نواز شریف کی پراسرار بیماری نے عمران حکومت کو دیوار سے لگادیا ہے
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 25 / اکتوبر / 2019
- 6240
وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں سات رکنی سرکاری وفد نے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ تاہم اپوزیشن بدستور وزیر اعظم عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ حکومت کے وفد کا کہنا ہے کہ استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عمران خان خود بھی واضح کرچکے ہیں کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔ دونوں طرف کے وفود میں پارٹیوں کے سربراہان شامل نہیں ہیں۔ مذاکراتی ٹیموں کو حتمی فیصلہ کے لئے بالآخر اپنی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کرنا پڑے گا۔ اس لئے فوری مفاہمت کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔
اس دوران لاہور ہائی کورٹ نے شدید علیل سابق وزیر اعظم نواز شریف کی چوہدری شوگر مل کیس میں ضمانت منظور کرلی ہے اور عمران خان کے حکم پر مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے ۔ البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے لئے ان کی بیماری اور میڈیکل چیک اپ کو عذر بنایا گیا ہے یا حکومت نے خصوصی اختیار کے تحت انسانی بنیادوں پر انہیں اپنے بیمار والد کی دیکھ بھال کے لئے ہسپتال منتقل کیا ہے۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ حکومت اس معاملے میں جان بوجھ کر صورت حال کو غیر واضح رکھنا چاہے گی تاکہ آنے والے دنوں میں سیاسی پوزیشن لینے میں آسانی رہے۔
نواز شریف لاہور ہائی کورٹ سے ریلیف ملنے پر اگرچہ نیب کی حراست سے ’آزاد‘ ہوگئے ہیں لیکن وہ بدستور العزیزیہ ریفرنس میں سزا یافتہ قیدی ہیں ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر سماعت منگل تک مؤخر کی ہے۔ اسے خالص قانونی اور عملی مشکلات کا فیصلہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ بینچ کے ججوں نے آج درخواست پر غور کے دوران یہ رائے دی تھی کہ ضمانت کا کوئی قانونی جواز تو موجود نہیں ہے لیکن طبی معاملات میں ججوں کی بجائے ڈاکٹروں کی بات حتمی حکم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی کی روشنی میں فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اس آبزرویشن کے بعد اور سروسز ہسپتال کے نمائیندہ ڈاکٹر کی اس صراحت کے بعد کہ مریض کی حالت ’خطرناک‘ ہے، اسلام ہائی کورٹ کے ججوں کو اس معاملہ کے تمام پہلوؤں سے آگاہی کے لئے مزید چار روز درکار ہیں۔ شاید اسی لئے منگل تک سماعت ملتوی کی گئی ہے۔
اسی مریض کی میڈیکل صورت حال پر غور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے بینچ نے نہ صرف فوری ریلیف دیا ہے بلکہ بیرون ملک جانے کی درخواست منظور کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے تاکہ نواز شریف اپنی مرضی سے جہاں چاہیں علاج کروالیں۔ اس کے برعکس بظاہر ایک سنگین بیماری میں مبتلا شخص کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی سست روی یا تحمل کو صرف عدالتی طریقہ کار کی مجبوری سمجھنا آسان نہیں ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ ڈاکٹروں نے نواز شریف کو جو ادویات شروع کروائی ہیں ، ان کا اثر دو سے تین روز میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹروں نے نواز شریف کو لاحق بیماری کو امیون تھرمو بوسیٹو پینک پرپورا (آئی ٹی پی) کا نام دیا ہے۔ اس بیماری میں انسانی جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہوجاتی ہے جس سے مدافعتی نظام کام کرنا بند کردیتا ہے اور جسم کے کسی بھی حصے سے خون جاری ہوسکتا ہے۔ امکان ہے کہ منگل تک اگر دواؤں نے ڈاکٹروں کی امید کے مطابق کام کرنا شروع کردیا تو اسلام آباد ہائی کورٹ کو طبی بنیاد پر ضمانت دینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
یہ مان لینا سادہ لوحی ہوگی کہ نواز شریف کی قانونی جنگ میں پیش رفت اور وزیر اعظم سمیت حکومتی نمائیندوں کی طرف سے نواز شریف کی بہترین دیکھ بھال کرنے اور اعلیٰ ترین علاج فراہم کرنے کی پیشکش کا واحد مقصد ایک انسان کی جان بچانے کی خواہش و کوشش تک محدود ہے۔ یا یہ تگ و دو صرف انسانی بنیادوں پر کی جارہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے نواز شریف کے خلاف اس قدر نفرت کا ماحول پیدا کیاہے اور ان کے خلاف الزامات کو اس قدر سنسنی خیز انداز میں عام کیا گیا ہے کہ اب مراعات دیتے ہوئے اس کی اپنی سیاست کو شدید دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے۔ عمران خان بہادری کے تمام تر دعوؤں کے باوجود یہ حوصلہ نہیں رکھتے کہ اپنے ووٹر سے کہہ سکیں کہ نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں ، وہ ملک کے ایک مقبول لیڈر ہیں اور ان کی قیاد ت میں مسلم لیگ(ن) تمام تر انتقامی کارروائیوں کے باوجود مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کررہی ہے۔ اس لئے ان کے سابقہ عہدہ اور عوامی مقبولیت کا احترام کرنا بنیادی سیاسی اخلاقیات کا تقاضہ ہے۔ بدنصیبی سے پاکستانی ووٹر کو اس طریقہ پر سوچنے کے لئے تیار نہیں کیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک طرف ہمدردی کے پیغامات دیے جارہے ہیں تو دوسری طرف حکومت کے نمائیندے شریف خاندان پر نواز شریف کی بیماری کو سیاسی رنگ دینے اور اس کا فائدہ اٹھانے کا الزام لگارہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایسی خبریں پلانٹ کروانے اور پھیلانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے کہ نواز شریف دراصل کئی ارب ڈالر دینے پر آمادہ ہوگئے ہیں ۔ اور درپردہ لوٹ کا مال واپس کرنے کی بنیاد پر ’ڈیل‘ کی جارہی ہے۔ اس قسم کی خبریں اس سے پہلے بھی پلانٹ کی جاتی رہی ہیں لیکن نواز شریف کی سنگین اور ابھی تک ناقابل علاج بیماری کی حالت میں ایسے ہتھکنڈے حکومت کی بدحواسی اور سیاسی فیس سیونگ کا بدترین نمونہ ہیں۔
نواز شریف کو نیب کی حراست میں ان کے نجی معالج کے اصرار اور انکشاف کے بعد کہ ان کی حالت خراب ہے، تین روز پہلے رات گئے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ لاہور ہائی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب کے وکیلوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہر ملزم کی زندگی اور صحت قیمتی ہے لیکن نواز شریف کے معاملہ میں نیب عملی طور سے اس طریقہ کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔ نواز شریف نیب کی حراست میں ایک پراسرار بیماری کا شکار ہوئے۔ لیکن انہیں ہسپتال لے جانے کے لئے ڈاکٹر عدنان نے دہائی دی ۔ نواز شریف کو ہسپتال لے جانے کے باوجود نیب کے نمائیندے یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ڈاکٹر عدنان کی تشخیص کردہ خون پتلا کرنے والی دوا کی وجہ سے نواز شریف کے جسم میں پلیٹ لیٹس ڈرامائی طور سے کم ہوئے تھے۔ بعد میں پنجاب حکومت کے نمائیندے بھی اس دلیل کو دہراتے رہے ۔ حالانکہ نواز شریف دل کی بیماری کا شکار ہیں اور بلڈپریشر کے مریض ہیں۔ ایسے مریض کو خون پتلا کرنے والی دوائیں مستقل طور سے استعمال کرنا ہوتی ہیں۔
نواز شریف کی موجودہ بیماری کا علاج کرنے کے لئے خصوصی طور سے کراچی سے بلائے گئے خون کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر طاہر سلطان شمسی نے البتہ اس امکان کو مسترد کیا ہے کہ نواز شریف کا عارضہ خون پتلا کرنے والی دواؤں کی وجہ سے لاحق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ مرض یا تو بچوں میں ہوتا ہے یا کینسر کے مریض اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تاہم یہ اطمینان کرلیا گیا ہے کہ نواز شریف کو کینسر نہیں ہے۔ دوران علاج ان کے جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد میں عارضی طور سے اضافہ کیا جاتا ہے لیکن وہ پھر کم ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹروں نے ابھی تک اس کی وجہ نہیں بتائی کہ مریض کے جسم میں ایسے کون سےعناصر ہیں جو پلیٹ لیٹس کو تباہ کررہے ہیں۔
امید کی جارہی ہے کہ دوائیں شروع کروانے کے بعد پلیٹ لیٹس کی تعداد کو ایک خاص سطح پر مستحکم کیاجاسکے گا۔ البتہ انصاف کا تقاضہ پورا کرنے اور شبہات کے خاتمہ کے لئے اس بات کی حتمی تحقیق ہونی چاہئے کہ نیب کی حراست میں نواز شریف کو یہ عارضہ کیسے لاحق ہؤا اور اس کا علاج کروانے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی۔ یہ سوال اس پس منظر میں بھی اہم ہوجاتا ہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے لیکن نیب نے تفتیش کے لئے انہیں اپنی حراست میں لینا اور اپنے ہیڈ کوارٹر منتقل کرنا ضروری سمجھا۔ اگر نواز شریف کے قد کاٹھ کے مقبول لیڈر کے ساتھ ایساسلوک رو ا رکھا جاسکتا ہے تو نیب کی انسان دوستی اور زیر تفتیش لوگوں سے مہذب رویوں کے دعوؤں کو قابل اعتبار نہیں ہوسکتے۔ میڈیا میں جلوہ افروز ہونے کے شوقین نیب چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال اکثر یہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔ اب انہیں خود نواز شریف کی بیماری میں نیب کے کردار کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ بتائیں کہ متعد پیچیدہ بیماریوں کا شکار نواز شریف کے ساتھ کون سا برتاؤ کیا گیا اور وہ کون سے عوامل تھے جن کی وجہ سے ایک پراسرار بیماری کے آخری اسٹیج پر ذاتی معالج کی وارننگ پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
موجودہ سیاسی تناظر میں عمران خان کے لئے نواز شریف کی زندگی شاید ان کے اہل خاندان سے بھی زیادہ قیمتی ہوچکی ہے۔ اگر خدانخواستہ نواز شریف کو کچھ ہوتا ہے تو ان کے ساتھ روا رکھے جانے والی بدسلوکی اور ان کے خلاف کی جانے والی بدزبانی کی روشنی میں عمران خان اور ان کی حکومت پر ہی اس کی ذمہ داری عائد ہوگی۔ نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کی خبروں میں حکومت کے کردار کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی لئے جعلی خبروں کے ذریعے اب لوگوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ’چور‘ سے لوٹ کا مال واپس لیاجارہا ہے۔ اگرچہ نواز شریف کے بیرون ملک علاج کا آپشن موجود ہے لیکن نواز شریف ابھی تک اس کی مزاحمت کررہے ہیں۔
نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنا حکومت کی ضرورت ہے ، نواز شریف کی مجبوری نہیں ہے۔ عمران خان جانتے ہیں کہ زیر حراست نواز شریف کو کوئی گزند پہنچی تو وہ عوام کے غم و غصہ کا جواب نہیں دے سکیں گے۔ ان کی دلی خواہش ہوگی کہ کسی طرح وہ ملک سے باہر چلے جائیں تاکہ ایک تو براہ راست ذمہ داری سے گلوخلاصی ہوجائے ، دوسرے اسے سیاسی طور پر استعمال کرکے نواز شریف کی سیاسی مقبولیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ حکومت کو ایک طرف مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کا خوف لاحق ہے تو دوسری طرف نواز شریف کی اچانک سنگین بیماری نے اس کے سیاسی آپشنز محدود کردیے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت گھمنڈ ترک کرکے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں یہی رویہ سب سے بڑی رکاوٹ بنے گا۔ ملک کو بڑے انتشار سے بچانے کے لئے اپوزیشن کو وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ ترک کردینا چاہئے لیکن حکومت کو بھی واضح کرنا ہوگا کہ وہ اپوزیشن کو کون سی سیاسی مراعات دے گی۔ ان مذاکرات میں اگر پارلیمنٹ کو فعال اور فیصلوں کا حتمی ادارہ بنانے پر اتفاق کرلیا جائے تو کئی قدم پیچھے جاتے ہوئے ملک کو ایک قدم آگے لےجانا ممکن ہے۔