ترکی نے شام میں فوجی کارروائی معطل کردی، صدر ٹرمپ کا اظہار اطمینان
- جمعہ 18 / اکتوبر / 2019
- 5120
ترکی نے شمالی شام میں جنگ بندی پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ وہ اس علاقے میں کرد جنگجوؤں سے نبرد آزما ہے۔ اور کردوں کو نکال کر فری زون بنانا چاہتا ہے۔
ترکی نے جنگ روکنے کا معاہدہ امریکی نائب صدر مائیک پینس اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان انقرہ میں ایک ملاقات میں ہوا۔ امریکی نائب صدر مائیک پینس کے مطابق معاہدے کے تحت پانچ دن کے لیے جنگ بندی ہوگی اور امریکہ کرد جنگجوؤں کو وہاں سے نکلنے میں مدد فراہم کرے گا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کرد جنگجوؤں کی تنظیم وائی پی جی اس معاہدے کو پورا کرے گی یا نہیں۔
کرد جنگجوؤں کے رہنما کمانڈر مظلوم کوبانی نے کہا ہے کہ کرد مسلح گروپ سرحد کے نزدیک موجود قصبے راس العین اور تال ابیاد کے درمیان علاقے کی حد تک اس معاہدے کی پابندی کریں گے۔ دیگر علاقوں کے بارے میں ابھی تک بات نہیں کی گئی ہے۔ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام اور ترکی کی سرحد کے پاس موجود امریکی فوجوں کے انخلا کا اعلان کیا جس کے بعد گزشتہ ہفتے ترکی نے سرحد پارفوج بھیج دی تھی۔
اس پیش قدمی کا مقصد سرحد پار کرد مسلح گروہ پیپلز پروٹیکشن یونٹ یعنی وائی پی جے کو پیچھے دھکیلنا تھا جسے ترکی کی قیادت وائی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا ایک حصہ تصور کرتی ہے جو ترکی میں گزشتہ تین دہائیوں سے کردستان کی خودمختاری کے لیے مسلح جدوجہد کر رہی ہے۔
ترکی کو شامی علاقے میں موجود بیس لاکھ شامی پناہ گزینوں کو بسانا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ کو امریکی فوج کے انخلا پر بعد شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے کرد اور عرب ملیشیاؤں پر مشتمل شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) کے نام سے قائم اتحاد کو اکیلا چھوڑ دیا۔
بدھ کو امریکی صدر نے کہا کہ کرد 'فرشتے نہیں ہیں۔ یہ ہماری سرحد نہیں ہے۔ ہم اپنی جانیں اس پر قربان نہیں کریں گے۔' مائیک پینس کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کے باضابطہ اعلان سے قبل ہی صدر ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا 'لاکھوں جانیں بچ جائیں گی‘۔
نائب صدر پینس نے بھی صدر ٹرمپ کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ جنگ بندی چاہتے تھے۔ وہ تشدد کو ختم کرنا چاہتے تھے۔' ترک صدر اردوان اور نائب صدر پینس کی ملاقات سے ایک روز قبل امریکی صدر کی جانب سے اپنے ترک ہم منصب کے نام لکھا گیا ایک خط منظر عام پر آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا 'زیادہ سخت بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ بےوقوفی مت کرو۔'
جنگ بندی کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ نے صدر اردوان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ ایک بہترین رہنما ہیں جنہوں نے درست فیصلہ کیا۔' ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو نے صحافیوں کو بتایا کہ ترک فوج کی پیش قدمی مستقل طور پر صرف اس وقت ختم ہوگی جب ایس ڈی ایف مکمل طور پر سرحدی علاقہ خالی کر دے۔ 'ہم اپنے آپریشن کو محض معطل کر رہے ہیں۔ ہم اسے صرف اس وقت ختم کریں گے جب ترک مسلح گروپ پورا علاقہ خالی کر دیں۔'
ترکی کے فیصلے پر امریکہ کا کہنا ہے وہ ترکی پر لگائی گئی اقتصادی پابندیاں بھی ختم کر دے گا البتہ ڈیموکریٹک پارٹی کے دو اہم رہنما، نینسی پلوسی اور چک شومر نے اس پر تنقید کی ہے۔