نواز شریف کو کینسر نہیں: ڈاکٹر طاہر سلطان شمسی
- جمعہ 25 / اکتوبر / 2019
- 5210
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے معالجین کے پینل میں شامل ڈاکٹر طاہر سلطان شمسی کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی بیماری کی تشخیص ہوگئی ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اُنہیں کینسر نہیں ہے۔
نواز شریف لاہور کے سروسز اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ڈاکٹروں کی چھ رکنی ٹیم ان کا معائنہ کر رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم کا معائنہ کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم میں شامل ماہر امراض ہیماٹالوجسٹ پروفیسر طاہر سلطان شمسی نے جمعے کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف کی بیماری کا نام 'آئی ٹی پی' ہے جو عموماً چھوٹے بچوں یا کینسر میں مبتلا بڑی عمر کے لوگوں کو ہوجاتی ہے۔
ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق نواز شریف کا بون میرو جانچنے کے لیے ٹیسٹ کیا گیا تھا جس کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ ان کا بون میرو مکمل فنکشنل ہے اور اس میں کینسر نہیں ہے۔ ڈاکٹر طاہر شمسی کو نواز شریف کے علاج کے لیے خصوصی طور پر کراچی سے لاہور طلب کیا گیا ہے۔ اُن کے بقول نواز شریف کو لاحق مرض قابل علاج ہے جس کے لیے مریض کو اسٹریرائڈ یا 'آئی جی آئی وی' انجیکشن میں سے کوئی ایک دوا دی جاتی ہے۔
ڈاکٹر طاہر شمسی کا مزید کہنا تھا کہ ادویات ملنے کے 4 سے 5 دن میں مریض کے پلیٹ لیٹس کی ریکوری شروع ہو جاتی ہے۔ آئی وی آئی جی ملنے کے دس سے بارہ دن بعد تقریباً پلیٹ لیٹس سیلز نارمل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پلیٹ لیٹس کو قابل اطمینان حد میں رکھنے کے لیے نواز شریف کو چھ ماہ سے ایک سال تک ادویات کا استعمال کرنا پڑے گا۔
سابق وزیرِ اعظم کے طبی معائنے کے لیے چھ رکنی میڈیکل بورڈ بنایا گیا ہے، جس کے سربراہ پمز کے پرنسپل پروفیسر محمود ایاز ہیں۔ بورڈ کے دیگر ارکان میں ڈاکٹر کامران خالد، ڈاکٹر عارف ندیم، ڈاکٹر فائزہ بشیر، ڈاکٹر خدیجہ عرفان اور ڈاکٹر ثوبیہ قاضی بھی شامل ہیں۔
نواز شریف کے علاج کے لیے قائم کردہ میڈیکل بورڈ نے اُن کے جمعرات کو دوبارہ ٹيسٹ کيے تھے۔ سی بی سی رپورٹ حوصلہ افزا آنے پر بورڈ نے خليوں کی ٹوٹ پھوٹ کی مزيد تشخيص کے لیے انہیں 'پی کے ايل آئی' منتقل نہ کرنے کا فيصلہ کيا تھا۔