احتجاج کا موسم

  • تحریر
  • جمعہ 25 / اکتوبر / 2019
  • 5060

ہم تو انہی سڑکوں پر  ڈیرہ جما ئے بیٹھے رہیں گے، جب تک لوٹی ہوئی دولت  واپس نہیں ہو تی اور ہم حکومت کو چلتا نہیں کر لیتے‘۔ لبنان کے شہر بیروت میں احتجاجی مظاہروں  میں شامل نوجوان لڑکی حبا  حیدر نے رپورٹر کو بتایا۔ 

لبنان میں گزشتہ ایک ہفتے سے زائد جاری احتجاجی مظاہرے اچانک پھوٹے تو حکومت اور دنیا کو حیرت ہوئی۔ حکومت نے واٹس اپ سمیت انٹر نیٹ  کالز پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا لیکن پھر اچانک یوں ہوا جیسے پورے ملک  پر کسی نے جادو کر دیا ہو۔ لبنان کی حکومت کو ایسے کسی  ردِ عمل کی توقع نہ تھی۔ لبنان  میں 1975-90  کے دوران جاری رہنے والی خونریز خانہ جنگی کے بعد مذہبی بنیادوں پر ایک سیاسی انتظام  وجود میں آیا،  سنّی، شیعہ اور عیسائی اکثریت کے درمیان حکومتی ڈھانچے کی تقسیم  ہوئی۔ سیاسی اشرافیہ نے اس تقسیم کا خوب فائدہ اٹھایا۔ چالیس پچاس  لاکھ کے اس ملک میں مذہبی شناخت کی بنا پر  طالع آزماؤں  کا سیاسی میدان  پر غلبہ آسان ہو گیا۔  انتخابات  سے  حکومتی  میعاد  کا  تعین  تو ہوتا رہا لیکن حکمران اشرافیہ کے وہی گنے چنے خاندان اور چہرے  ہی سیاہ و سفید  کے مالک  رہے۔  اقتدار  میں   یقینی حصہ داری نے سیاسی نخوت اور  مفادات کے حصول  کا  خودغرضانہ  اور ایسا  دلیرانہ رویہ   جنم دیا  جو  کرپشن اور اقربا پروری  سے عبارت تھا۔ اس کے نتیجے میں لبنان دنیا میں جی ڈی پی اور  پبلک قرضوں  کے سب سے بھاری  تناسب یعنی 150%  کے بوجھ تلے کراہ رہا ہے۔

 ہر تین میں سے  ایک لبنانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبورہے۔ صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولتوں  کے لئے  مجبور محض۔  بیروت  جیسے ٹورسٹ  سٹی میں  چند ماہ قبل بنیادی شہری سہولتوں  کے فقدان کا یہ عالم تھا  کہ شہر کا کچرا اٹھانے کابندوبست  کچرے کے ساتھ ڈھیر ہو گیا۔ لبنان  کی معیشت میں کنسٹرکشن اور سیاحت سب سے بڑے شعبے ہیں لیکن  معیشت میں سست روی اور سرمایہ کاری کی  فراہمی میں کمی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی۔  بے چینی اور غصے کا لاوا اند ہی اندر  پکتا رہا۔ 

حکومت نے  بجٹ خسارے کے لئے واٹس اپ کالز پر  چھ ڈالرز ماہانہ ٹیکس لگایا تو  ابلتے ہوئے لاوے کو اچھل کر باہر آنے کا راستہ مل گیا۔  حکومت نے واٹس اپ  کالز پر  ٹیکس واپس لے لیا ہے، مظاہرین کے مطالبے پر ان کے غصے اور اشتعال کو ٹھنڈا کرنے  کے لئے    حکومت میں شامل سیاستدانوں کی تنخواہیں  آدھی کرنے کا اعلان بھی کر دیا،  مظاہرین مگر ٹس سے مس نہ ہوئے۔ بلکہ انہوں نے مطالبات کی فہرست  پر  نظرِ ثانی کرتے ہوئے حکومت کے مستعفی ہونے، کرپشن کی دولت واپس کرنے اور انقلابی اصلاحات  کے مطالبات کر دئے ہیں۔ 

 خانہ جنگی،  مذہبی تقسیم اور منافرت کی طویل تاریخ کے باوجود ان  مظاہروں میں مذہبی شناخت  کی بجائے اجتماعیت کی شناخت غالب ہے۔ کچھ لوگوں نے مذہبی شناخت اور جھنڈوں کے ساتھ ان مظاہروں میں شریک ہونے کی کوشش کی لیکن مظاہرین نے انہیں  واپسی کا راستہ ناپنے پر مجبور کر دیا۔  اس تحریک کا اب تک کوئی بظاہر ایک لیڈر نہیں، یہ تحریک خود  رو  (Spontaneous)انداز میں  وقوع پذیر ہوئی اور اب تک حکومت اور دنیا کو  حیران کئے ہوئے ہے۔ بنیادی نکات  معاشی عدم مساوات، کرپشن،   تباہ حال  گورننس، فرسودہ سیاسی اور معاشی نظام کی تبدیلی ہے۔

بے چینیوں کے اس سلسلے کی تازہ ترین مثال چلی بھی ہے۔ بھلا چنگا بظاہر پرسکون سا  ملک  مگر  معاشی بے چینی اور مایوس کن گورننس کا لاوا  اندر ہی اندر پک رہا تھا۔ حکومت  پرسکون اور مطمئن تھی،  حکومت نے معمول کا ایک فیصلہ کیا کہ  دارلحکومت سان ڈیاگو میں میٹرو ٹرین کے کرائے میں  اضافہ کر دیا۔ اچانک یوں ہوا جیسے کسی نے بارود کو دیا سلائی دکھا دی ہو، بھک  سے  پورے ملک میں فسادات پھوٹ پڑے۔، مظاہرین نے میٹرو ٹرین کے کئی اسٹیشن  نذرِ آتش کر دئے، کئی  دیگر  سرکاری املاک  کی بھی توڑ پھوڑ کی،  حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، شہر بھر میں رات کا کرفیو لگا دیا لیکن مظاہرے  دیگر شہروں میں بھی پھیل گئے۔  اب تک ان مظاہروں  میں 15 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت سختی سے ان مظاہروں کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے، مظاہرین کو پر سکون کرنے کے لئے  میٹرو ٹرین کے کرائے میں اضافے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا  لیکن اب مظاہرین اصلاحات کی مانگ پر اتر آئے ہیں۔ کرپشن اور اقربا پروری سے اٹی  ہوئی گورننس  سے بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ حکومت حیران اور ہکا بکا ہے کہ آناٌ فاناٌ  یہ کیا ہو گیا، اب مظاہرین کو  رام کرنے کی کوششیں ہیں لیکن عوام کی بے چینی اور غصہ ہے کہ سنبھالے سنبھل نہیں رہا۔

 چلی  جنوبی امریکہ کا بظاہر خوشحال ملک جو  دنیا میں تانبے کا سب سے بڑا سپلائر ملک ہے۔  پونے دو کروڑ   کی آبادی میں فی کس آمدنی  پندرہ ہزار ڈالر فی کس  سے بھی زائد ہے لیکن عدم مساوات  نے آبادی کی کثیر تعداد کومعاشی بوجھ   میں دبا دیا ہے جبکہ سیاسی اشرافیہ  دولت اور وسائل پر قابض ہے۔ بنیادی نکات چلی میں بھی مشترک ہیں یعنی  معاشی عدم مساوات، کرپشن اور کرم خوردہ گورننس کا ڈھانچہ جس نے اکثریت کی زندگی کو وبال بنا کر رکھ دیا ہے۔

ہانگ کانگ  میں  گزشتہ تین ماہ سے زائد جاری مظاہرے بھی بنیادی طور پر ایک متنازعہ قانون واپس لینے کے مطالبے سے شروع ہوئے مگر اب تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ متنازع قانون  کی واپسی کا مطالبہ منظور  بھی کر لیا گیا  لیکن  اب مطالبات چین سے آزادی  تک دراز ہو گئے ہیں۔ ان مظاہروں  کی تہ میں بھی بنیادی طور پر معاشی ناہمواری اور معاشی مشکلات  کلیدی  نکات تھے۔

پاکستان میں نئی سیاسی حکومت کو ایک سال سے زائد ہونے کو آیا ہے لیکن معاشی  بے چینی  کو چین نہیں ہے۔ مہنگائی دوہرے ہندسے میں چھلانگیں مار  رہی ہے۔ بجٹ، تجارتی اور  کرنٹ اکاؤنٹ خسارے  کے باعث  پاکستان روپے کی شرح مبادلہ میں گزشتہ   ایک  سال   میں 28 فی صد کمی ہوئی۔ شرح سود دوہرے ہندسے میں ہے۔ ٹیکس محصولات کا ٹارگٹ ایسا کہ  اچھے اچھوں کے سن کر پسینے چھوٹ جائیں۔ سرمایہ کاری میں کمی اور  صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں سست روی  وجہ سے  جی ڈی پی کی سالانہ شرح  نمو اس سال بمشکل  2.4%  متوقع ہے یعنی آبادی کے سالانہ اضافے کے لگ بھگ،  اس پر مارے کو مارے شاہ مدار معیشت پر قرضوں کا بوجھ پہلے سے بہت بڑھ گیا ہے۔

 وزیر اعظم عمران خان اور ان کی  ٹیم   کا ایک ہی سکہ بند جواب ہے کہ معاشی ابتری کی جو بھی  صورتحال ہے وہ گزشتہ حکومتوں  کی سبب ہے جو بقول ان کے کرپٹ اور چور تھے۔   حکومت کے پاس اپنی کامیابیوں کی خاصی لمبی فہرست موجود ہے، ہر فورم اور میڈیا پر ترجمانوں کی ایک  فوج ہے جو حکومت کا  مثبت امیج  عوام کے سامنے لانے پر مامور ہے۔ اس کے باوجود اگر  عوام مطمئن نہیں  ہیں تو   بقول ہمارے دوست عبدل  یہ ان کی سادہ لوحی ہے جو پچھلے حکمرانوں کا ’تصور جاناں‘ کئے ہوئے  اپنا وقت برباد کرنے اور حکومت  کو کوسنے  کی  نفسیاتی عادت  میں مبتلا ہیں۔

 ممکن ہے یہ صحیح ہو  مگر مارچ کو روکنے کے لئے  شہر شہر  کنٹینرز   کی قلعہ بندی  اور انتظامی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت  لبنان ، چلی اور ہانگ کانگ  جیسے   واقعات سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ترکش سے نکلے تیر کی مانند مارچ  اپنے مقام سے  نکل کر کہاں جائے گا، یہ سوال اندیشہ ہائے دور دراز کا باعث بن رہا ہے۔  حکومت کا  مارچ اور دھرنے کا اپنا تجربہ اور دنیا کے حالیہ واقعات  ان اندیشوں کو اور بھی ہوا دے رہے ہیں۔