جے یو آئی کے مرکزی رہنما مفتی کفایت اللہ اسلام آباد سے گرفتار

  • اتوار 27 / اکتوبر / 2019
  • 4800

پولیس نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اہم اور مرکزی رہنما مفتی کفایت اللہ کو آزادی مارچ کے حق میں اشتعال انگریز تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

مانسہرہ کے ضلعی پولیس افسر نے مفتی کفایت اللہ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز ریلی میں لوگوں کو آزادی مارچ میں شرکت کے لیے اکسایا، کارنر میٹنگز کی اور چندہ جمع کیا تھا۔ جے یو آئی (ف) نے گرفتاری کی  تصدیق کی ہے۔  

مفتی کفایت اللہ کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت گرفتار کرکے ہری پور جیل منتقل کیا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری سے متعلق خبروں کی تردید کی۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے کسی بھی قسم کی گرفتاری کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری کے لیے کہیں چھاپہ نہیں مارا اور نہ ہی کوئی گرفتاری کی۔

علاوہ ازیں ڈان نیوز کو ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کے دفتر سے جاری نوٹی فکیشن کا عکس حاصل ہوا ہے جو گزشتہ روز جاری کیا گیا تھا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ضلعی پولیس افسر کی جانب سے مطلع کیا گیا تھا کہ جے یو آئی (ف) کے ضلعی امیر مفتی کفایت اللہ عوامی املاک اور امن و امان کے لیے خطرہ ہیں۔ نوٹی فکیشن میں ہدایت کی گئی تھی کہ ضلع میں بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت کی وجہ سے ڈی پی او مانسہرہ کی جانب سے مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری عمل میں لائی جائے۔

ڈی پی او مانسہرہ نے متعلقہ حکام سے درخواست کی تھی کہ وہ مفتی کفایت اللہ کی مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کریں۔  نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپی پی او کیپٹن (ر) اورنگزیب حیدر خان نے پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری کی اجازت دی، جس کے تحت انہیں ہری پور سینٹرل جیل میں 30 روز کے لیے حراست میں لیا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ جے یو آئی (ف) نے آج (27 اکتوبر) سے حکومت مخالف مارچ کا آغاز کیا ہے۔ 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکا جمع ہوں گے۔