کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے ڈائریکٹر کو پاکستان میں داخلے سے روک دیا گیا

  • جمعہ 18 / اکتوبر / 2019
  • 4990

پاکستان کے امیگریشن حکام نے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے ) کے ایشیا پروگرام کے کوآرڈنیٹر اسٹیون بٹلر کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا۔ بعد میں انہیں ملک بدر کردیا گیا۔

سی پی جے کے مطابق حکام نے انہیں روکنے کی وجہ یہ بتائی کا ان کا نام ’اسٹاپ لسٹ یا روکے جانے کی فہرست' میں شامل ہے۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ گزشتہ (بدھ) کی شب پاکستانی امیگریشن حکام نے وزارت داخلہ کی تیار کردہ بلیک لسٹ کو بنیاد بناتے ہوئے سی پی جے ایشیا پروگرام کوآرڈنیٹر اسٹیون بٹلر کو ملک میں داخل ہونے سے روکا۔

بیان میں اسٹیون بٹلر کے حوالے سے بتایا گیا کہ لاہور ایئر پورٹ پر ایک افسر نے انہیں کہا کہ ان کا صحافتی ویزا درست ہے لیکن 'اس کے باوجود انہیں اس لیے روکا گیا کہ کیونکہ ان کا نام وزارت داخلہ کی روکنے والی فہرست میں درج ہے۔ سی پی جے کے مطابق اسٹیون بٹلر کا پاسپورٹ ایئرپورٹ حکام نے ’ضبط‘ کرلیا اور انہیں دوحہ جانے والی پرواز میں جانے پر مجبور کیا گیا اور جب وہ دوحہ پہنچے تو حکام نے انہیں واشنگٹن کی پرواز میں سوار کروادیا۔

اسٹیون بٹلر نے سی پی جے کو مزید بتایا کہ جب وہ پرواز میں تھے تو جہاز کے عملے نے ان سے ان کا پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس لے لیا تھا اور وہ ’ایک طرح کی حراست‘ میں تھے۔

اس صورتحال پر سی پی جے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جوئیل سائمن نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے اسٹیون بٹلر کو ملک میں داخل ہونے سے روکنا حیران کن ہے۔ پاکستانی حکام کو اسٹیون بٹلر کو داخلے کی اجازت نہ دینے کے حوالے سے مکمل وضاحت دینی چاہیے بلکہ اپنی غلطی کو بھی درست کرنا چاہیے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر حکومت آزادی صحافت کے حوالے سے اپنے وعدوں پر عملدرآمد کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تو اسے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کروانی چاہیے۔

دوسری جانب روڈ میپ فار ہیومن رائٹس ان پاکستان نامی تنظیم کے بیان میں بتایا گیا کہ اسٹیون بٹلر عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور آئے تھے۔ اس سے قبل ستمبر میں سی پی جے نے ملک میں ’میڈیا کورٹس کے قیام‘ کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

گزشتہ برس اس ادارے نے پاکستان کے مختلف شہروں سے صحافیوں کے بیانات ریکارڈ کرکے خصوصی رپورٹ جاری کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ملک میں مجموعی طور پر صحافیوں کے خلاف تشدد اور قتل کے واقعات میں کمی کے باوجود صحافتی آزادی تنزلی کا شکار ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسٹیون بٹلر کو ملک بدر کیے جانے پر خطرات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی جانی چاہیے۔ اس فیصلہ کو مایوس کن قرار دی اگیا ہے۔

ایچ آر سی پی کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت پاکستان کا سافٹ امیج قائم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے دوسری جانب وہ ایک بین الاقوامی شہرت کے حامل صحافی کو ویزا ہونے کے باوجود داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس اقدام پر تنقید کی اور کہا کہ سی پی جی عہدیدار کو ملک بدر کرنا خطرے کی علامت ہے کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے مسلسل زد پر ہے۔