اخلاقی جرائم: فکری تبدیلی کی ضرورت
- تحریر ڈاکٹر عارف محمود کسانہ
- ہفتہ 19 / اکتوبر / 2019
- 7000
پاکستان میں خواتین پر تشدد اور بدسلوکی کے واقعات تسلسل سے ہوتے رہتے ہیں لیکن بعض اوقات ان کی سنگینی میں اس قدر اضافہ ہوجاتا ہے کہ عوامی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں لوگ اپنی اپنی رائے پیش کرتے ہیں اور ایسے واقعات کے سدباب کے لئے تجاویز پیش کرتے ہیں۔ کوئی نظام انصاف کو کوستا ہے تو کوئی سخت قوانین وضع کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ کسی کی رائے میں یہ معاشرتی المیہ ہے تو کوئی اس کی وجوہات جہالت میں تلاش کرتا ہے۔ یہ تمام وجوہات اپنی اپنی جگہ پر نہایت اہم ہوسکتی ہیں لیکن ہماری رائے میں سب سے اہم یہ ہے کہ لڑکوں کی پرورش کرتے ہوئے بچپن سے ہی انہیں عورت کی عزت کرنا سکھائیں اور کبھی یہ باور نہ کرائیں کہ محض جنس کے فرق کی وجہ سے تم عورت سے بر تر ہو۔
اس تربیت کا آغاز ابتدا سے ہی اور گھر سے کیا جانا چاہیے۔ جس گھر میں عورت کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اس گھر کے بچے بھی بڑے ہو کر عورت کی عزت کرتے ہیں۔ جن گھروں میں عورتوں سے بد سلوکی اور عزت نفس مجروح کی جاتی ہے، ان گھروں کے بچے بھی ویسا ہی کرتے ہیں۔ جس گھر میں خاوند اپنی بیوی کی عزت نہیں کرتا اور اسے تشدد کا نشانہ بناتا ہے اس گھر کے لڑکے یہی عمل اپنی شریک حیات کے ساتھ دہرائیں گے۔ سخت قوانین اور حکومتی اقدامات وہ تبدیلی کبھی نہیں لاسکتے جو ذہنی اور فکری تبدیلی لاتی ہے۔
ابتدا سے ہی لڑکوں کو یہ تربیت دینی چاہیے کہ وہ عورتوں کی عزت کریں۔ عورت بھی انہی جیسی انسان ہے اور محض جنس کی وجہ سے اس کے رتبہ میں تفریق نہیں کی جاسکتی۔ صدیوں سے جس معاشرے کا رویہ مردوں کی بالا دستی کی صورت میں رہا ہے، وہاں فوری تبدیلی ممکن نہیں لیکن بہتری کی طرف سفر ممکن ہے۔ تبدیلی فکری اور ذہنی تغیر سے ہی ممکن ہے اور کسی بھی قوم کی حالت تب تک نہیں بدلتی جب تک وہ خود اپنی نفسیات، طرز فکر اور عمل میں تبدیلی پیدا کرنے کی جستجو نہ کرے۔
قرآن حکیم نے بہت خوبصورت انداز میں سورہ الرعد کی آیت 11 میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ لَا یْغَیِّرْ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یْغَیِّرْوا مَا بِاَنفْسِھِم یعنی اللہ تعالی کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔ اسی اصول کو اقوام سابقہ کی تاریخ کے تناظر میں سورہ الانفال کی آیت 53 میں یوں بیان کیا ہے یہ اللہ کی اِس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِعمل کو نہیں بدل دیتی۔ اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
گویا دونوں آیات کریمہ کے مطابق تبدیلی کا دارو مدار انسانی نفسیات کی تبدیلی میں مضمرہے۔ تبدیلی محض بیرونی چیز نہیں ہوتی بلکہ یہ اندر کے ایک گہرے اور ہمہ جہتی فکر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جو عمل کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ قوم کی اخلاقی حالت میں بہتری لانے اور معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کے لئے ذہنی اور فکری انقلاب کی ضرورت ہے۔ جب یہ صورت پیدا ہوجائے گی تو پھر یہ سب برائیاں بھی ختم ہوجائیں گی جنہوں نے ہمارے معاشرے کا کا چہرہ پراگندہ کررکھا ہے۔