حافظ حمداللہ کی شہریت، آزادی اظہار اور آزادی مارچ
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 27 / اکتوبر / 2019
- 5670
پاکستان حیرتوں کا سمندر ہے۔ غوطہ لگائیے اس کی تہہ سے ایک سے ایک آبدار موتی برآمد ہوگا۔ ان میں سے ایک اگر نواز شریف کی ضمانت کامعاملہ ہے تو دوسری طرف ساہیوال سانحہ میں بری ہونے والے جری پولیس افسر اور اہلکار، جنہیں بالآخر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایک ’جھوٹےالزام‘ سے باعزت بری کیا ہے ۔
چھے برس تک ملک کی سینیٹ کے رکن اور چار برس تک بلوچستان کے وزیر رہنے والے حافظ حمداللہ کو اگرشہریت سے محروم کیا جاتا ہے تو اس آزاد اور خود مختار ملک کے آزاد میڈیا کو کنٹرول کرنے والا ادارہ پیمرا اس کا اعلان کرنے پر مامور ہوتا ہے۔ اس ملک کا جج حکومت کے خلاف غصہ نکالنے کے لئے صحافیوں کو توہین عدالت کے شبہ میں طلب کرتا ہے ۔ جج میڈیا کو کوسنا چاہتے ہوں تو اس کے لئے پیمرا کو ڈھال بنالیا جاتا ہے۔ ہفتے کے دوران آزادی رائے پر لیکچر دینے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ ہفتہ کے روز پیمرا کو اس لئے ڈانٹ ڈپٹ پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ وہ میڈیا کو لگام دینے میں ناکام ہے ۔ پوچھا جاتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ملک کے ٹیلی ویثرن اسٹیشنوں کو عدلیہ، وزیر اعظم اور مسلح افواج کے خلاف غلط اور بے بنیاد خبریں نشر کرنے کی کھلی چھٹی ہے۔ جب صحافی بتاتا ہے کہ اس ملک کے مسائل کی ذمہ داری میڈیا اور صحافی پر نہیں ڈالی جاسکتی تو وہی چیف جسٹس بڑے رسان سے فرماتے ہیں کہ وہ میڈیا کی نہیں ، پیمرا کی بات کررہے ہیں۔
اس سال جنوری میں پیش آنے والاساہیوال سانحہ کس پاکستانی کو یاد نہیں ہوگا۔ ان معصوم بچوں کی مظلومیت جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے ماں باپ اور بہن کو اندھا دھند گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ اور نئے پاکستان کی بنیاد رکھنے والے وزیر اعظم کا وعدہ کہ قصور واروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انسداد دہشت گردی جج نے تو اینٹی ٹیرر پولیس کے اہلکاروں کو ’بری‘ کرنے کا فیصلہ گزشتہ ہفتے کے دوران کیا ہے لیکن پنجاب حکومت کی پھرتیوں اور فائرنگ کا نشانہ بننے والی کار میں ایک دہشت گرد کا سراغ لگانے والے وزیر قانون راجہ بشارت کے پیش کردہ ’ٹھوس ‘ثبوتوں کے بعد اس بات کا کون سا امکان باقی رہ گیا تھا کہ انصاف کی مسند پر بیٹھے جج کو پولیس اہلکاروں کے ہاتھ پر کسی بے گناہ کا خون مل جاتا؟ پنجاب کے صوفی منش اور عوامی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور ملک کے انصاف پسند اور مدینہ ریاست کے داعی وزیر اعظم عمران خان کو یہ توفیق بھی نہیں ہوئی کہ وہ مظلوم بچوں کے گھر جاکر ان کے سر پر ہاتھ رکھتے اور ریاست کی ناکامی کا اعتراف کرتے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو کوئی عینی شاہد نہیں ملا، کوئی ایسا گواہ پیش نہیں ہؤا جو قاتلوں کو پہچان سکے اور پولیس کے اسلحہ خانہ کا ریکارڈ یہ بتا رہاہے کہ’ معصوم‘ پولیس اہلکاروں پر جو کارتوس چلانے کا الزام عائد کیا جارہا ہے وہ تو اسلحہ خانہ سے جاری ہی نہیں ہوئے تھے۔ اب عدالت ایک بچے کے اخباری بیان اور چند سوشل میڈیا فوٹیج کی بنیاد پر تو ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو قصور وار نہیں مان سکتی جنہیں خاص طور سے ’دہشت گردوں‘ کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ پنجاب حکومت نے اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن عدالت عالیہ میں انصاف کی میزان پکڑے جج بھی تو وہی ثبوت مانگیں گے جو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں طلب کئے گئے تھے۔ ثبوت جمع کرنے کا ذمہ دار ادارہ ہی جب انہیں تلف کرنے اور غلطی کا اعتراف کرنے پر راضی نہ ہو تو عدالتیں کیا کریں گی۔ پولیس گردی کے خلاف انتخابی مہم استوار کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت ہی جب پولیس کے سامنے لاچار ہے تو عدالت سے شکوہ کون کرے۔
حافظ حمدللہ چھے برس تک ملک کی سینیٹ کے رکن رہے۔ کتنے ہی قانون ہوں گے جن کو منظور کروانے میں ان کی رائے بھی شامل رہی ہوگی۔ چار برس تک وہ بلوچستان میں وزیر صحت کے عہدے پر فائز رہے ۔اس حیثیت میں انہوں نے انسانوں کی زندگیوں کی حفاظت کے بارے میں اہم اور ناقابل تنسیخ فیصلے کئے ہوں گے۔ وہ گزشتہ ایک دہائی سے ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں ’دہاڑتے‘ رہے ہیں ۔ کبھی کسی پروگرام میں شریک خاتون پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی اور کبھی کسی بحث میں شریک سیاسی نمائیندے کی زبان کاٹ لینے کی دھمکی دی لیکن قانون، حکومت یا عدالت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
پھر اسلام آباد میں اکتوبر کے ایک روشن دن نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن (نادرا) کے کسی افسر پر یہ حقیقت اسی دن کی طرح منکشف ہوتی ہے کہ یہ شخص تو ’اجنبی‘ یعنی غیر ملکی ہے اور دھوکہ دہی سے پاکستان کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ لینے میں کامیاب ہوگیا۔ قومی مفاد پر حملہ آور اس اجنبی سے جان چھڑانے کا آسان ترین طریقہ یہی سمجھا گیا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی (پیمرا) کو اس انہونی سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ ایک ایسے شخص کو عوام کو گمراہ کرنے سے روکنے کا اہتمام کرے جو غیر ملکی ہوتے ہوئے پاکستانی ہونے کا ڈھونگ کرتا رہا ہے۔
پیمرا یہ اطلاع ملنے پر فرض منصبی سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ملک بھر کے ٹیلی ویژن اسٹیشنوں کو متنبہ کرتا ہے کہ حافظ حمداللہ صبور نامی غیرملکی کو پاکستانی پروگراموں میں شرکت کی اجازت نہ دی جائے ورنہ قومی مفاد کا سودا ہوجائے گا اور قومی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اور اس کی تمام تر ذمہ داری اس ٹاک شو یا میڈیا ہاؤس پر عائد ہوگی جو ایسے خطرناک غیر ملکی کو پروگرام میں شرکت کی دعوت دے گا۔
سرکاری اداروں کی پھرتی اور مستعدی کے بارے میں یہ بات البتہ عام شہری کو سمجھ نہیں آئے گی کہ اگر حافظ حمدللہ نام کا کوئی شخص ’اجنبی‘ ثابت ہوجاتا ہے اور نادرا اس بارے میں ’ٹھوس ‘ ثبوت جمع کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا تاکہ اس غیر ملکی کی پاکستان دشمن سرگرمیوں کو روک سکے تو اس نے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے پیمرا کو مطلع کرنے سے پہلے عوام الناس کو بتانے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی کہ کون سا شخص پاکستانی کے بھیس میں ان کے ساتھ دھوکہ کرتا رہا ہے؟
حافظ حمدللہ اب میڈیا کو بتا رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان پاکستانی ہے۔ ان کے والد پاکستانی تھےاور حکومت پاکستان کے تنخواہ دار ملازم رہے تھے۔ وہ خود پاکستان ہی کے علاقے میں پروان چڑھے تھے لیکن نادرا نے ان سے براہ راست یہ سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ 31 اکتوبر قریب آرہا تھا اور حافظ حمدللہ کے قائد مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ سر پر کھڑا تھا۔ اس سے پہلے کوئی ایسا انتظام کرنا ضروری تھا کہ مولانا حکومت کو ہراساں کرنے سے پہلے خود پریشان ہوجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ مفتی کفایت اللہ کو لوگوں آزادی مارچ میں شرکت پر اکسانے کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔
اگر آزادی مارچ کے لئے لوگوں کو آمادہ کرنا قابل دست اندازی پولیس جرم ہے تو وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کرنے والی سرکاری کمیٹی کے سب ارکان کو بھی پکڑا جائے۔ انہوں نے ایک روز پہلے آزادی مارچ کو اسلام آباد تک آنے کا عہد کرکے اس احتجاج کو قانونی قرار دینے کی کوشش کی ہے ۔ یہ اعتراف بھی حکومت مخالف احتجاج میں شرکت کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہی کے مترادف ہے۔ ہوسکے تو مستعد پولیس افسر وزیر اعظم عمران خان سے بھی تفتیش کرلیں کہ انہوں نے آزادی مارچ کو کس طرح جائز جمہوری حق قرار دیا ہے۔
ایسا کرتے ہوئے پولیس افسر خاطر جمع رکھیں۔ عمران خان مدینہ ریاست کے داعی ہیں ۔ وہ خود پر لگنے والے الزام کا جواب دینے کےلئے، طلب کرنے پر سر کے بل تھانے آکر وضاحت پیش کریں گے۔ وہ دن گئے جب وہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر تھانے پر حملہ کرکے اپنے حامیوں کو چھڑا لیتے تھے۔ اس وقت ملک میں مدینہ ریاست قائم نہیں ہوئی تھی۔ جو بفضل تعالیٰ عمران خان کی قیادت میں قائم کی جاچکی ہے۔
بدھ کے روز مولانا فضل الرحمان کی نیوز کوریج پر پابندی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ ریاست کو تنقید کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے ریمارکس دیے تھے کہ ’ نکتہ چینی ہی کے ذریعے ریاست کے اختیار کی نگرانی ہوسکتی ہے۔ عدالتوں کے خلاف بھی متنازعہ بیان جاری ہوتے ہیں۔ عدالتیں کسی کو آزادی رائے سے کیوں روکیں؟ ملک میں اظہار کی آزادی ہونی چاہئے۔ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ آخر کتنے لوگوں کو بات کرنے سے روکا جاسکتا ہے؟‘
آزادی کی یہ سہانی باتیں کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ کو علم نہیں تھا کہ تین روز بعد نواز شریف کی طبیعت اس قدر بگڑ جائے گی کہ شہباز شریف کا وکیل لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کی مثال اور میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر فوری ضمانت کی درخواست دائر کرے گا اور چیف جسٹس کو ڈویژن بینچ کے ایک جج کی غیر موجودگی میں خود اس درخواست کی سماعت کرنا پڑے گی۔ ہفتہ کو اس درخواست پر سماعت کے دوران عدالت عالیہ کے ججوں نے وفاقی یا صوبائی حکومت کو نواز شریف کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ۔ پھر پانچ اینکرز کو طلب کرکے انصاف کی میزان میں عدم توازن کا کچھ ملبہ میڈیا پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ کئی گھنٹے کی سعی لاحاصل کے بعد ہائی کورٹ کو چار روز کی عبوری ضمانت منظور کرنا پڑی۔
جس ڈیل کی گونج پر جسٹس اطہر من اللہ نے صحافیوں کو طلب کیا تھا، وہ بدستور ملک کی فضاؤں میں سیاسی ماحول کو آلودہ کئے ہوئے ہے۔ نکتہ چینی کے احترام کے بارے میں دیے گئے لیکچر کی زندگی صرف تین مختصر دن پر محیط تھی۔ ہفتہ کو میڈیا کی خیال آرائیاں اس قدر ’تکلیف دہ ‘ ہو چکی تھیں کہ جسٹس اطہر من اللہ کو یہ بھولنا پڑا کہ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، عدالت کس کس کی زبان پکڑے گی۔ ہوسکے تو فرصت کے لمحات میں جسٹس صاحب ان خصوصی اخباری و ٹی وی رپورٹوں کا مطالعہ کرلیں جن میں بتایا جارہا ہے کہ نواز شریف کتنے ارب ڈالر دے کر ملک سے باہر جارہے ہیں یا یہ کہ نواز شریف نے ملک چھوڑنے سے انکار رکردیا ہے۔ اس دوران نواز شریف خود لاہور کے سروسز اسپتال میں متعدد بیماریوں سے نبرد آزما اور زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
عرض کیا کہ یہ ملک حیرت کدہ ہے۔ یہاں بوالعجبیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ حیرتوں کے اسی سفر میں نواز شریف کی زندگی کے لئے دعائیں مانگتے ملک کے طول و عرض کے لوگ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ سوچتے ہیں کہ کیا کبھی ان کی دعا بھی سنی جائے گی۔ کبھی ان کی رائے کا احترام بھی ممکن ہوگا۔ ان کے پاس تو کوئی ایسا اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی زور آور کو ’توہین آدمیت‘ کے الزام میں طلب کرسکیں۔