کسی کی زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتا: عمران خان

  • سوموار 28 / اکتوبر / 2019
  • 3910

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’میں تو اپنی زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتا، کسی کی جان کی ضمانت کیسے دے سکتا ہوں‘۔ ننکانہ صاحب میں گرونانک یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے مطالبے، نواز شریف کی صحت اور آزادی مارچ پر بھی اظہار خیال کیا۔

انہوں نے واضح کیا  کہ کوئی مارچ کرے یا بلیک میل کرنے کا نیا طریقہ اپنائے لیکن جب تک وہ زندہ ہیں کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزادی مارچ والے موجودہ حکومت کی کامیابی سے خوفزہ ہے۔  مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے وفاق اور صوبائی حکومت سے پوچھا ہے کہ آپ کل تک نواز شریف کی زندگی کی ضمانت دے سکتے ہیں؟  وزیراعظم نے کہا کہ ’میں تو اپنی زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتا کسی کی جان کی ضمانت کیسے دے سکتا ہوں‘۔  عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے معروف ڈاکٹروں کی جانب سے نواز شریف کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ پنجاب حکومت کی صوبائی حکومت نے سابق وزیراعظم کو بہتر علاج کی سہولت دی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ قوم بڑی قوم نہیں بن سکتی جس ملک میں طبقاتی قانون ہوگا۔ طاقتور طبقے کے لیے قانون میں گنجائش جبکہ غریب کے لیے علیحدہ قانون ہو۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست ایک سال میں نہیں بنی تھی، ایک عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی جہاں صرف قانون کی بالا دستی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’میں نے پہلی تقریر میں تمام بدعنوانوں کے اکٹھا ہونے کی پیش گوئی کی تھی کہ ایک وقت آئے گا سارے کرپٹ افراد ایک ہوجائیں گے‘۔ سب نے پہلے دن سے شرور مچا رکھا ہے کہ حکومت فیل ہوگئی جبکہ تمام عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے زبردست اصلاحات کیں۔

عمران خان نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کا مواخذہ کرلیں سب سے کم مہنگائی تحریک انصاف کے دور میں ہوئی۔  جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں ملک میں جاری آزادی مارچ سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’آزادی مارچ کا مقصد کیا ہے؟ یہ لوگ حکومت کی ناکامی پر احتجاج نہیں کررہے بلکہ تحریک انصاف کی کامیابی سے خوفزدہ ہیں‘۔