اقوام متحدہ، امریکا کا پاک بھارت تنازعہ مذاکرات سے حل کرنے پر زور

  • ہفتہ 26 / اکتوبر / 2019
  • 4490

اقوام متحدہ اور امریکا نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ دونوں جوہری ممالک مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

امریکا کی قائم مقام اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوب وسطی ایشیا ایلس ویلز نے کہا کہ ’جب دو جوہری ریاستیں آمنے سامنے ہوں تو رابطے بحال کرنے کے لیے تمام ممنکہ وسائل استعمال کرنے ضرورت ہے‘۔  انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کا نظام اور کرفیو ہٹانے کے لیے روڈ میپ فراہم کرے۔

امریکی حکام کی جانب سے بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی بحال کرنا کا مطالبہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکی کانگرس میں متعدد قانون سازوں نے وادی میں بھارتی فورسز کے غیر انسانی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ جنرل سیکریٹری انتونیو گوتیرس کو یقین ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات انتہائی ضروری ہیں۔ اقوام متحدہ اس سلسلہ میں دونوں ممالک کی مدد کے لیے تیار ہے۔

بھارت  مسلسل ثالثی کی پیشکش کو مسترد کرتا ہے اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے بھی انکار کرتا ہے۔ واشنگٹن نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے امریکی ثالثی پر انکار کے باوجود امریکی صدر مقبوضہ کشمیر کا پر امن حل تلاش کرنے پر زور دیتے رہیں گے۔  امریکی حکام کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا مذاکرات کے لیے پرجوش نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے مابین مثبت مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیے۔

اسسٹنٹ سیکریٹری ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ ’ ہم مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی بحال کرنے اور قید کیے گئے افراد کی رہائی کے لیے زور دیتے رہیں گے۔ لیکن سب سے زیادہ ضروری ہے کہ سیاسی اور اقتصادی زندگی کو بحال کرنے کے لیے روڈ میپ دیا جائے'۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں کی گرفتاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ لشکرطیبہ، جیش محمد اور حزب المجاہدین جیسے گروپس ایک مسئلہ ہے کیونکہ یہ پاک بھارت مذاکرات کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ستمبر میں دیے جانے والے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جو کوئی پاکستان سے مقبوضہ کشمیر میں لڑائی کی نیت سے جائے وہ کشمیریوں اور پاکستان کا دشمن ہوگا‘۔

واضح رہے کہ 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق صدارتی فرمان جاری کیا تھا۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد وادی میں مزاحمت کو روکنے کے لیے مکمل سیکیورٹی لاک ڈاؤن کردیا گیا تھا۔ اور مواصلاتی نظام بھی معطل کردیا تھا۔ اب تک مقبوضہ وادی میں ہزاروں افراد کو، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں، حراست میں لیا جا چکا ہے۔