ہندوستان کا پاکستان کے خلاف آبی جنگ کا اعلان
- تحریر اطہر مسعود وانی
- جمعرات 17 / اکتوبر / 2019
- 8180
ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف اب پانی پر سرجیکل سٹرائیک کی جائے گی۔ ہریانہ میں انتخابی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ہندوستان کے حصے کا جو پانی ندیوں کے ذریعے سرحد پار جا رہا ہے، اسے روک کر ہریانہ کے گھروں اور کسانوں کے کھیتوں تک پہنچایا جائے گا۔
مودی نے کہا کہ گزشتہ 70سال سے ہندوستان کے حق کا پانی پاکستان جاتا رہا،اس پانی پر ہریانہ،پنجاب اور راجھستان کا حق ہے اور اس سلسلے میں کام شروع ہو چکا ہے۔ قبل ازیں اسی سال مارچ میں ہندوستان کے آبی وسائل کے وزیر مملکت ارجن میگھوال نے اعلان کیا تھا کہ نئی دہلی نے پاکستان میں داخل ہونے والے تین مشرقی دریاؤں سے 0.53 ملین ایکڑ فٹ پانی رو کتے ہوئے ذخیرہ کرلیا ہے اور جب بھی راجستھان یا پنجاب کو ضرورت ہو گی اس کا استعمال کیا جائے گا۔ اسے پینے یا آبپاشی کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ہندوستانی وزیر اعظم کے اس اعلان کو محض انتخابی نعرہ قرار دیتے ہوئے نظر انداز کیا جا سکتا تھا کیونکہ مودی کے عالمی سطح پہ طے شدہ متنازعہ ریاست کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے ہندوستان میں مدغم کرنے کے اقدام سے واضح ہوا ہے کہ انتہا پسند ہندو گروپوں کی نمائندہ بی جے پی کے نریندر مودی وزارت عظمی کی دوسری مدت میں معاملات کو انتہا پسندانہ طور پر جابرانہ انداز میں پورا کرنے کی پالیسی پہ عمل پیرا ہیں۔
جنرل(ر) پرویزمشرف کے دور حکومت میں ایک اعلی سطحی اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان ایسے تمام امکانات کو ختم کرنے پر کا م کر رہا ہے جس سے ہندوستان کے ساتھ جنگ کی نوبت آ سکے۔ تاہم اس حوالے سے ایک معاملہ ایسا ہے جسے ختم کرنا بہت مشکل ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہندوستان پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کے منصوبے پر کا م کر رہا ہے۔اس صورتحال میں اگر ہندوستان ضرورت کے وقت پانی روک دیتا ہے تو پاکستان کے پاس جنگ کے علاوہ اور کوئی آپشن باقی نہیں رہے گا۔
ہندوستانی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی حالیہ تشویشناک اور خطرناک صورتحال میں پاکستان انتظامیہ کی طرف سے دفاعی،بلکہ معذرت خواہانہ پالیسی سے اس حقیقت کا اعادہ ہو اہے کہ 1960 میں ہندوستان کے ساتھ نقصان دہ شرائط پہ مبنی سندھ طاس معاہدہ کرتے ہوئے نا صرف پاکستان کی زرعی طاقت کا توڑ ہندوستان کے ہاتھ میں دے دیا گیا بلکہ ورلڈ بنک کی میزبانی میں طے پائے اس سمجھوتے کے ذریعے پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو کشمیر کے آبی وسائل کے معاملے سے علیحدہ کرتے ہوئے ان پر بالواسطہ ہندوستان کے قبضے کو تسلیم کر لیا تھا۔
معروف صحافی طلعت حسین ایک گروپ کے ساتھ جموں اور سرینگر کے دورے کے بعد اسلام آباد میں اپنے تاثرات بیان کر رہے تھے۔طلعت حسین نے سرینگر میں میسر ایک رات کے کئی گھنٹے پرانے شہر میں مختلف کشمیری گھروں میں بات چیت کرتے گزارے۔اس تقریب میں طلعت حسین سے سوالات بھی کئے گئے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والی کسی این جی ا و کی ایک خاتون نے کہا کہ پنجاب اور سرحد(اس وقت کے پی کے کا نام سرحد تھا) میں کشمیر کے موضوع پر دلچسپی ہو سکتی ہے لیکن سندھ میں نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ کا مسئلہ پانی ہے۔اپنے کمنٹ اور سوال میں عرض کیا کہ سندھ خود کو کشمیر کے مسئلے سے لاتعلق سمجھ رہا ہے اور پانی کو ہی اپنا مسئلہ سمجھتا ہے۔ اگر انڈیا مقبوضہ کشمیر میں دریاؤں پر اپنا کنٹرول مؤثر کرتا ہے تو اس سے پاکستان آنے والے دریاؤں کے پانی میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔ اور اس صورت میں سندھ یہ کہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اپنا مسئلہ بھی قرار دے سکتا ہے کہ کشمیر میں پانی روکے جانے سے، سب سے زیادہ سندھ ہی متاثر ہو گا۔
اب سوال یہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے افغانستان و دیگر حوالوں سے دی گئی ذمہ داریوں، یمن جنگ، ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی جیسے بڑے بڑے اہداف میں مشغول رہتے ہوئے پاکستان انتظامیہ ہندوستان کی طرف سے دریاؤں کا پانی روکے جانے کے اقدامات کا مذمتی بیانات اورسفارتی کوششوں کے علاوہ کس ردعمل کی توقع کی جا سکتی ہے؟