بہادر اور اصول پسند شاہد حیات کا سفر آخرت
- تحریر محمد ناصر اقبال خان
- ہفتہ 19 / اکتوبر / 2019
- 5140
دنیا میں موت سب سے بڑی حقیقت ہے اوراس سے بڑھ کرکوئی بے رحم نہیں۔حضرت انسان کے جنم دن سے موت اس کا تعاقب کرنے لگتی ہے۔انسان سمیت کوئی جاندار موت سے مستثنیٰ نہیں۔اپنے اپنے عہد کے بڑے بڑے فرعون اورقارون آج مردہ حالت میں روزمحشر کے منتظر ہیں۔
سکندراعظم کی دنیا سے خالی ہاتھ رخصتی کا عبرتناک واقعہ دیکھنے اورسننے والے بھی اقتدار کیلئے اقدار روندنے،زروجواہر جوڑنے اورمحلات بنانے سے بازنہیں آئے۔ان میں سے کئی انسان وہ بھی ہیں جودھن دولت کما نے بلکہ ہتھیانے کے دوران عزت کمانابھول گئے اورآج ان کی دھونس کے باوجود ان کادھن ان کیلئے بوجھ بن گیا ہے۔اانسان کی موت کے بعداس کامال مرقدمیں ساتھ نہیں جاتاصرف اعمال ساتھ جاتے اوروہاں بہت کام آتے ہیں۔متوفی کے ورثااس کے ناجائزمال پر خوب عیش وعشرت کرتے ہیں جبکہ میت کیلئے اس کا مال مرقد میں وبال بن جاتا ہے۔
ہمارے آس پاس ایسے کئی انسان ہیں جوزندہ ہوتے ہوئے بھی زندہ نہیں ہوتے اوران کی موت دوسروں کی عبرت کاسامان بن جاتی ہے جبکہ کچھ شخصیات کی موت کے بعد بھی ہمیں ان پررشک آتا ہے۔سندھ پولیس کے دبنگ ایڈیشنل آئی جی اورشہرقائدؒ کے سابقہ چیف آف پولیس شاہدحیات خان کاشمار بھی ان قیمتی انسانوں میں ہوتاتھا جو اپنے منفرداورمختلف طرزحیات سے دوسروں کیلئے امیداورنوید بن جاتے ہیں۔جولوگ شاہدحیات خان کی طرح زندگی بھر زراورزور کیلئے اپنی اوراپنے خاندان کی عزت پرسمجھوتہ نہیں کرتے موت کے بعدبھی ان کانام عزت سے لیا جاتاہے۔چلیں آج شاہدحیات خان سے ملتے ہیں جو حیات نہیں رہے لیکن اس طرح کے اُجلے اورسلجھے لوگ مرتے بھی نہیں۔
سرزمین سندھ کے زیرک اوردبنگ ایڈیشنل آئی جی پولیس شاہدحیات خان تاحیات اپنے محکمہ کی طرف سے ملنے والے دو بیڈ روم کے فلیٹ میں مقیم رہے اورآج تک کسی نے ان کی زبان سے کوئی گلہ نہیں سنا۔ان کی حیات میں آسودگی ان کی طبیعت میں فطری سادگی کانتیجہ تھی۔ا نہیں زندگی بھرافسری،سروری اوربرتری کابخار نہیں ہوا۔وہ شروع سے بہت سادہ مزاج،سراپااخلاص اور'' ڈاؤن ٹوارتھ'' تھے۔شاہدحیات خان کاسرمایہ افتخاراورامتیازی نشان ان کااطمینان تھا۔
کراچی پولیس کے چیف مقررہونے کے بعدبھی انہوں نے اسی گھر میں رہناپسندکیا،انہوں نے زندگی بھرگھرتبدیل کیا اورنہ اپنے دوست بدلے۔ شاہد حیات خان شہرقائدؒ میں طویل علالت کے بعد حق رحمت سے جاملے، مرحوم نے اپنے فرض منصبی کی بجاآوری کے دورا ن دو بار موت کاسامنا کیا اوراسے شکست دی۔سرفروش اورفرض شناس شاہدحیات خان نے فرض منصبی کی بجاآوری کے دوران قید و بند کاسامنا بھی کیا۔شاہد حیات خان گزشتہ کئی ماہ سے انٹیلی جنس بیورو میں تعینات تھے۔ انہوں نے موٹروے پولیس میں ایڈیشنل آئی جی کے طور پربھی خدمات سرانجام دیں۔وہ مختصر مدت کیلئے ایف آئی اے میں ڈائریکٹر سندھ بھی تعینا ت رہے۔
شاہدحیات خان کی حیات مہم جوئی سے عبارت ہے،وہ پولوبہت شوق سے کھیلتے تھے اور انہیں پولو کھیلنے میں خاصی مہارت حاصل تھی۔ا نہیں شہرقائدؒ میں مختلف چیلنجز سے نبردآزماہوناپڑا مگر انہوں نے کبھی دباؤقبول نہیں کیاتھا۔شاہد حیات خان نے 1988میں اپنی سرکاری ملازمت کا شاندار آغاز سول سروس کا امتحان پاس کرکے صوبہ خیبر پختونخوا میں سول جج کی حیثیت سے کیا۔شاہد حیات خان نے 1989 میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور 1991 میں وہ با ضابطہ طور پر سول سروس سے وابستہ ہوگئے تھے۔ شاہدحیات خان 1992 میں اے ایس پی کی حیثیت سے لاہور میں تعینات رہے جہاں انہوں نے اپنا وجودمنوایا۔ انہیں 1993 میں اقوام متحدہ کے مشن پر بیرون ملک جاناپڑا۔
شاہدحیات خان مرحوم نے بحیثیت ایڈیشنل آئی جی موٹروے میں قابل رشک خدمات سرانجام دیں۔ 1995 میں جب کراچی میں کشت وخون اور سکیورٹی فورسزکا آپریشن زوروں پر تھا،اس وقت انہیں اہم ٹاسک دیتے ہوئے لہولہوشہرقائدؒ کے انتہائی خطرناک ایریا میں تعینات کیا گیاتھا۔ وہاں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران انہیں شدید حملے کاسامناکرناپڑا جس کے نتیجہ میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔ سماج دشمن عناصرنے انہیں جان سے ماردینے کے ارادے سے فائرکیا جوان کے چہرے پرلگا اور وہ کئی روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد واپس وہیں تعینات ہوئے جہاں انہیں گولی ماری گئی تھی۔1996 میں بینظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل والے پولیس ایکشن کے دوران وہ پھرگولی لگنے سے زخمی ہوگئے تھے، تاہم ہسپتال میں کئی ماہ تک زیر علاج رہنے کے بعد انہیں میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں د وسرے پولیس آفیسرز کے ساتھ گرفتار کرلیاگیا۔تقریباً ڈھائی برس پابندسلال رہنے کے بعد انہیں دوبارہ شہرقائدؒ کے ایریاصدرمیں بطورڈویژنل پولیس آفیسر تعینات کیا گیا، جس کے بعد انہیں ایس پی ٹھٹھہ مقرر کیا گیا۔ جس کے بعد وہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کراچی ایسٹ اور اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ بھی تعینات رہے۔ آبائی طورپرڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے شاہد حیات خان ڈی آئی جی پولیس شرقی اور ساؤتھ بھی رہے۔بحیثیت ڈی آئی جی ساؤتھ پوسٹنگ کے دوران اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے اہم ٹاسک ملنے پر سندھ کے شاہ زیب قتل کیس کے سربراہ تفتیشی آفیسر بھی رہے۔ان کی قیادت میں تفتیشی ٹیم نے اس مقدمہ کو کامیاب انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
شاہد حیات خان عباس ٹاؤن کے خوفناک بم دھماکے کی تحقیقاتی ٹیم کے بھی سربراہ رہے۔شاہد حیات خان مرحوم کے ساتھ اورماتحت کام کرنیوالے پولیس آفیسرز سمیت اہلکارانہیں اس بنیاد پر بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ وہ ہر ساتھی کے دکھ سکھ میں برابر کے شریک ہواکرتے تھے۔وہ اپنے ساتھی پولیس آفیسرز اور اہلکاروں کا مورال بلند کرنے میں مہارت رکھتے تھے، اہلکاروں کے ساتھ بیٹھ کر کھاناتناول کرناان کامعمول تھا۔شاہد حیات خان نے تاحیات اپناطرز زندگی تبدیل نہیں کیا۔مرحوم نے بیوہ سمیت دو بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔
نیک نام شاہد حیات خان کی نمازجنازہ بھی شہرقائدؒ کاایک بڑا سیاسی وسماجی اجتماع تھی۔ کراچی سمیت ملک بھر سے لوگ اظہارعقیدت کیلئے جوق درجوق ان کی نمازجنازہ میں شریک ہوئے اوران کے بلندی درجات کیلئے خصوصی دعاکی گئی۔ پاک آ رمی، نیوی،رینجرز اورپولیس کے آفیسرزسمیت سیاست،صحافت اورتجارت کے شعبہ کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔سابق ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات خان کی نماز جنازہ کراچی کے گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹر میں ادا کی گئی جس کے بعد مرحوم کی میت کو سپردخاک کرنے کیلئے ان کے آ بائی ڈسٹرکٹ ڈیرہ اسماعیل خان روانہ کردیا گیاتھا۔شاہد حیات خان کی نماز جنازہ میں وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ، وزیراطلاعات سندھ سعید غنی، ایڈیشنل آ ئی جی حضرات،ڈی آئی جی حضرات، پاکستان آرمی، نیوی،رینجرز، ایف ا ٓئی اے، آئی بی کے آفیسرز و جوان، سندھ پولیس کے آفیسرز اور جوانوں کے علاوہ ممبران قومی وصوبائی اسمبلی، ایوان ہائے صنعت و تجارت کے نمائندگان، شہرقائدؒ کے ٹریڈرز سمیت معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی ہردلعزیز شخصیات نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پرا ٓئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے مرحوم پولیس آفیسرکی مختلف شعبہ جات اور بالخصوص بطور ایڈیشنل آئی جی کراچی تعیناتی کے دوران ان کے جرأتمندانہ اقدامات اور کراچی کی سطح پران کی پولیس اصلاحات کوبہت سراہا۔
ہرباشعورفرد شہرقائدؒ کے سابق دبنگ چیف شاہدحیات خان کی نیک نامی کی شہادت د ے گا اورلوگ کراچی میں قیام امن کیلئے ان کے نام اورکام کو مدتوں تک یادرکھیں گے۔شاہدحیات خان مرحوم کو اپنے ادارے کاروشن چہرہ اور پولیس کے ماتھے کاسہرا کہاجائے توبیجا نہیں ہوگا۔