انصارالاسلام پر پابندی کا نوٹیفکیشن بظاہر غیرموثر ہے: اسلام آباد ہائی کورٹ

  • سوموار 28 / اکتوبر / 2019
  • 5040

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی تنظیم انصارالاسلام پر پابندی سے متعلق ریمارکس دیے ہیں کہ میری رائے کے مطابق اس پابندی کا نوٹیفکیشن ہی غیرموثر ہے۔

عدالت نے معاملے پر وزارت داخلہ  کو کل(منگل) عدالت طلب کرلیا ہے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں بینچ نے انصار الاسلام پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ جے یو آئی(ف) کی جانب سے وکیل کامران مرتضیٰ پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انصار الاسلام پرائیویٹ ملیشیا نہیں بلکہ یہ  جمعیت علمائے اسلام (ف) کا حصہ ہے۔ اس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ پرائیویٹ ملیشیا نہیں لیکن ڈنڈے تو ہیں۔ اس پر وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ڈنڈے تو جھنڈوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اگر تو یہ لوگ سیاسی جماعت کے ممبر ہیں تو پھر تو یہ نوٹیفکیشن ہی غیرموثر ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت نے آپ کو سنا بھی نہیں؟ جس پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ وزارت داخلہ نے ہمیں سنے بغیر پابندی لگا دی۔ وکیل کے جواب پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ میری رائے کے مطابق تو یہ نوٹیفکیشن ہی غیر موثر ہے۔ جب تنظیم کا باقاعدہ وجود ہی نہیں تو اس پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پوچھا کہ خاکی وردی کے بجائے سفید پہن لیں تو پھر اس پر کیا ہوگا؟ اس پر وکیل نے کہا کہ قائداعظم کے دور سے یہ تنظیم کام کر ہی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کم از کم آپ کو حکومت پوچھ تو لیتی کہ یہ تنظیم کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ 24 اکتوبر کو وزارت داخلہ نے انصار الاسلام پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک چیز موجود ہی نہیں اس پر پابندی لگادی گئی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وزارت داخلہ نے جے یو آئی (ف) کو سنے بغیر پابندی لگائی۔ اس معاملے پر وزارت داخلہ مطمئن کرے کہ کیسے بغیر سنے پابندی لگادی۔

عدالت نے انصارالاسلام پر پابندی سے متعلق وزارت داخلہ کے افسر کو طلب کرتے ہوئے سماعت کل (29 اکتوبر) تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ 21 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم 'انصار الاسلام' پر پابندی عائد کردی تھی۔

کابینہ ڈویژن کے ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے انصار الاسلام پر پابندی کی منظوری دی تھی اور کابینہ ارکان سے تنظیم پر پابندی کی منظوری بذریعہ سرکولیشن لی گئی تھی۔