پاکستان اور بھارت میں کرتارپور راہداری کا معاہدہ طے پاگیا

  • جمعرات 24 / اکتوبر / 2019
  • 5240

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کا منصوبہ فعال کرنے کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ اب بھارت اور دنیا کے دوسرے حصوں سے سکھ  دنیا کے سب سے بڑے گردوارے کی زیارت کے لئے آسکیں گے۔

کرتارپور راہداری کا منصوبہ فعال کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کی تقریب نارروال پر واقع پاک بھارت سرحد کرتارپور زیرو لائن پر منعقد ہوئی۔  اس موقع پر پاکستان کی جانب سے ترجمان دفتر خارجہ اور ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا و سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے جبکہ بھارت کی جانب سے بھارتی وزارت امور خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ایس سی ایل داس نے دستخط کیے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کرتارپور راہداری منصوبے کے معاہدے پر دستخط کی یادگار کے تحت ایک پودا بھی لگایا۔  پاکستان اور بھارت کے درمیان کیے گئے معاہدے کے تحت روزانہ 5 ہزار سکھ یاتری بغیر ویزا گرردوارہ کرتار پور صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرسکیں گے۔

بھارتی حکومت سکھ یاتریوں کی فہرست 10 دن قبل پاکستان کے حوالے کرے گی۔ کرتارپور راہداری فعال کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے وژن کے تحت ہم نے بھارت کے ساتھ کرتارپور کے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان 9 نومبر کو کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کریں گے جس کے لیے پُروقار تقریب کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے کرتار پور راہداری کی تکمیل میں کردار ادا کرنے پر دفترخارجہ، وزارت داخلہ، وزارت قانون، مسلح افواج اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ کرتارپور میں دنیا کا سب سے بڑا گردوارہ تعمیر کیا گیا ہے۔ پاکستان کا متعلق وہی نقطہ نظر ہے جو نبی کریمﷺ کا حکم ہے۔ یہ اس کے مطابق ہے‘۔  ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سکھ یاتریوں کا پہلا جتھا 9 نومبر کو آئے گا۔ یاتریوں کو اپنی شناخت کے لیے پاسپورٹ ساتھ لانا ہوگا جسے اسکین کیا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ راہداری کے استعمال کی مد میں ہر یاتری سے 20 ڈالر سروس چارجز وصول کیے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقامی یاتریوں کو بھی گردوارے کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور اس سلسلے میں انہیں ایک پاس بھی جاری کیا جائے گا۔