متنازعہ یورپی سیاستدانوں کا دورہ کشمیر، عالمی سطح پر امیج بہتر کرنے کی بھارتی کوشش

  • منگل 29 / اکتوبر / 2019
  • 4470

یورپی پارلیمان کے 28 ارکان پر مشتمل ایک گروپ منگل کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرے گا۔ بھارت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد غیر ملکی ممبرانِ پارلیمان کا کشمیر کا یہ پہلا دورہ ہو گا۔ تاہم یہ ارکان انتہائی دائیں بازو کے انتہاپسند گروہوں کی نمائندے ہیں اور اس دورہ کو بھارت کا پروپیگنڈا اسٹنٹ قرار دیا جارہاہے۔

کشمیر جانے والے یورپی سیاستدانوں نے پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں اور اس کو فروغ دینے والوں کے خلاف زبردست کارروائی ہونی چاہیے اور ان کو ہرگز برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

یورپی یونین کے گروپ کے ایک رکن بی این ڈن نے کہا کہ وہ وادی میں عام کشمیریوں سے ملاقات کرنے اور وہاں کے حالات جاننے کے لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل وزیر اعظم نے انہیں آرٹیکل 370 کے بارے میں بتایا لیکن وہ خود وہاں جا کر زمینی حقائق معلوم کرنا چاہتے ہیں۔

یہ دورہ شروع ہونے سے قبل ہی تنازعات کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ بھارت کی حزبِ اختلاف نے بھی اس پر سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے رہنما جے رام رمیش کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ جب انڈیا کے سیاستدانوں کو جموں اور کشمیر میں لوگوں سے نہیں ملنے دیا جا رہا تو یورپی یونین کے سیاستدانوں کو اس کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انڈیا کی پارلیمان اور جمہوریت کی توہین ہے۔

برطانیہ میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق اس کے یورپی پارلیمان کے رکن کرس ڈیوس کو انڈیا نے کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ لیکن ایک بیان میں ڈیوس نے کہا کہ جب انہوں نے زور دیا کہ وہ وہاں مقامی لوگوں سے آزادی سے بات کرنا چاہتے ہیں تو ان کے دعوت نامے کو واپس لے لیا گیا۔ اس دعویٰ کی انڈین حکام نے ابھی تک تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

کرس ڈیوس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں مودی حکومت کے لیے تعلقات عامہ بہتر کرنے کی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں ہوں اور نہ ہی یہ دکھانے کے لیے کہ سب ٹھیک ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ کشمیر میں جمہوری اصولوں کو توڑا گیا ہے اور دنیا کو اس کا نوٹس لینا ہو گا۔‘

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد وادی میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وادی میں سیکشن 144 نافذ ہے۔ اکثر بڑے کشمیری رہنما یا تو اپنے گھروں میں نظربند ہیں یا جیلوں میں قید ہیں۔ لوگوں میں حکومت کے اس یکطرفہ فیصلے کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔

بھارت پہنچنے والے یورپئین ارکان پارلیمنٹ کا تعلق سخت گیر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعتوں  سے ہے۔ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کریں گے۔ 5 اگست کے بھارتی حکومت کے یک طرفہ فیصلے کے بعد کسی بھی بین الاقوامی وفد کا پہلا دورہ ہوگا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سخت گیر نظریات کی حامل جماعتوں کے وفد کے دورے کو بھارتی حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ یورپی یونین کی پارلیمنٹ اور یونین کے رہنماؤں کا اس دورے سے تعلق نہیں ہے جس کے باعث سفارتی سطح پر شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے۔ نئی دہلی میں یورپی یونین کے کئی رکن ممالک کے سفارت خانے ایک روز پہلے تک اس دورے سے لاعلم تھے۔