سماجی تحفظ اور ریاستی ذمہ داری
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 18 / اکتوبر / 2019
- 6880
کسی بھی معاشرے میں ایک ذمہ دارریاست اور حکومت کا تصور بنیادی طور پر شہریوں کے مفادات، تحفظ، ترقی، خوشحالی اور منصفانہ نظام کی بنیاد پرکھڑا ہوتا ہے۔ ریاست اور شہریوں کے باہمی تعلق کی بنیاد بھی 1973کے دستور میں دیے گئے بنیادی حقوق کے باب میں موجود ہے۔
ریاست شہریوں سے وعدہ کرتی ہے کہ وہ ان کے حقوق کو یقینی بنائے گی او راس کے بدلے میں شہری ریاست،حکومت کو یہ ضمانت دیتا ہے کہ وہ ان کے دستور، قانون کے تابع رہے گا او رایسے کسی عمل سے خود کو دور رکھے گا جو ریاستی مفاد کے برعکس ہو۔بنیادی طور پر یہ ہی تعلق ریاست اور شہری کے کردار کو وضع کرتا ہے اور ریاست کا تصور منصفانہ اور شفاف ہوتا ہے۔
پاکستان کا سماجی مقدمہ شہریوں او ربالخصوص کمزور طبقات کے تناظر میں بہت کمزور ہے۔اگر ہم اپنے ریاستی سماجی، سیاسی، معاشی اور بنیادی مسائل سے جڑے اعداد وشمار کو دیکھیں تو اس میں واضح تفریق کے پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔ بالخصوص کمزور طبقات جن میں بچے، بچیاں نمایاں ہیں ان کی سماجی حالت بہت کمزور ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارا نام ان ریاستوں میں آتا ہے جو سماجی تناظر او رتحفظ میں غیر ذمہ دارانہ ریاست کے طور پر نمایاں ہوتی ہیں۔
حال ہی میں ایشائی ترقیاتی بنک کی سماجی تحفظ سے جڑے اعداد وشمار پر مبنی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان سماجی تحفظ فراہم کرنے والے ایشائی ممالک میں سب سے پیچھے ہے۔اس رپورٹ کے بقول مشرقی ایشیا میں سماجی تحفظ کی شرح 75.1فیصد رہی جن میں انڈونیشیا، منگولیا،فلپائن اور ویتنام شامل ہیں، جبکہ جنوب مشرقی ایشیا میں سماجی تحفظ کی شرح38.5فیصد رہی جن میں ملائشیا، میانماراور کمبوڈیا شامل ہیں۔سنٹرل اور ویسٹ ایشیا میں سماجی تحفظ کی شرح16فیصد سامنے آئی ہے جس میں کرغستان 32.2فیصد،آزربیجان میں 19.2فیصداو رپاکستان میں 3.2فیصد آبادی کو سماجی تحفظ حاصل ہے۔
سنگا پور اپنے شہریوں کے لیے سماجی تحفظ کی غرض سے اپنی کم آمدن آبادی پر فی کس سالانہ 53ہزارڈالر، جاپان 32,487ڈالر،جنوبی کوریا 27,221ڈالر،ملائشیا9,490ڈالراور چین 7,922ہزار ڈالرخرچ کررہا ہے۔۔ایشیا کے جن چار ممالک میں سماجی تحفظ کے لیے سب سے کم رقم مختص کی گئی ہے ان میں پاکستان،میانمار، ویتنام اور لاوریپبلک شامل ہیں جو اپنی کم آمدن کے سبب اپنی مجموعی قومی پیدوار کا 1.7فیصد تک خرچ کرتے ہیں۔۔مہنگائی میں اضافہ او رکرنسی کی شرچ تبادلہ میں نقصانات کے سبب پاکستان سمیت کم آمدن رکھنے والے ممالک میں سماجی تحفظ کی شرح 10فیصد کمی ہوئی ہے۔سال2009-15کہ دوران پاکستان میں سماجی تحفظ کی کوریج میں 13فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح اسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان، منگولیا،بھوٹان، فلپائن، سری لنکا، تھائی لینڈ میں عورتوں کے لیے سماجی تحفظ کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔
پاکستان میں عمران خان کی حکومت سب سے زیادہ سماجی تحفظ اور انسانی ترقی بات کرتی ہے۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک برس کی تحریک انصاف کی حکومت میں انسانی ترقی پر باتیں تو بہت کی جاتی رہی ہیں لیکن عملی طور پر ان کے اقدامات میں بہت زیادہ گہرائی نظر نہیں آتی۔ سماجی تحفظ سے مراد بنیادی انسانی حقوق ہیں او ران کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی سطح پر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ بنیادی طور پر چار اقدامات پر توجہ دینی ہوگی۔ اول ہمیں اپنی سیاسی، سماجی اور معاشی ترجیحات میں عام آدمی یا کمزور طبقات کو اپنی بڑی ترجیحات کا حصہ بنانا ہوگا۔ دوئم ہمیں اپنے سیاسی، انتظامی اور مالی وسائل کو زیادہ سے زیادہ انسانی بنیادو ں پر خرچ کرنا ہوگا۔ اسی طرح وسائل کی تقسیم منصفانہ اور شفاف بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ سوئم ہمیں ملک میں موثر حکمرانی کے لیے نگرانی او رجوابدہی کے نظام کو شفاف بنانا ہوگا اور پر سطح پر لوگوں یا اداروں کو انسانی ترقی کے تناظر میں جوابدہ بنانا ہوگا۔چہارم جو سماجی ترقی کے حوالے سے ہم نے عالمی سطح پر مختلف معاہدے کیے ہیں ان کو اپنی قومی اور صوبائی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا او ر یہ عمل اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم عالمی سطح پر بھی کمزور طبقات کے حوالے سے جوابدہ ہیں اوراسی بنیاد پر عالمی دنیا کے جڑے انسانی ترقی کے ادارے ہماری ریٹنگ کرتے ہیں۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کا سماجی بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ ملک میں ایک بڑی سیاسی،سماجی او رمعاشی تفریق کے طور پر سامنے آیا ہے۔ لوگوں کا ریاستی ادارو ں پر اعتماد کم ہورہا ہے او ران کو لگتا ہے کہ ریاست او رحکمران طبقات کے سامنے ہماری حیثیت وہ نہیں جو آئین ہمیں دیتا ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ ہم محض کمز ور طبقات کی مالی یا کسی او رسطح پر مدد کرکے ان کو یہ احساس دیں کہ ہم ان کی کفالت کو یقینی بنارہے ہیں۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے نظام کو تشکیل دیں جہاں کمزور طبقات کی سماجی او ر معاشی حیثیت تبدیل ہواور وہ خود آگے بڑھ کر کسی کے محتاج ہونے کی بجائے اپنی زندگیوں کو تبدیل کرسکیں۔ سماجی تحفظ کا عمل اس صورت میں یقینی ہوتا ہے کہ جب ملک میں ادارے فعال ہوں اور وہاں عام لوگوں کی نہ صرف رسائی ہوبلکہ وہاں سے ان کے بنیادی نوعیت کے مسائل حل ہورہے ہوں۔ہمارا مسئلہ ادارہ جاتی سطح پر بدحالی کا ہے او راس کو تبدیل کیے بغیر سماجی تحفظ کا عمل ممکن نہیں ہوگا۔
جب ریاست او رحکومت کا نظام طبقاتی بنیادوں پر چلایا جائے گا اور چھوٹے، بڑے، طاقت ور، کمزور، امیرو غریب یا مرد اور عورت کو بنیاد بنا کر تفریق کی سیاست کی جائے گی تو اس کا نتیجہ قومی سطح پر سماجی شعبہ میں ایک بڑے انتشار کا سبب بنتا ہے۔خاص طور پر دیہی یا چھوٹی سطح پر موجود علاقوں میں لوگوں کی حالت بہت زیادہ بدحال ہے اور شہری علاقوں میں عام آدمی کے ساتھ استحصال کی سیاست نمایاں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں چاہے وہ اقتدار میں ہوں یا حزب اختلاف میں ان کے پاس سماجی شعبہ میں بڑی اصلاحات کا کوئی پروگرام نہیں ہے او ربظاہر ایسا لگتا ہے کہ سماجی شعبہ سیاسی جماعتوں کی ترجیحات میں بھی شامل نہیں۔جب سیاست طاقت کے گرد گھومتی ہے تو اس کا ایک بڑا نتیجہ طاقت ور گروہوں کے درمیان آپس کی مقابلہ بازی ہوتی ہے او راس میں عام آدمی بہت پیچھے چلاجاتا ہے جو اس کو اس طاقت کے کھیل او رذیادہ کمزور کردیتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمیں سماجی شعبہ کے حوالے سے کہاں سے کام کا آغاز کرنا چاہیے۔ بچے، بچیاں او رکمزور طبقات کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہمیں کیا کچھ نیا کرنا ہوگا۔ ابتدائی طور پر ہمیں اپنے پورے حکمرانی کے نظام کو چیلنج کرنا ہوگا او راس میں سیاست کے ساتھ ساتھ سماجی شعبہ کو طاقت دینے کی بحث کو آگے بڑھانا ہوگا۔ یہ بحث طاقت ور طبقات پر ایک بڑے دباو کی سیاست کو پیدا کرسکتی ہے او ریہ ہی عمل ہمارے سماجی شعبہ میں بہتری بھی پیدا کرسکتا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، انصاف او ربنیادی حقوق ایسے معاملات ہیں جس پر ہماری حکمرانی کے نظام کو توجہ دینی ہوگی۔سماجی شعبہ کی بہتری کے لیے ہم نے 2000-15ملینیم ترقی اہداف مقرر کیے تھے لیکن اپنی نااہلی اور کمزوری کے باعث ہم وہ اہداف حاصل نہیں کرسکے۔ اب پھر ہم نے 2016-30پائدار ترقی اہدا ف کو متعین کیا ہوا ہے لیکن حکومتی سطح پر اس کوجانچنے کے اقدامات بھی کمزور ہیں۔
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ سیاست میں مثبت تبدیلی کا عمل سماجی شعبہ میں ترقی کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔اگر سیاست او رحکمرانی کا نظام سماجی سطح پر کوئی مثبت نتائج نہیں دے سکے گا تو سیاست او رجمہوریت کی کوئی بھی اچھی ساکھ قائم نہیں ہوسکے گی۔ اگر ہم نے واقعی ترقی کرنی ہے خاص طو رپر ایسی ترقی کو بغیر کسی تفریق کے ہو تو ہمیں اپنا موجودہ نظام حکومت میں بہت کچھ تبدیل کرنا ہے۔ لیکن یہ تبدیلی کا عمل محض حکمرانوں کی بنیاد پر درست نہیں ہوگا بلکہ اس میں سماج کے تمام اہم فریقین کو اپنی اپنی سطح پر بڑے دباو کی سیاست کو قائم کرنا ہوگا۔ مسئلہ محض قانون سازی یا پالیسی سازی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑا مسئلہ عملی اقدامات کا ہے۔ ہم قانون سازی یا پالیسی سازی پر بہت توجہ دیتے ہیں مگر عملدآمد کے نظام میں بہت کمزور ہیں۔موجودہ سماجی شعبہ کو بنیاد بنا کر ہم کسی بھی طو رپر ترقی کے عمل میں شریک نہیں ہوسکتے، اس کے لیے روائتی طور طریقوں کے مقابلے میں کچھ نیا پن دکھانا ہوگاجو منصفانہ بھی ہو اورشفاف بھی۔