کشمیر کے معاملے پر اپنے مؤقف پر قائم ہوں: مہاتیر محمد
- بدھ 23 / اکتوبر / 2019
- 5090
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ کشمیر کے تنازع پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں جن پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔
منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر بیان دیا۔ یہ کسی کا ساتھ دینے یا نہ دینے کی بات نہیں ہے۔ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ صرف بھارت اور پاکستان نہیں بلکہ امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنا چاہیے۔ ورنہ اقوام متحدہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں مہاتیر محمد نے کہا تھا کہ بھارتی فوج نے کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے۔ لہذٰا یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ مہاتیر محمد کا حالیہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت کے تاجروں نے ملائیشیا سے 'پام آئل' کی درآمد کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔
ملائیشیا دنیا بھر میں 'پام آئل' پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جب کہ بھارت اس کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ جموں و کشمیر سے متعلق مہاتیر محمد کے مؤقف پر بھارت نے ملائشیا کے ساتھ اپنے تجارتی روابط کم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نے بھارت کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو برا لگے یا اچھا، ہمیں مسائل پر بات کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
بھارت کی ایک تجارتی تنظیم 'سالوینٹ ایکسٹرکٹر' نے تاجروں کو ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملائیشیا اور بھارت کے تعلقات کے تناظر میں وہ اپنے ملک سے اظہار یکجہتی کے لیے پام آئل درآمد نہ کریں۔ تنظیم کی جانب سے اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ اگر حکومت نے ملائیشیا سے درآمدات پر اضافی ٹیکس عائد کردیے تو تاجروں کو نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ہم بھارتی تاجروں کے اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم ہمیں اس سے متعلق بھارتی حکومت کے فیصلے کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے یہ اہم ہے کہ بھارت کی حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے۔
رواں سال کے ابتدائی نو ماہ میں بھارت اب تک ملائیشیا سے 30 لاکھ 90 ہزار ٹن پام آئل درآمد کر چکا ہے۔ جب کہ ملائیشیا پیٹرولیم مصنوعات، گوشت و لائیو اسٹاک، دھاتیں اور مختلف کیمیکل بھارت سے درآمد کرتا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں مہاتیر محمد نے کہا تھا کہ بھارتی فوج نے کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے۔ لہذٰا یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ بھارت نے ملائیشین وزیر اعظم کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مایوس کن قرار دیا تھا۔ بھارت کا مؤقف تھا کہ جموں و کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے۔