پاکستان فروری تک ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان نافذ کردے گا: حفیظ شیخ
- منگل 22 / اکتوبر / 2019
- 4430
پاکستان آئندہ برس فروری تک انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت روکنے سے متعلق ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے پر عزم ہے۔ اس معاملے پر حکومت کے مختلف اداروں کے مابین مکمل اتفاق ہے۔
مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے امریکا میں موجود پاکستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملکی معیشت کو نئی جہت بخشنے کی حکومتی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔ ایف اے ٹی ایف کی ڈیڈ لائن سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر بنیادی طور پر تمام سرکاری ادارے ایک صفحے پر ہیں اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی روک تھام کے لیے جو فیصلہ ضروری ہوا کیا جائے گا۔
پریس بریفنگ کے دوران مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے 27 تجاویز میں سے صرف 5 پر عملدرآمد کو تسلیم کیا تھا۔ تاہم اب انہوں نے 22 نکات پر پیش رفت کو تسلیم کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایکشن پلان پر تیزی سے عمل ہورہا ہے۔ ہم فروری تک اس پر مکمل عملدرآمد کے لیے پر عزم ہیں۔
انہوں نے اس بات سے اختلاف کیا کہ ایف اے ٹی ایف کے مجوزہ اقدامات نے ملکی معیشت کو مسائل کا شکار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا تعلق معاشی نمو سے نہیں بلکہ انسداد منی لانڈنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی روک تھام سے ہے۔
مشیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے واشنگٹن کا دورہ عالمی بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کیا تھا لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ملکی معیشت کی بحالی کے لیے حکومتی منصوبوں پر دیگر ریاستوں کے وزرائے خزانہ اور حکام کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیا۔ یہ بات مدِ نظر رہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت پر نظر رکھنے والی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اسلام آباد کو تمام تر وعدوں پر عملدرآمد کے لیے 4 ماہ کی مہلت دی ہے جو فروری 2020 میں ختم ہوجائے گی۔
ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا تو اسے بلیک لسٹ کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت کے سازگار ماحول اور عدم تعاون پر 29 جون 2018 کو پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا اور 27 نکات پر مشتمل ایکشن پلان پر عمل کرنے کے لیے 15 ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔