینگی کیسز کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کرگئی
- منگل 15 / اکتوبر / 2019
- 4580
ملک میں ڈینگی کے کیسز نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اب تک اس وائرس سے کم از کم 47 افراد جاں بحق جبکہ 30 ہزار افراد سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔
2011 میں اس مرض سے 370 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ملک بھر میں اب تک ڈینگی کے 30 ہزار 98 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے، جن میں سب سے زیادہ 8 ہزار 245 کیسز وفاقی دارالحکومت میں سامنے آئے۔ پنجاب میں 6 ہزار 629، خیبرپختونخوا میں 5 ہزار 229، سندھ میں 5 ہزار 190 کیسز سامنے آئے جبکہ بقیہ تعداد کا تعلق قبائلی اضلاع اور آزاد جموں کشمیر سے ہے۔
اسلام آباد میں اب تک 17 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ سندھ میں ڈینگی سے 16، پنجاب میں 10، بلوچستان میں 3 اور آزاد کشمیر میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔
قومی ادارہ برائے صحت میں سرویلینس ڈویژن کے سربراہ ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ ڈینگی کیسز کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے نگرانی اور بہتر دیکھ بھال میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈینگی پھیلاؤ کے باعث ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ادارہ برائے صحت میں ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کا آغاز کیا گیا جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا روزانہ ساڑھے 8 بجے ڈینگی کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس کی سربراہی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر صفدر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے اعداد و شمار دیگر ممالک کے مقابلے بہتر ہیں لیکن ہمارا کام آسان نہیں، ہم ڈینگی کو شکست دینے کے لیے آئندہ برسوں میں ایک کثیر النوع نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیں گے'۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق عالمی سطح پر ڈینگی صحت عامہ کو لاحق سب سے مہلک خطرات میں سے ایک ہے۔
ڈینگی وائرس ایڈیس ایگیپٹی نامی مچھر کے ذریعے پھیلتا ہے جس کی علامات تیز بخار اور جسم میں شدید در ہونا ہے۔ بیماری کا کوئی خصوصی علاج نہیں ہے البتہ بیماری کی شروع میں ہی تشخیص اور بہتر علاج کے باعث اموات کی شرح کم کی جاسکتی ہے ورنہ یہ بیماری زندگی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔
نکاسی آب کے نظام کا فقدان اور موسمیاتی تبدیلیاں ڈینگی میں اضافے کا سبب ہیں۔