سانحہ ساہیوال اور ریاست مدینہ!
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعہ 25 / اکتوبر / 2019
- 6040
عدل و انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ نہیں چل سکتا۔ ملک میں موجودبر سر اقتدار جماعت تحریک انصاف کا منشور ہی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں انصاف کی بحالی کیلئے تقریباً بائیس سال عملی جدوجہد کی اور عوام کو بے یقینی سے نکالا۔
عوام کو عمران خان صاحب کی دیانت پر یقین آگیا اوروہ ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا اعلان کر دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کو پاکستان میں ایسی تقویت تو بڑے بڑے علمائے کرام نہیں دے سکے جو کہ عمران خان صاحب نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کھڑے ہوکر دلا دی۔لیکن ملک میں انصاف دلانے کا وعدہ ہنوز شرمندہ تعبیر ہے۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن پر طاہر القادری نے سر پر کفن تک باندھ لیا لیکن کسی منتقی انجام تک پہنچائے بغیر خاموش ہوکر بیٹھ گئے۔ ایسے لاتعداد واقعات ہر روز رونما ہوتے ہیں۔ یہ واقعات قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے والے اداروں پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
سال رواں جنوری میں رونما ہونے والا سانحہ ساہیوال کے نام سے گزشتہ روز اس وقت تاریخ کا حصہ بن گیا جب اس مقدمے میں تمام نام زد ملزمان کو عدم شواہد کی دستیابی کے باعث رہا کردیا گیا۔ اس واقع میں ایک ہی خاندان کے تین افراد مارے گئے تھے جن میں ماں باپ اور اریبہ نامی ایک بچی بھی شامل تھی۔ ان کی گاڑی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شک ہوا تھا کہ یہ دہشت گرد ہیں اور اپنے کسی منصوبے کی تکمیل کیلئے جا رہے ہیں۔ شک کی بنیاد پر انہوں نے گاڑی پر اندھا دھند گولیاں چلا دیں اور چار قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔ گزشتہ روز عدالت نے مقدمہ نمٹاتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ مقتولین کے لواحقین نے ملزمان کو پہچاننے سے انکار کردیا ہے یعنی گرفتار شدہ لوگ وہ نہیں ہیں جو اس واردات میں ملوث تھے۔ کیا ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ وہ انصاف کی فراہمی کو یقنی بنائے چاہے اس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی کیوں نہ ملوث ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ کرائے کے قاتلوں کی ذمہ داری بھی ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی لے لیں۔
کشمیر کو انصاف نہیں مل رہا کیوں کہ اس کی پشت پناہی وہ طاقتیں کر رہیں ہیں جن سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے لیکن کیا سانحہ بلدیہ ٹاؤن، سانحہ ماڈل ٹاؤن اور اب سانحہ ساہیوال کے ذمہ داروں سے بھی کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ کیا عوام یہ سمجھ لیں کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے خود ہی تبدیل ہو گئے ہیں۔عوام موجودہ حکومت سے اور خصوصی طور پر وزیر اعظم عمران خان امید کرتے ہیں کہ خدا کیلئے آپ نے جن وعدوں پر ہم سے ووٹ لئے ہیں انہیں ہر ممکن پورا کریں۔ ہم نے پیٹ پر پتھر بھی باندھ لئے ہیں، آپ کے کہنے کے مطابق مشکلات برداشت بھی کر رہے ہیں۔ ہم ریاست مدینہ میں رہنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن ہماری برداشت کی حد ختم ہونے سے پہلے عدل و انصاف دلا دیجئے گاورنہ پھر کچھ بھی نہیں بچے گا۔