اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی سزا 8 ہفتے کے لئے معطل کردی
- منگل 29 / اکتوبر / 2019
- 4540
اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی 8 ہفتے کے لیے سزا معطل کردی ہے۔ ان کی عبوری ضمانت منظور کرلی گئی ہے۔
اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت پر طویل سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ 26 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ کیس میں نواز شریف کی منگل تک عبوری ضمانت منظور کی تھی۔ آج جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نواز شریف کی درخواست ضمانت سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان، قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم اور دیگر مسلم لیگ(ن) کے رہنما عدالت میں موجود رہے۔
جسٹس عامر فاروق نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ جیلوں میں جو لوگ بیمار ہیں ان کی فہرست تیار کریں اور سیکشن 440 کے تحت انہیں خود بھی چھوڑا جاسکتا ہے۔ اس پر عثمان بزدار نے کہا کہ میں خود بھی وکیل ہوں۔ میں جہاں بھی جاتا ہوں جیل کا دورہ کرتا ہوں۔ اب تک 6 سو قیدیوں کو رہا کیا ہے۔ عثمان بزدار نے بتایا کہ اپنے اختیارات کا بھی استعمال کر رہے ہیں جبکہ جیل اصلاحات بھی لارہے ہیں۔ جیلوں کو ٹھیک کرنے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں نواز شریف کو بہتر طبی سہولیات دی جارہی ہیں، نوازشریف کا معاملہ نیب کا تھا مگر ہم نے پھر بھی خیال رکھا اور انتہائی پروفیشنل ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔
ڈاکٹروں نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کو دل سمیت بہت سی بیماریاں ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف کو علاج کے دوران ہی ہارٹ اٹیک ہوا ہے؟ جس پر ڈاکٹروں نے جواب دیا کہ دوران علاج ہی ان کو دل کا دورہ پڑا، جس پر جج نے پوچھا کہ کیا وہ ہسپتال میں رہے بغیر بہتر ہو سکتے ہیں۔ اس پر جواب دیا گیا کہ نہیں ان کو لمحہ بہ لمحہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔
نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے بتایا کہ نواز شریف کو زندگی بچانے والی ادویات کی ضرورت ہے۔ کراچی سے ڈاکٹر شمسی کو علاج کے لیے بلایا گیا تھا لیکن ابھی تک ہمیں یہ ہی نہیں معلوم ہو رہا کہ نوازشریف کے پلیٹلیٹس کیوں گر رہے ہیں۔ نواز شریف کی عمر 70 سال ہے اور ان کو عارضہ قلب بھی لاحق ہے۔ وہ آج تک غیرمستحکم ہیں۔ میں نے آج تک کبھی ان کی اتنی تشویشناک حالت نہیں دیکھی۔ کل رات کھانے کے بعد بلڈ پریشر بھی شوٹ کر گیا تھا۔ وہ اپنی زندگی سے جنگ لڑرہے ہیں
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ 25 اکتوبر کی ہے۔ پلیٹلیٹس اس وقت بھی مصنوعی طریقے سے بڑھائے گئے ہیں، قدرتی طور پر ان کے پلیٹلیٹس بڑھ نہیں رہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کہ ابھی تک کے علاج سے آپ مطمئن ہیں؟، جس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ ہم میڈیکل بورڈ کے علاج سے مطمئن نہیں ہیں۔ میڈیکل بورڈ خود اپنی رپورٹ میں کہہ رہا ہے کہ ہم سے مریج سنبھل نہیں رہا۔
خواجہ حارث نے میڈیکل رپورٹ کے اقتسابات پیش کیے اور بتایا کہ نواز شریف کے انجائنا کی وجہ سے تمام بیماریوں کا علاج بیک وقت ممکن نہیں۔ 26 اکتوبر کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق نواز شریف کا دل مکمل طور پر خون پمپ نہیں کررہا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کو ایک چھت کے نیچے تمام طبی سہولیات ملنا ضروری ہیں۔ ہمیں ڈاکٹرز کی نیت و قابلیت پر شبہ نہیں مگر نتائج سے بورڈ خود مطمئن نہیں۔ اگر نوازشریف کی سزا پرعملدرآمد کرانا ہے تو اس کے لیے ان کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے موقف اختیار کیا کہ نوازشریف کو ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے علاج کرانے کی اجازت ملنی چاہیے۔ اس دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سیکشن 401 میں انتظامیہ (ایگزیکٹو) نواز شریف کو ریلیف دے سکتی ہے لیکن ایگزیکٹو اپنا کام ہی نہیں کررہی۔
جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ اسلام آباد میں سزا پانے والے قیدی جیل جائیں تو ان کی کسٹڈی کو کون ریگولیٹ کرے گا؟ اڈیالہ جیل بھی پنجاب میں ہے جبکہ کوٹ لکھپت جیل بھی اسی صوبے میں آتی ہے۔ سیکشن 401 کے تحت اگر ریلیف دینا ہو تو کون دے گا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کہ یہ بتادیں کہ نواز شریف جیل میں بیمار ہوئے تو کیا چیف کمشنر نے انہیں ہسپتال بھیجا؟ پھر تو چیف کمشنر کو بھی فریق بنانا چاہیے تھا۔
سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے نواز شریف کی درخواست ضمانت کی مخالفت سے انکار کردیا اور کہا کہ میں میرٹ پر نہیں جاؤں گا۔ نواز شریف کی حالت تشویش ناک ہے، اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ہم ضمانت دے دیں تو کتنے وقت کے لیے دیں، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ نواز شریف کو 6 ہفتوں کی ضمانت ملی تھی۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم انسانی بنیادوں پر نواز شریف کی ضمانت کی مخالفت نہیں کرتے، عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ٹائم فریم کے تحت سزا معطل کر دے، اس عرصے کے دوران نئی میڈیکل رپورٹ منگوا کر اس کا جائزہ لیا جائے۔
خیال رہے کہ 21 اکتوبر کو نواز شریف کی صحت اچانک خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد کے پلیٹلیٹس خطرناک حد تک کم ہوگئے تھے جس کے بعد انہیں ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی گئی تھیں۔
طبیعت کی ناسازی کو دیکھتے ہوئے نواز شریف کے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی ضمانت کے لیے 2 درخواستیں دائر کی تھیں۔