جمعیت علمائے اسلام کا آزادی مارچ سکھر سے ملتان کی طرف روانہ

  • سوموار 28 / اکتوبر / 2019
  • 6360

جمیعت علمائے اسلام کا آزادی مارچ سکھر سے ملتان کے لئے روانہ ہو چکا ہے۔ سکھر میں مولانا فضل الرحمٰن نے ریلی سے خطاب میں کہا کہ بھرپور اعتماد کے ساتھ آزادی مارچ آگے بڑھتا رہے گا۔ اب طبل جنگ بچ چکا، ہمیں سیاسی جنگ لڑنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ہمیں سیاسی جنگ لڑنی ہے۔ آزادی مارچ سکھر سے ملتان روانہ ہونے سے قبل جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ’میدان جنگ سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ ہوتا ہے‘۔

مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خلاف کراچی سے گزشتہ روز 'آزادی مارچ' کا آغاز کیا تھا۔  آزادی مارچ کا آغاز کراچی میں سہراب گوٹھ سے ہوا جہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے علاوہ اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

سکھر میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جب معیشت ڈوب جاتی ہیں تو ریاستوں کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ’آج ان لوگوں کی وجہ سے پاکستان کے وجود اور آئین کو خطرہ ہے‘۔  سکھر میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے آئین کو بچوں کا کھیل بنادیا۔  مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’ہم ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں‘۔  پاکستان پیپلزپارٹی کے متعدد رہنماؤں نے ریلی کی قیادت اور شرکا کو رخصت کیا۔

آزادی مارچ کے شرکا نے رات سکھر بائی پاس پر گزاری اور صبح  تک شکار پور اور لاڑکانہ سے متعدد قافلے جلوس میں شامل ہوئے۔

آزادی مارچ کا مقصد وزیراعظم سے استعفیٰ لینا ہے کیونکہ ان کے بقول عمران خان جعلی انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئے۔