نواز شریف اور آصف زرداری ہسپتال داخل کردیے گئے

  • منگل 22 / اکتوبر / 2019
  • 4430

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو کل رات لاہور کے سروسز ہسپتال جبکہ پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین اور سابق صدر آصف زرداری کو آج صبح اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ نیب کی حراست مین موجود ان دونوں رہنماؤں کی طبی حالت اچھی نہیں ہے۔

نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو سابق وزیراعظم تک رسائی دے دی گئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیرِاعظم نواز شریف کو طبیعت خراب ہونے اور ان کے خون کے نمونوں میں پلیٹلیٹس کی تعداد انتہائی کم ہو جانے پر پیر اور منگل کی درمیانی شب لاہور کے سروسز ہسپتال طبی معائنے کے لیے منتقل کیا گیا تھا۔  نواز شریف کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاعات کے ساتھ ہی مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نیب دفتر لاہور پہنچے تھے جبکہ پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد بھی نیب دفتر لاہور کے باہر جمع ہوئی اور ٹائر جلا کر سڑک کو بلاک کیا۔

رات گئے پولیس نے اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں سابق وزیر اعظم کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو گرفتار کرلیا۔۔  ترجمان نیب نے میاں نواز شریف کو ہسپتال منتقل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کو مکمل طبی معائنے کے ساتھ ساتھ پلیٹلیٹس کی سطح میں اضافے کے لیے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔  ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو انہیں 24 گھنٹے طبی سہولیات مہیا کررہی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے اپنے بیان میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے خون کے نمونوں میں 'خطرناک علامات کے ظاہر ہونے اور سرکاری ٹیسٹ رپورٹس میں سنگین خطرات کی واضح نشاندہی کے باوجود انہیں ہسپتال منتقل نہ کرنا حکومتی بے حسی اور بدترین سیاسی انتقام پر مبنی پالیسی ہے۔' انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ جیل مینوئل پر عمل نہ کر کے حکمران لاقانونیت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف چوہدری شوگر مل کیس میں نیب کی حراست میں ہیں جبکہ احتساب عدالت کی جانب سے انہیں العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔