بہتری آ گئی، بہتری ابھی دور ہے!

  • تحریر
  • جمعہ 18 / اکتوبر / 2019
  • 4680

پچھلے چند مہینوں سے  معیشت کے بارے میں  بیشترلوگوں  کو  فکر مندی کی باتیں کرتا  پایا۔  اپوزیشن اور بیشتر ماہرین معیشت بتاتے نہیں تھکتے  کہ معیشت کے فلاں فلاں اشاریے دگرگوں حالت میں ہیں، اس لئے معیشت  کی صحت پتلی ہے اور وقت ِدوا  اور دعا  ہے۔

مشیرِ خزانہ کی سنیں تو  لگتا ہے  کہ حالات  ان کے کنٹرول میں ہیں،  تجارتی خسارہ ایک تہائی کم ہو چکا،  زرِ مبادلہ میں زیادہ نہ سہی  جمع تفریق کے بعد  جو بھی ہے پہلے کی نسبت کچھ زیادہ  ہی ہے۔  دنیا کے بہت سے مالیاتی ادارے ہمیں ادھار دینے کو تیار بیٹھے ہیں، سو ڈر کاہے کا؟   عین دو دن بعد مگر  ورلڈ بنک نے جنوبی ایشیا کے بارے میں جو تٖفصیلی رپورٹ جاری کی اس کے مطابق تو معیشت  پر کھانسی کا شدید حملہ ہوا ہے۔ اگلے سال یہ کھانسی اپنا رنگ مزید دکھائے گی،  کہیں  دو سال بعد یہ کھانسی  خشک ہو گی اور معیشت کی  صحت  کچھ ڈھنگ  کی ہوگی یعنی 2022 تک۔

ہمارے ایک دیرینہ کرم فرما  عبدل ورلڈ بنک کی اس بھاری بھر کم اور تفصیلی رپورٹ کو قطعاٌ غیر ضروری سمجھتے ہیں۔  ان کے بقول معیشت کی  صحت جانچنے  کے  طریقے  بہت  سادہ اور آسان سے ہیں ہے۔  شہر میں دہاڑی  دار  مزدوروں کے اڈوں پر اگر دوپہر کے بعد  بھی ان کا جمگٹھا ہے تو سمجھ لیجئے کہ معیشت کو  زکام ہے،  اس کی ناک  بہہ رہی ہے اور اس کی  سانس بے ترتیب ہے۔  شہر بھر کی بڑی شاہراہوں پر لگے بڑے بڑے سائن بورڈز پر اشتہارات کی بجائے  انہیں کرائے پر اٹھانے والوں کے  موبائل اور To Let  کے سندیسے درج ہیں  تو بھی سمجھ لیجئے کہ منڈی میں مندی ہی مندی ہے، اسی لئے تو کوئی  کمپنی اشتہار دینا بھی  افورڈ نہیں کر سکتی۔  اور اگر بازاروں  میں دوکانوں پر  دن بھر میں صرف بازار کی کمیٹی کے حساب کا رجسٹر  لئے ایک  ہی صاحب سب دوکانوں پر اکیلے وزیٹر ہوں تو بھی سمجھ لیجئے کہ کاروبار کو  خشک سالی  کا سامنا ہے۔ 

عبدل کی بات بھی ٹھیک ہے لیکن کیا کریں، ہم  بات کو تولنے کی بجائے بولنے والے  کی حیثیت  کے وزن  کے مطابق بات قبول کرنے کے عادی ہیں۔ اب ورلڈ بنک کے عالم فاضل  ماہرین نے اعدادوشمار کے انبار میں سے  بسیار محنت یہ دریافت کیا ہے کہ امسال معیشت  نے بڑی مشکل سے تین فی صد  سے کچھ  زائد نمو  پائی۔ سال  2020  میں یہ شرح نمو بمشکل 2.4%   ہو گی۔ ہاں  البتہ 2022  میں شرح نمو پھر سے بہتر   ہو  جائے  گی بشرطیکہ کہ اصلاحات  کو پاؤں پسارنے کا موقع دیا گیا تو! اور یہ بھی کہ اس دوران دنیا کو   بھی معیشت  کی خیریت مطلوب  ہو!

 اصلاحات  کی اس  رادھا  نے بھی کیا قسمت پائی ہے ،  کب سے نو من تیل کے انتظار میں خود بھی بوڑھی ہو گئی اور ہم بھی  سٹھیانے کی عمر کو پہنچ چکے؟  جہاں تک حافظہ ساتھ دیتا ہے  ملک اور اس کی معیشت کو نازک دور  اور  دوراہے پر ہی دیکھا۔  اس کے  ساتھ  ساتھ ہر آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ یہی سنا کہ ریفارمز پروگرام یعنی اصلاحات  پر عمل کرنا اب ٹھہر گیا ہے۔ صبح کیا یا شام کیا لیکن پھر وہی ہوتا ہے جو  منظورِ   خداوندانِ ارض  ہوتا ہے۔ ایک بار پھر اب ورلڈ  بنک نے  دو  تین سال بعد جن اچھے دنوں  کا آسرا دیا ہے اس میں بھی اصلاحات  کا بھاری پتھر اٹھانے کی شرط عائد کر دی ہے۔ عبدل کا خیال ہے کہ  اب کے بار بھی  رادھا  ناچنے کے انتظار  کی سولی پر ہی  سوکھ جائے گی کہ اس بار کچھ نہ کچھ تیل تو ضرور اکٹھا ہو جائے  گا مگر نو من تو پھر بھی نہیں ہو سکے  گا!

مشیرِ خزانہ  کی بات کا بھی اعتبار ہے کہ انہوں نے اعدادوشمار کی جمع تفریق سے ثابت کیا کہ تجارتی خسارہ  اب مکمل کنٹرول میں ہے۔ معیشت اب  اپنے پاؤں کی مٹی سنبھال رہی  ہے یعنی Stabilize  ہو رہی ہے۔  اس کے  بعد اب معیشت  پاؤں پاؤں چلنا شروع کر دے گی۔  سرمایہ کاری ہو گی، برآمدات بھی بڑھیں گی، مہنگائی  کو لگام ڈالی جائے گی،  اور  ٹیکس محصولات میں بھی ٹارگٹ   رینج میں  ہی سمجھیں۔ اسی بات کو جب اسٹیٹ بنک کے  گورنر اور چئیرمین ایف بی آر بھی  شدّ و مد سے دوہرائیں تو سچی بات ہے ہم ایسوں کو  اعتبار آ جاتا ہے لیکن اس کا کیا کریں کہ ورلڈ بنک  مصر ہے کہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں اور اس امتحان میں  پاس ہونے کے لئے اصلاحات کے پرچے میں کامیابی  ناگزیر ہے۔

یہ اصلاحات کون کون سی ہے؟  یوں تو فہرست لمبی ہے لیکن چند ایک  کچھ یوں ہیں،  معیشت اور گورننس کی معمولی سوجھ رکھنے والوں کی بھی  معلوم ہے کہ حکومت کا سائز بہت پھیل گیا ہے۔ سرکاری و خودمختار اداروں میں سیاسی بنیادوں پر  ملازمتیں پیدا کرنے اور بانٹنے کی طویل روایت نے  حکومت کے خزانے کے پیروں میں  غیر پیداواری اخراجات کا  بھاری پتھر باندھ رکھا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کا سائز کم کرنے کی بات اور عمل سیاسی بیل کو آ  مجھے مار کی دعوت دینے کے مترادف ہے، سو کل کسی نے یہ جرات کی نہ کوئی آج یہ حماقت کرے گا۔

گزشتہ تین چار دِہائیوں سے وفاقی اور صوبائی سطح پر ترقیاتی بجٹ کی  بندر بانٹ اور اسکیموں کی   تقسیم سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ اس عمل میں خرد برد، کرپشن  اور وسائل کے اسراف کا  حجم کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی گیا ہے۔  انتخابات میں پیسے کی ریل پیل کے کلچر نے  ترقیاتی  اسکیموں کو وفاقی اور صوبائی سطح   پر  منتخب نمائندوں  کی پسندیدہ ترین  ایکٹیوٹی بنا دیا ہے۔ اسمبلی کا ہال تقریباٌ خالی ملے گا لیکن اجلاس کے دنوں میں حکومتی سیکریٹریٹ   کے متعلقہ محکموں میں  ممبران کی حاضری  پوری ہوتی ہے۔

پبلک سیکٹر اداروں کا سالانہ نقصان سینکڑوں ارب روپے کا ہے۔ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے سیاستدانوں سے یہی سنتے آئے کہ ان کے اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے کی دیر ہے،  وہ  ہر عہدے کے لئے صحیح پروفیشنل کا انتخاب کریں گے یعنی Right man for the right job ۔ احسن  اقبال سے بھی حکومت میں آنے سے قبل میڈیا پر بار بار یہی سنا اور  اسد عمر سے بھی۔ مگر اقتدار کی کرسی پر ضرور کوئی ایسی

 نسیانی گدی ہے  جس پر  بیٹھتے ہی انہیں  یہ سب  کچھ بھول جاتا ہے۔

خسارے میں چلنے والے اداروں کی  نج کاری کے وعدے اور منصوبے منافع بخش ادارے بیچنے کی تلاش میں بدل جاتے ہیں کہ جو  چار پیسے آئیں  گے اس سے بجٹ خسارے کا  پاپی پیٹ بھر سکیں۔ سرکلر ڈیبٹ انرجی سیکٹر میں اپنائی گئی پایسیوں اور  مفادات کی آبیاری کی طویل بے اعتدالیوں  کا ثمر ہے جو اب  ڈیڑھ  ہزار ارب روپے سے بھی زائد  ہے اور  مزید بڑھ رہا ہے۔ اسٹیل مل، ریلوے، پی آئی اے اور سینکروں دیگر ادارے ہیں جن کے خسارے سے سیاست اور ان میں کھپائے گئے ملازمین کی اپنی معیشت  تو فائدے میں ہے لیکن خزانہ خسارے میں ہے۔

 یہ اور ایسے کئی طرفہ تماشے ہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ یہ اس قدر بنیادی نوعیت کے اقدام ہیں کہ شیدے دودھ والے،  انور سبزی  فروش، دوکاندار ملک  سرفراز اور ہمارے دوست عبدل کو بھی معلوم ہیں لیکن  حکومتوں کو کل سمجھ آیا نہ آج۔ اب ایسے میں عالم فاضل ماہرین  کی طرف دیکھیں تو کنفیوژن مزید بڑھ جاتا ہے، مشیرِ خزانہ  فرماتے ہیں کہ بہتری  آ چکی ہے، ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بہتری ابھی بہت دور ہے۔   ایسی ہی کسی ادھیڑبن میں شاید  غالب کو یہ شعر سوجھا ہوگا؛

 ایماں مجھے روکے ہے  جو  کھینچے ہے مجھے کفر

کعبہ مرے پیچھے ہے  کلیسا مرے آگے