ملک کا مستقبل صدارتی نظام سے ہی محفوظ ہوگا

سیاست کامفہوم ہے کسی کام کوبہترین اندازسے انجام دینا۔ سیاست عربی زبان کی ڈکشنری سے آیا، جس کا مفہوم ملکی نظام، تدبیراورانتظام ہے۔ طرزحکومت اورانسانوں کوفلاح واصلاح سے نزدیک جبکہ ہرقسم کے شروراور فتنہ وفساد سے دوررکھنا سیاست ہے۔

سیاست بری نہیں سیاستدانوں کارویہ،راستہ اور ہدف اچھا یا برا ہوتا ہے۔ہمارے  سیاستدانوں کے طرزسیاست نے سیاست اورجمہوریت کورسواکردیا۔رعونت زدہ حکمران اشرافیہ کے نزدیک رعایاکسی رعایت کی مستحق نہیں۔ سیاستدانوں نے  اصولی سیاست کو نابود کردیا۔پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام بری طرح ناکام ہوگیا ہے کیونکہ پارلیمانی جمہوریت کے پیروں میں سمجھوتے کی بیڑیاں ہیں، صدارتی نظام کے بغیر ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام نہیں آئے گا۔ میں ریاست کوصدارتی طرزحکومت کی سمت بڑھتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔

عمران خان سیاست میں آنے کے 22برس بعد اقتدارمیں آئے مگر دودہائیوں کی نام نہادجدوجہد کے باوجود موصوف کو سیاست نہیں آئی،جواچھاسیاستدان نہیں وہ کامیاب حکمران نہیں بن سکتا۔موصوف کوتقریرکرناآگئی مگرسیاسی تدبیر کاہنرنہیں آیااورکپتان کوجوکام بائیس برسوں میں نہیں آیاوہ یقینا آئندہ بھی نہیں آئے گا۔ یرغمال کشمیریوں کے حق میں تقریرکافی نہیں،ان کی آبرومندانہ آزادی وآسودگی کیلئے موثرتدبیر کی ضرورت ہے۔عمران خان کاضرورت سے زیادہ بولناان کی سیاست اورہماری ریاست کیلئے مفید نہیں۔اگرہرموضوع اورمعاملے پروزیراعظم نے بولنا ہے توپھروزیریامشیراطلاعات کوکس کام کی مراعات دی جاتی ہیں۔

 عمران خان ایسا کپتان ہے جوٹیم ممبرز نہیں صرف ان کابیٹنگ آرڈر تبدیل کرکے  تبدیلی کی امید لگا ئے بیٹھا ہے۔ اقتدارمیں آنے کے بعددوچار لوگ  عمران خان کومفیدمشورے دے سکتے تھے مگرانہوں نے تخت لاہور کیلئے  بزدار  کاانتخاب کیا۔ عمران خان نے کئی باربلکہ بار بار یوٹرن لیا مگربزدارکے معاملے میں ان کاڈٹ جانا ناقابل فہم ہے۔ عنقریب انہیں اپنے اس متنازعہ فیصلے کاخمیازہ بھگتناہوگا۔میں پھرکہتاہوں عمران خان کو بیسیوں اناڑی مشیروں کی نہیں بلکہ مفید مشوروں کی ضرورت ہے جویقیناانہیں صرف اپنے اپنے شعبہ جات کے ماہرین سے ملیں گے۔کیابائیس کروڑپاکستانیوں میں بائیس ایمانداراورپروفیشنل افراد نہیں ہیں۔عمران خان نے ڈھونڈ ڈھونڈکرہراس شخص کواپنامشیربنایاجومشیر بن کرمشہورہوا مگروہ آج بھی وزیراعظم کو مشورہ نہیں دے سکتا۔

 واقعی انسان اپنی صحبت سے پہچاناجاتا ہے،جس کاحسن انتخاب بزدارہو اس کی بصیرت اورصلاحیت پرانگلیاں اٹھنا فطری امر ہے۔عمران خان کوگڈگورننس کیلئے بزدار کوہٹانااورتخت لاہور پر کسی بردبارکوبٹھاناہوگا۔آج پاکستان کے کپتان نے خودکووزیراعظم ہاؤس تک محدودبلکہ وہاں محصورکرلیا ہے۔اس وقت بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری مقروض ملک کی ضرورت ہے،وزیراعظم عمران خان کو اپنے اورسرمایہ داروں کے درمیان بیرئیر ہٹاناہوں گے۔ عمران خان اب وزیراعظم ہیں،مگرانہیں یہ بات کون سمجھائے۔ہرمقامی یابیرونی شخصیت کے ساتھ ملتے وقت کپتان کا ٹانگ پرٹانگ رکھ کربیٹھناضروری نہیں۔انہیں اس وقت تدبر کی ضرورت ہے،وہ ایساکوئی کام نہ کریں جس سے ان کی شخصیت میں کسی قسم کا تکبر جھلکتاہو۔عمران خان یادرکھیں وہ اپوزیشن رہنماؤں کی معمولی باتوں کاجواب دے کراپنانہیں ان کاسیاسی قدبڑا کرتے ہیں۔

وزیراعظم کابیانیہ اپوزیشن کے ایک ہارے ہوئے سیاستدان کوا ن کے برابر لے آیاہے۔ تعجب ہے وزیراعظم عمران خان بینظیر بھٹو کے فرزندسے بھی الجھتے ہوئے اپنامقام نہیں دیکھتے۔ ضرورت سے زیادہ غصہ بڑے بڑے حکمرانوں اورسورماؤں کوقصہ پارینہ بنادیتا ہے۔اناپرستی سے ہماری اپنی ہستی فناہوتی ہے۔عمران خان مسلسل کئی برس ایک قومی ٹیم کے ممبراورپھراس کے کپتا ن بھی رہے ہیں مگرافسوس انہیں سیاست میں ٹیم ورک  کی اہمیت کا اندازہ تک نہیں ہے۔ اگراپوزیشن قیادت پرسیاسی حملے بھی وزیراعظم خود کر یں گے توپھران کے ٹیم ممبرزکس مرض کی دوا ہیں۔ پاکستان کاوزیراعظم اپنے بھارتی ہم منصب سمیت ڈونلڈٹرمپ کوجواب د ے یاعالمی امورپرکوئی سنجیدہ بات کرے توزیادہ مناسب ہے۔

آزادملک میں چند مقیدسیاستدانوں کی رہائی کیلئے  آزادی مارچ  شاہراہوں پرآگیا ہے۔ اعلان سے اب تک اس کازوروشوربلکہ زورکی بجائے شورزیادہ تھا جبکہ اس شورمیں کپتان کے کچھ اپنے نادان بلے بازوں کی آوازاپوزیشن رہنماؤں سے زیادہ اونچی تھی۔اپوزیشن کاآزادی مارچ ارباب اقتدارواختیار کیلئے اعصابی مارچ بناہوا ہے۔آزادی مارچ  کااہم ہدف سیاسی اسیران کی رہائی یعنی آزادی قراردیاجارہا ہے۔ زندانوں کاپھاٹک کھلوانے اورنیب کاراستہ روکنے کیلئے مدارس کے معصوم طلبہ کوڈھال بناناکہاں کی سیاست اورجمہوریت ہے۔

اسلامی ریاست میں اسلام کے نام پراسلام آباد کوجام کرنے کادعویٰ ہرگز مناسب نہیں۔مسلم لیگ (ن)، پی پی پی اورجمعیت علمائے اسلا م کے اپنے اپنے مفادات جبکہ ان تینوں پارٹیوں کے سیاسی نظریات میں تضادات ہیں۔ تاہم نظریہ ضرورت نے تینوں پارٹیوں کوپی ٹی آئی حکومت کے مدمقابل لاکھڑا کیا ہے۔

ابھی مزید چندسال ملک میں آئینی تبدیلی آئے گی اورنہ مڈٹرم الیکشن ہوگا۔تاہم جے یوآئی کوآزادی مارچ کے حق میں میڈیا مہم کی زیادہ ضرورت نہیں پڑی کیونکہ سرکاری وسائل سے یہ کام پی ٹی آئی کے وفاقی وصوبائی وزراء بخوبی انجام دیتے رہے بلکہ ہنوز دے رہے ہیں۔کپتان کے نادان حامیوں کی احمقانہ تنقید نے آزادی مارچ کوزمین سے آسمان پرپہنچادیا۔آزادی مارچ کے سبب تخت اسلام آباد پربراجمان کپتان کاپریشان ہونافطری امرہے مگر بھارت کے حکمران جشن منارہے ہیں۔ بھارتی میڈیانے آزادی مارچ کو''آپریشن اسلام آباد'' کانام اور نریندرمودی کواس کاکریڈٹ دیا۔

تین ماہ بلکہ سات دہائیوں سے یرغمال کشمیریوں کی آزادی اورآسودگی کیلئے سفارتی محاذ پر سرگرم حکومت کوداخلی مسائل میں الجھاناایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔ سیاسی زورآزمائی اوراعصابی تناؤ کے بل پر عمران خان سے مستعفی ہونے کی امیدلگانا بے سودہے۔عوام ابھی تک اقوام متحدہ میں عمران خان کی شہرہ آفاق تقریر کے سحر میں گرفتار ہیں لہٰذا ابھی وہ کپتان کے خلاف کسی تحریک میں شریک نہیں ہوں گے۔ جے یوآئی نے اپناچارٹرآف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کامطالبہ کیا ہے لیکن عمران خان کسی دباؤپر مستعفی ہونا اورپیچھے ہٹنا خارج ازامکان ہے۔

ہمارے ہاں سیاست بچانے اورچمکانے کیلئے ریاست کی سا  لمیت داؤپرلگاناعام بات ہے مگر دوسرے ملکوں کے سیاستدان اپنی ریاست کے ساتھ سیاست نہیں کرتے۔جے یوآئی کے قائدین جہاں آزادی مارچ کے نام پر ریاست کی سا  لمیت کے ساتھ کھیلنے سے بازنہیں آئے وہاں انہوں نے اپناسیاسی مستقبل بھی داؤپرلگادیا ہے۔ آزادی مارچ کے تین بڑے سٹیک ہولڈرزمیں سے دو بسترمرگ پر جبکہ تیسراکردار ایوان سے باہر ہے جبکہ تینوں اندرون خانہ ایک دوسرے سے بدگمان ہیں۔اس سارے معاملے میں اپوزیشن لیڈر محمد شہبازشریف واحدسنجیدہ سیاستدان ہیں جو دوسروں کی طرح جوش میں آکرہوش کادامن ہاتھوں سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔

 حکمرا ن یادرکھیں آزادی مارچ کاآزادانہ اورآبرومندانہ اندازسے اختتام پذیرہوناان کی سیاست اورریاست کیلئے مفید ہے کیونکہ تصادم کی صورت میں اپوزیشن کاگراف اورمورال بلندہوگا۔ حکومت آزادی مارچ کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنائے کیونکہ اگرخدانخواستہ آزادی مارچ کے شرکاء کے خون سے کوئی شاہراہ سرخ ہوگئی توپھر اخبارات کی سرخیاں حکمرانوں کے قدسے بڑی ہو جائیں گی۔