نواز شریف کو انجائنا کی شدید تکلیف، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی فوری سماعت
- ہفتہ 26 / اکتوبر / 2019
- 5750
لاہور کے سروسز ہسپتال میں زیر علاج مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ کے سربراہ نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کو ہفتے کی صبح انجائنا کا اٹیک ہوا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کے وکیل نے بتایا ہے کہ انہیں دل کا ہلکا دورہ پڑا ہے۔
البتہ سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس آئی ایم ایس) کے پرنسپل ڈاکٹر محمود ایاز نے اس اطلاع کی تردید کی کہ نواز شریف کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے علاج میں آئی وی آئی انجیکشن کا کورس جاری ہے اور روزانہ 16 انجیکشن دیے جارہے ہیں جس سے ان کے پلیٹلیٹس کی تعداد بڑھ کر 40 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کو آج صبح انجائنا کا اٹیک ہوا جس کے باعث خون پتلا کرنے والی ادویات دینا شروع کردی گئی ہیں تاہم وینٹیلیٹر یا آکسیجن کی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نواز شریف کی صورتحال بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔
25 اکتوبر کو نواز شریف کے علاج کے لیے کراچی سے خصوصی طور پر لاہور پہنچنے والے ماہِر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا تھا کہ نواز شریف کو کینسر نہیں ہے اور ان کا مرض قابل علاج ہے۔ ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا تھا کہ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ نواز شریف کی بیماری کی تشخیص ہوگئی ہے۔ ان کی بیماری کا نام ایکیوٹ امیون تھرمبو سائیٹوپینیا (آئی ٹی پی) ہے۔ یہ مرض عموماً بچوں میں ہوتا ہے لیکن کچھ کیسز میں بڑی عمر کے لوگوں کو بھی لاحق ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا تھا کہ اس مرض کا علاج اسٹیریرائیڈز اور آئی وی آئی جی انجیکشنز میں سے کسی ایک دوا سے ممکن ہوتا ہے۔ عام طور پر ادویات دینے کے 4 سے 5 روز بعد پلیٹلیٹس کی بحالی شروع ہو جاتی ہے۔ آئی وی آئی جی انجیکشن ملنے کے 10 تا 12دن بعد پلیٹلیٹس تقریبا نارمل ہو جاتے ہیں اور پلیٹلیٹس کی سطح مناسب رکھنے کے لیے دوا کا استعمال 6 ماہ سے ایک سال تک جاری رکھنا پڑتا ہے۔
21 اکتوبر کو نیب ہیڈ کوارٹر لاہور میں زیر حراست نواز شریف کی صحت اچانک خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد کے پلیٹلیٹس خطرناک حد تک کم ہو گئے تھے جس کے بعد انہیں ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی گئی تھی۔
سابق وزیر اعظم کے چیک اپ کے لیے ہسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹر محمود ایاز کر رہے ہیں جبکہ اس بورڈ میں سینئر میڈیکل اسپیشلسٹ گیسٹروم انٹرولوجسٹ، انیستھیزیا اور فزیشن بھی شامل ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ روز چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی ضمانت لے لی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعہ کو العزیزیہ کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت منگل تک ملتوی کردی تھی لیکن نواز شریف کی تشویشناک حالت کی وجہ سے عدالت آج اس معاملہ کی دوبارہ سماعت کررہی ہے۔