کیاہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں؟
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 24 / اکتوبر / 2019
- 5780
یہ ایک بنیادی نوعیت کا سوال ہے کہ کیا واقعی ہم بطور معاشرہ، ریاست اور حکومت ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ سب کا مجموعی جواب یقینی طور پر یہ ہی ہوگا کہ ہم ترقی کے خواہش مند ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے۔
کیونکہ محض ترقی کی خواہش کرکے ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ ترقی کی بنیاد خواہش کے ساتھ ساتھ اس کے عملی اقدامات، سوچ، فکر او رمنصوبہ بندی کے ساتھ جڑ اہوتا ہے۔ ہم خواہشات کی بنیاد پر جو سیاسی بت بناتے ہیں وہ عمومی طور پر ہماری ناقص سیاسی حکمت عملیوں، ذاتی مفادات اورسیاسی عدم ترجیحات کے باعث ہم کامیابی کے مقابلے میں ناکامی سے دوچار ہوتے ہیں۔ہمارا مسئلہ یہ بھی کہ مجموعی طور پر ہمیں اس بات کا کس حد تک احساس ہے کہ ہم درست سمت میں جارہے ہیں یا ہمارا راستہ غلط سمت میں ہے۔
ترقی کا عمل کبھی بھی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوتا۔ترقی کا بڑا دارمدار مختلف ترقی سے جڑے تمام فریقین کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب کے اس کے مقابلے میں ہم معاملات کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔اسی طرح ہم دنیا میں ترقی کے تناظر میں ہونے والے مختلف طرز کے مختلف ممالک میں ہونے والے تجربات سے بھی سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔حالانکہ آج کل کی حکمرانی کے نظام میں ہم دنیا میں ہونے والے مختلف تجربات سے سیکھ کر اپنی حکمت کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح کے لیے تیار نہیں او روہی کچھ کرنا چاہتے ہیں جو غلطیاں ماضی کی سیاست میں ہوتی رہی ہیں تو پھر تبدیلی کا عمل کیسے آگے بڑھے گا۔
ترقی کے عمل کو ہم پانچ حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔اول ترقی کی کنجی کسی بھی معاشرے میں ادارہ سازی کی تشکیل ہوتی ہے۔کیونکہ فرد اورادارے میں اداروں کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔لیکن ہم نے ترقی کا جو بیانیہ اختیار کیا ہوا ہے اس میں اداروں کے مقابلے میں افراد کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ یہ سوچ ا ور فکر فرد کی حکمرانی کے تناظر میں اقراپروری اور آمرانہ مزاج پر مبنی نظام کو تقویت دینے کا سبب بنتی ہے۔دوئم
ہم قومی مسائل کی درجہ بندی کرتے ہوئے اپنی سیاسی،سماجی او رمعاشی ترجیحات کا درست انداز میں تعین بھی کرتے ہیں او ران ترجیحات میں عام آدمی یا کمزور طبقات کی سیاست کو مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
سوئم ہم وسائل کی تقسیم کے نظام کو منصفانہ اور شفاف بناتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ترقی کے عمل میں کوئی بھی فریق پیچھے نہ رہے۔چہارم نگرانی، جوابدہی اور احتساب کے نظام کو موثر او رشفاف بناکر اپنی حکمرانی کے نظام کے معیارات کو بہتر بنا پر پیش کرتے ہیں۔پنجم انتظامی ڈھانچوں کے ساتھ ساتھ انسانی ترقی کو بنیاد بنا کر پالیسی سازی اور قانون سازی کو یقینی بناتے ہیں۔ اسی طرح مرکزیت کے مقابلے میں عدم مرکزیت یعنی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے عمل کو مضبوط بنا کر مقامی نظام حکومت کو زیادہ موثر اور فعا ل کرتے ہیں۔ششم ترقی کے عمل کو طبقاتی بنیادوں کی بجائے اس میں سب طبقات کی موثر شمولیت کو یقینی بنا کر ریاست، حکومت اور عوام کے درمیان پہلے سے موجود خلیج کو کم کرنا اور انصاف کے نظام کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ترقی کے بیانیہ کو تقویت دینے کی بجائے یہاں سیاسی محاذ آرائی پر مبنی سیاست کو زیادہ طاقت ملی ہے او راس کا عملی طور پر نتیجہ سیاسی اور معاشی عدم استحکا م کی صورت میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔اس ترقی کے ماڈل نے امیری اور غربت میں جو بڑی خلیج پیدا کی ہے وہ واقعی ریاستی نظام کی شفافیت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔کیونکہ جب اہل سیاست سیاسی فریقین کے سیاسی وجود کو ہی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو وہ مشترکہ طور پر کیسے ترقی کا بیانیہ تشکیل دے سکتے ہیں۔حالانکہ دنیا میں حکومت اور حزب اختلاف کی سیاست وہ نہیں جو ہمیں اپنے ملک میں دیکھنے کو ملتی ہے اور یہ جو کچھ ہم سیاست کے نام پر یہاں کررہے ہیں وہ ترقی کی بنیاد نہیں بن سکتا بلکہ اس سے ترقی کا عمل بہت پیچھے چلاجاتا ہے۔
ہمیں اپنے ترقی کے تناظر میں کسی بڑ ی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ ہم ریاستی سماجی، سیاسی او رمعاشی اعدادو شمار کو بنیاد بنا کر اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہم ترقی کے عمل میں کہاں کھڑے ہیں اور دنیا کس انداز سے ہماری ترقی کے نظام کو چیلنج کررہی ہے۔آج دنیا کی سیاست میں ترقی کے عمل کو ایک کڑی نگرانی کے نظام سے گزرنا پڑتا ہے او راسی بنیاد پر کارکردگی کو جانچ کر ہمارے جیسے ملکوں کی ترقی پر مبنی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ہم تعلیم، صحت، روزگار، تحفظ، ماحول، نکاسی آب، صاف پانی، انصاف جیسے بنیادی نوعیت کے حقوق سے جڑے عمل میں بہت زیادہ خلیج رکھتے ہیں۔ صنفی بنیادوں پر عورتوں او ربچیوں کی ترقی کی شرح بھی خوفناک حد تک کم ہے۔ہم نے پالیسیاں، قانون سازی اور بہت کچھ تو کرلیا ہے مگر جو ریاستی نظام میں ایک مضبوط سماجی اور سیاسی کمٹمنٹ درکار ہے اس کا واضح طو رپر ہمیں اپنی حکمرانی کے نظام میں فقدان نظر آتا ہے۔
ترقی کا عمل بنیادی طور پر اجتماعی سے جڑا ہوتا ہے۔ اجتماعی نظام سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ہم سب کے سامنے ذاتی مسائل کے ساتھ ساتھ علاقائی، صوبائی اور قومی مسائل کی بھی اہمیت ہوتی ہے اور ہم اپنی ذاتی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اجتماعی ترقی کے عمل میں بھی اپنا موثر کردار ادا کرتے ہیں۔ریاست اور حکومتوں کا کام ہر ایک کے مسائل حل کرنا نہیں ہوتا لیکن کیونکہ ریاست او رشہریوں کے درمیان ایک سماجی عمرانی معاہدہ ہے تو اس کے تحت بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت کو یقینی بنانا بھی ریاست او رحکومت کی بنیادی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔ ریاست او رحکومت کی بنیادی ضرورت ایک ایسا سیاسی،سماجی او رمعاشی سازگار ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے جہاں سب لوگ بغیر کسی خوف او رڈر کے ترقی کے عمل میں اپنا اپنا حصہ ڈال سکیں۔
معاشرے میں اقربا پروری، مفاد پرستی، ذاتی مفاد، کرپشن، بدعنوانی، لوٹ مار اور سیاسی، سماجی، معاشی و اخلاقی قدروں کی گراوٹ ہے اس نے عملًا معاشرے کے ڈھانچے کو کھوکھلا کردیا ہے۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہم معاشرے کی تشکیل کے تناظر میں ایک بڑے کینسر جیسے مرض کا شکار ہوگئے ہیں اور اس کا علاج ڈسپرین کی گولی سے کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو ہماری سنجیدگی کے عمل کو نمایاں کرتا ہے۔معاشرے کی تربیت کا نظام متاثر ہوا او راس نے لوگوں کے درمیان سماجی تعلقات کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔میڈیا کا نظام مسائل کا حل پیش کرنے کی بجائے مسائل کو پیدا کرنا او راس میں شدت پیدا کرکے ریٹنگ کی سیاست کا حصہ بن گیا ہے اور بظاہر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔
ایسا نہیں ہے کہ اس معاشرے میں سب کچھ غلط ہورہا ہے۔ اس معاشرے میں بہت کچھ اچھا بھی ہورہا ہے او رہمیں اپنی انسانی ترقی کے عمل میں افراد کوبھی اہمیت دینی ہوگی جو واقعی سماج میں بڑی تبدیلی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اچھے لوگ ہر جگہ او راداروں میں موجود ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کو ریاستی او رحکومتی نظام میں زیادہ پزیرائی نہیں دی جاتی او ریہ لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں۔بنیادی طور پر اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو تمام شعبوں میں موجود اچھے لوگوں کے درمیان ایک بڑے اتحاد کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اب وقت آگیا ہے جہاں ہمیں ریاستی، حکومتی نظام میں ایک بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کرنا ہے۔ کیونکہ ریاستی نظام کی شفافیت بھی اسی صور ت میں ممکن ہوتی ہے جب اس ریاست میں لوگ بھی ایک ذمہ دارانہ کردار کے ساتھ اپنی ذمہ داری کا حق ادا کرتے ہیں۔
بظاہر اس سوچ او رفکر کو تبدیل کرنا ہوگا کہ ہم خود ہی اپنی ترقی کے دشمن ہیں۔ ہم دوسروں پر یا سازشی تھیوریوں کو بنیاد بنا کر غیرملکیوں کو بھی اپنا دشمن سمجھتے ہیں، مگر اس کے برعکس جو کچھ ملک کے اندر ہے اور وہ اندرونی کردار جو خود ملک دشمنی کررہے ہیں، وہی ہی یہاں منصفانہ اور شفاف ترقی کے حقیقی دشمن ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے موجود ہ طرز عمل اور اطوار کا جائزہ لینا ہوگا اور خود احتسابی کی مدد سے اپنی اصلاح کے ساتھ پہل کا آغاظ کرنا چاہیے، وگرنہ ترقی کا عمل نہ تو پائدار ہوگا اور نہ ہی یہ ممکن ہوگا۔