مارشل لا لگا تو احتجاج کا رخ اس کی جانب ہوجائے گا: مولانا فضل الرحمان

  • جمعرات 17 / اکتوبر / 2019
  • 5090

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں لیکن ان ہاؤس تبدیلی ہمارا درد سر نہیں ہے۔ کیونکہ ہم نے دوسرا آپشن رکھا ہی نہیں ہے۔

اسلام آباد میں نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر میر حاصل بزنجو سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نیشنل پارٹی کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ میر حاصل بزنجو نے اس موقع پر کہا کہ کہا کہ یہ کہنا کہ اپوزیشن جماعتیں مولانا صاحب کے ساتھ نہیں ہیں، اپوزیشن کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔

سینیٹر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ ہمارا موقف ہے کہ موجودہ حکومت جعلی ہے، وقت اور حالات نے ثابت کر دیا ہے۔ یہ منتخب حکومت نہیں ہے اور کوئٹہ سے قاسم سوری کا الیکشن اس کا ثبوت ہے۔ ہمیں مولانا کا ساتھ دینا ہوگا اور ہماری پارٹی مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ کھڑی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کے حوالے سے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔  پی ٹی آئی جعلی مینڈیٹ پر حکومت میں آئی۔ ہمارے وزیراعظم کو بیرون ملک بھی وزیراعظم والا پروٹوکول نہیں ملتا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستانیوں کی جانب سے پوری دنیا کو پیغام دیتا ہوں کہ عمران خان سے بطور وزیراعظم مذاکرات نہ کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کو مقبوضہ جموں و کشمیر سے اظہار یک جہتی کریں گے اور مارچ شروع ہو جائے گا اور 31 اکتوبر کو ملک بھر سے قافلے اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔  ہمارے ساتھ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ضلعی عہدیداروں اور کارکنوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور دھمکیاں دی جارہی ہیں ان سے براہ راست رابطہ کرکے ترغیب دی جارہی ہے کہ مارچ میں شامل نہ ہوں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمارے کارکنوں سے براہ راست رابطے بند کئے جائیں کیونکہ رابطے مرکزی سطح پر ہوتے ہیں اور ہم جماعت کے اندرونی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔

دھرنے کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہماری رائے ہے کہ مسلسل بیٹھا جائے لیکن چند جماعتیں جلسے کی بات کر رہی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنی بساط کے مطابق ساتھ دینے کی بات کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے کارکنوں کو متحرک رکھیں گے لیکن ان کو بٹھا کر تھکائیں گے نہیں بلکہ کہیں اور جائیں گے اور حکمرانوں کو تھکادیں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر حکمرانوں نےگرفتاریاں کیں تو مزید جذبہ پیدا ہوگا اور گرفتاریوں سے تحریکیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ اس سے جوش اور جذبے میں اضافہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی بات کرچکے ہیں اور ہمارا ایک ہی آپشن ہے۔ دوسرا آپشن چھوڑا ہی نہیں ہے لہٰذا اس طرح کے سوالات ان سے پوچھیں جن کے ذہن میں ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں وزیراعظم کے کسی پیغام کا انتظار ہے اور نہ کوئی پیغام ملا ہے۔

ایک سوال پر مولانا نے کہا کہ حکومتی ادارے زیادہ دباؤ میں ہیں۔ پابندیاں اور قدغنیں خوف ور بوکھلاہٹ کی علامت ہیں، مخالف فریق کی پریس کانفرنس کو قوم کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ پیمرا کے فیصلے آمریت اور آمرانہ دور ہی کی علامت ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کی آزادی کے لیے آپ کو اٹھنا ہو گا اور آزادی مارچ کا حصہ بننا پڑے گا۔ آپ کو قربانیاں دینا ہوں گی اور جب تک آپ خود احتجاج نہیں کریں گے اس وقت تک صحافت کی آزادی ایک خواب ہی رہے گا اور تعبیر نہیں ملے گی۔

وائس آف امریکہ کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملک میں جمہوریت بچانے کے لیے نکلے ہیں۔ 'آزادی مارچ' کے نتیجے میں مارشل لا لگا تو احتجاج کا رُخ اس کی جانب ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریاستی اداروں کے ساتھ براہ راست تصادم نہیں چاہتے۔ حکومت استعفیٰ دے اور نئے شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ اسلام آباد پہنچ کر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے  'وائس آف امریکہ' کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی۔  مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ماضی میں ایسے حالات پیدا کیے جاتے تھے کہ فوجی جرنیل مارشل لا لگا کر نجات دہندہ بن جاتا تھا لیکن موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی اپنی مسلط کردہ ہے۔ وہی اس کے ذمے دار ہیں۔  انہوں نے کہا "ہم ریاستی اداروں سے براہ راست تصادم نہیں چاہتے لیکن شکوہ ضرور ہے۔ انتخابی عمل میں ان کی غلط مداخلت سے وجود میں آئی ناجائز حکومت ہمارا ہدف ہے۔"

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمارے پُرامن رہنے کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ ہم نے لاکھوں لوگوں کے مارچ کیے۔ کبھی کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس بار کچھ ہوا تو حکومت کے اداروں کی جانب سے ہو سکتا ہے۔ ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کریں گے۔

اسلام آباد پہنچنے کے بعد کیا دھرنا بھی ہوگا؟ اس سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے کبھی دھرنے کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ 27 اکتوبر کو پورے ملک میں کشمیریوں کے ساتھ یوم سیاہ مناتے ہوئے یکجہتی کا اعلان کیا ہے جس کے بعد قافلے روانہ ہو جائیں گے اور 31 اکتوبر کو ہم اسلام آباد میں داخل ہو جائیں گے۔ عوام جب جمع ہو جائیں گے تو پھر اگلے اقدام کا فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر آ گئی ہیں اور سب آزادی مارچ کی حمایت کر رہی ہیں۔ ملک کی تمام سیاسی، سماجی اور پیشہ ورانہ تنظیمیں بھی ان کے ساتھ احتجاج ریکارڈ کرائیں گی۔ پوری قوم اس میں شریک ہونے کے لیے آمادہ ہے کیونکہ یہ مارچ  ایک نااہل حکومت کے خلاف امید کی کرن ہے۔