جسٹس عیسٰی کی درخواست سننے والا سپریم کورٹ کا بینچ دوسری مرتبہ تحلیل
- سوموار 21 / اکتوبر / 2019
- 5140
سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کرنے والا فل کورٹ بینچ ایک مرتبہ پھر تحلیل ہوگیا ہے۔
عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز میں ہی جسٹس عمر عطا بندیال نے بتایا کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل کی عدم دستیابی کے باعث بینچ تحلیل کر رہے ہیں۔ نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا رہے ہیں۔
اس سے قبل بھی جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کی آئینی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ تحلیل ہوا تھا۔ 17 ستمبر کو اس معاملے پر سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ، ججز پر اعتراض کے بعد تحلیل ہوگیا تھا اور نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو بھیج دیا گیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے سابق بینچ میں شامل بعض ججز پر اعتراض اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ 'جن ججز نے چیف جسٹس بننا ہے، ان کی (کیس میں) دلچسپی ہے۔ اس بینچ کے 2 ججز ممکنہ چیف جسٹس بنیں گے۔ اس طرح مذکورہ کیس سے ان دو ججز کا براہ راست مفاد وابستہ ہے'۔
اس وقت بینچ میں شامل جسٹس طارق مسعود نے کہا تھا کہ ہم پہلے ہی ذہن بنا چکے تھے کہ بینچ میں نہیں بیٹھنا۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے تھے کہ ہم نے جو حلف اٹھایا ہے تمام حالات میں اس کا پاس رکھنا ہوتا ہے۔ ہمارے ساتھی جج کی جانب سے ہمارے بارے میں تحفظات افسوسناک ہیں۔
سپریم کورٹ نے دونوں ججز، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سردار طارق مسعود، نے خود کو بینچ سے الگ کرلیا تھا جس سے بینچ تحلیل ہوگیا تھا۔
چیف جسٹس نے 20 ستمبر کو نیا 10 رکنی فل کورٹ بینچ تشکیل دیا تھا۔ اس 10 رکنی بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم خان، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی امین احمد شامل تھے۔
بینچ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت بھی کی تھی۔ تاہم آج بینچ کے ایک رکن کی غیر موجودگی پر یہ بینچ بھی تحلیل ہوگیا۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے بینچ تحلیل کرنے پر سینئر وکلا کی جانب سے اعتراض کیا گیا اور کہا گیا کہ ایک جج کی عدم موجودگی کے باعث دو سماعتیں کرنے والے بینچ کی تحلیل سمجھ سے بالاتر ہے۔ سینئر وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ اس کیس میں کیا جلد بازی ہے یہ سمجھ نہیں آرہا جبکہ کسی نے بینچ تحلیل کرنے کی استدعا بھی نہیں کی۔
ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید رضوی نے کہا کہ افتخار محمد چوہدری کے کیس میں 2 ماہ 5 دن کیس چلا۔ تاہم اس کیس میں پہلے دن سے لگ رہا ہے کہ ان ججز کا بس چلے تو یہ گھنٹے میں فیصلہ کردیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ کسی کی ریٹائرمنٹ سے پہلے فیصلہ دینا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے فیصلہ موجود ہے کہ جب بینچ تشکیل دیا جائے تو وہ تحلیل نہیں ہوسکتا۔ ان ججز کا کنڈکٹ نظر آرہا ہے کہ انصاف نہیں ہوگا۔
دوسری جانب پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے نائب چیئرمین سید امجد علی شاہ نے بھی میڈیا سے بات کی اور کہا کہ ہم بھی قاضی فائز عیسٰی پر صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستوں میں فریق تھے اور تمام درخواست گزار موجود تھے۔ تاہم ایک جج کی غیر موجودگی کی وجہ سے بینچ کو تحلیل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی حکم ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے انصاف نہیں ہوگا، بغیر کسی گراؤنڈ کے بینچ تحلیل کردیا گیا۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس بینچ کے علاوہ دوسرے بینچ پر ہمارا اعتراض ہوگا، لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ یہی بینچ کیس سنے کیونکہ ایک جج دو سماعتیں سن چکے ہیں۔ اس معاملے پر سینئر وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ یہ روایت ہے جب ایک بینچ سماعت کرتا ہے تو پورا کیس وہی سنتا ہے۔ یہ فل کورٹ بنایا گیا تها اور چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں کہ کوئی دوسرا بینچ بنائیں۔
حامد خان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایک جج نہیں ہے تو انتظار کیا جاسکتا ہے۔ یہاں کوئی مجبوری نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کا حکم موجود ہے اور یہ تبدیل نہیں ہوسکتا، لہٰذا اگر ایسا ہوا تو یہ غیر آئینی اقدام ہوگا۔
خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی درخواست فل کورٹ کی تشکیل کے لیے عدالتی مثالیں دیتے ہوئے کہا تھا کہ فل کورٹ بنانے کی عدالتی نظیر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بنام ریاست کیس میں موجود ہے۔