مولانا فضل الرحمٰن نے کراچی سے آزادی مارچ کا آغاز کردیا
- اتوار 27 / اکتوبر / 2019
- 5120
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کراچی سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف آزادی مارچ کا آغاز کردیا ہے۔ آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم بھارت سمیت دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم ایک پیج پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بھی کچھ کوتاہیاں ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے حکمرانوں نے نامعلوم کس مصلحت کے تحت کشمیر کا سودا کیا۔ آزادی مارچ کا آغاز کراچی میں سہراب گوٹھ سے ہوا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم کشمیر سے متعلق پاکستان کے حکمرانوں کے خفیہ معاہدے اور کشمیر کے سودے کے فیصلے کو قبول نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج پورے ملک میں مقبوضہ کشمیر سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جارہا ہے۔
مولانا فضل ارحمٰن نے کہا کہ اسی دن 1947 کو بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا لیکن آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک ان کے لیے بیس کمیپ کا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں سے کشمیر میں ہونے والے مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایک قوم کی آزادی چھین کر اس پر قدغن لگا رہے ہیں، ہم اس پر خاموش نہیں رہیں گے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے علاوہ آزادی مارچ کے جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنان نے بھی شرکت کی۔
کراچی سے آزادی مارچ سکھر پہنچے گا جس کے بعد وہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے گا۔ آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ قافلہ اسلام آباد کی طرف چلے گا، اس قافلے کا آغاز ہوگیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پورے ملک سے قافلے جمع ہورہےہیں اور 31 اکتوبر کو آزادی مارچ اسلام آباد میں داخل ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم ہم سے این آر او لینے آئی تھی، ہم نے اس کو مسترد کردیا۔ جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر اسلام کا پرچم لہرائیں گے اور وزیر اعظم عمران خان کو ہر حال استعفی دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستانی عدلیہ کے فیصلے کو قبول کیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے، 25 جولائی کے جعلی انتخابات اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعت کے سربراہ کا آزادی مارچ کو منعقد کرنے کا مقصد وزیراعظم سے استعفیٰ لینا ہے کیونکہ ان کے بقول عمران خان جعلی انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'حکمران کہتے تھے کہ زیادہ لوگ اسلام آباد آجائیں تو استعفی دے دوں گا، کراچی والوں کا مجمع دیکھ لو اور دے دو استعفی'۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی داد دیتا ہوں کہ انہوں نے یکجہتی کا ثبوت دیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے حافظ حمد اللّہ کی پاکستانی شہریت ختم کرنے کو حکومت کی انتقامی کارروائی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حافظ حمد اللّہ کے خلاف فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور مفتی کفایت اللہ کو قید کرلیا تاکہ ہماری صفوں میں اشتعال پیدا کریں لیکن ہم مثبت سیاست کے حامی ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے پوری زندگی ملکی آئین کی وفاداری میں گزاری ہے اور شدت پسندوں کا مقابلہ کیا۔ انشا اللّہ یہ حرکتیں حکومت کے گلے پڑیں گی اور دیکھ لو سندھ باب الاسلام سے ہم نے اہنے سفر کا آغاز کردیا
۔ سابق چیئرمین سینیٹ و پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے اراکین و کارکنان آزادی مارچ کا ہر جگہ استقبال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت پر مارچ میں شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تاریخی دن ہے وہ اس لحاظ سے کہ کشمیر کے عوام سے یکجھتی کا دن منارہے ہیں۔ مودی سرکار کشمیر میں قابض اور جیلیں عقوبت خانے بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کا کہا کہ کشمیر میں اتنا ظلم ہورہا ہے، آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے مسلم امہ خاموش ہے۔
آزادی مارچ کے سلسلہ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک معاہدہ کے تحت منتظمین نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل نہ ہونے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم حکومت نے بھی یقین دلایا ہے کہ مارچ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کی جائیں گی۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جمعیت علمائے اسلام اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آزادی مارچ کا آغاز ہوگیا۔ کوئٹہ سے آزادی مارچ کی قیادت جے یو آئی (ف) کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کی۔