ترکی نے شام میں جنگ بندی کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا
- بدھ 16 / اکتوبر / 2019
- 4760
ترکی نے شام کے شمالی علاقوں میں فوجی کارروائی روکنے کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں اور روس نواز شامی فورسز کی ترک سرحد کے قریب گشت کا اُنہیں کوئی خوف نہیں ہے۔
منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ "وہ ہم پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ہم آپریشن روک دیں اور پابندیوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ تاہم ہم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے واضح ہیں۔" ہمیں کسی بھی طرح کی پابندی کا کوئی خوف نہیں ہے۔
ترک صدر کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکی نائب صدر مائیک پینس اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو بدھ کو ترکی کا دورہ کر رہے ہیں۔ ترک صدر سے ان کی جمعرات کو انقرہ میں ملاقات متوقع ہے۔ دوسری جانب روس کے صدارتی دفتر سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ولادی میر پیوتن اور ترک ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس کے دوران انہوں نے شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور اُنہیں دورہ روس کی دعوت بھی دی ہے۔
صدر ٹرمپ کے شام سے امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد ترکی نے رواں ماہ کے آغاز پر شام کے شمالی علاقوں میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔ ترکی کا مؤقف ہے کہ کردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا مقصد کرد افواج کو سرحدی علاقے سے نکال کر وہاں 32 کلو میٹر کا ایک سیف زون بنانا ہے جہاں شام سے آنے والے 20 لاکھ مہاجرین کو آباد کیا جائے گا۔