پاکستان فروری تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رہے گا

  • جمعہ 18 / اکتوبر / 2019
  • 4810

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو آئندہ برس فروری تک 'گرے لسٹ' میں رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کا اہم اجلاس جمعے کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہوا جس میں پاکستان کے وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے کی۔  اجلاس کے بعد ایف اے ٹی ایف کے حکام نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بدستور 'گرے لسٹ' میں رہے گا اور اسے 'بلیک لسٹ' میں شامل ہونے سے بچنے کے لیے فروری 2020 تک کا وقت دیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے اعلامیے کے مطابق منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے پاکستان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ​انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی مدد کو روکنے کے لیے پاکستان نے مزید کوششں کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے دہشت گردوں کی مالی مدد کی روک تھام کے لیے پاکستان کی محدود کامیابی پر گہری تشویش کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ اب بھی دیگر اہداف حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے 27 میں سے پانچ ایکشن پلان پر کام کیا ہے جب کہ ایکشن پلان کے دیگر نکات پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان نے فروری 2020 تک اپنے ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد نہ کیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ بھارت پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے سے بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے لیے سرگرم تھا۔ جب کہ پاکستان کی کوشش تھی کہ اس کا نام وائٹ لسٹ میں شامل ہو جائے۔ ایف اے ٹی ایف کی 'گرے لسٹ' میں ایسے ملکوں کو شامل کیا جاتا ہے جہاں سے پیسے کی غیر قانونی ترسیل یا دہشت گردوں کی مالی معاونت ہوتی ہے۔ ایسے ملکوں کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔

پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے سرمایے کے استعمال کی روک تھام سے متعلق 27 نکات پر مشتمل رپورٹ پیش کی تھی۔

چھ روز سے جاری اجلاس کے دوران حکومتِ پاکستان کی ایمنسٹی اسکیم پر بھی ایف اے ٹی ایف کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اثاثے ظاہر کرنے کے عوض ٹیکس میں چھوٹ دینے کے لیے رواں سال ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی تھی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اس اسکیم کا مقصد بے نامی اثاثے رکھنے والوں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے۔

ماہرین کا یہ خیال ہے کہ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں ایسے ٹھوس اقدامات کیے ہیں جو اس وقت بھی نہیں کیے گئے تھے جب پاکستان وائٹ لسٹ میں تھا۔