پاک افغان سرحد پر جھڑپ، چھ فوجیوں سمیت نو افراد زخمی
- بدھ 30 / اکتوبر / 2019
- 4810
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا ہے کہ پاک افغان سرحد پر افغان سیکیورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے پاکستان فوج کے چھ جوانوں سمیت 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں افغان چیک پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچا۔
آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاک افغان سرحد پر افغان سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے 11 افراد میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ افغان سیکیورٹی فورسز نے صوبہ کنڑ کے ضلع ناری سے بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی اور افغان فورسز کی جانب سے مارٹر گولوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق افغان فورسز کی فائرنگ سے چترال کے سرحدی علاقے کے گاؤں اروندو میں پاکستان فوج کے چھ جوان، جب کہ خاتون سمیت 5 افراد زخمی ہوئے۔ پاک فوج نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں افغان بارڈر پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچا۔ دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان رابطے کے بعد فائرنگ رک گئی ہے۔
اس جھڑپ کے حوالے سے افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ پیر کے روز پاکستان کی طرف سے فائر کیے جانے والے مارٹر اور راکٹس کی وجہ سے کنڑ کے علاقے میں تین خواتین ہلاک ہوگئی تھیں۔ گورنر کنڑ کے ترجمان کے مطابق اس تنازع کا آغاز اتوار کے روز ہوا جب پاکستانی فوجی اہلکار سرحد کے ساتھ ملٹری تنصیبات کھڑی کر رہے تھے اور افغان حکام نے انہیں روکا۔ اس تنازع کے بعد دونوں اطراف سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں چار سویلین زخمی بھی ہوئے۔
پاکستان اور افغان سرحدی ورسز کے درمیان پہلے بھی کئی مرتبہ جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق رواں سال اپریل میں کرم ایجنسی کے علاقے میں فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں پاکستان فوج کے مطابق دو اہلکار جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل طورخم بارڈر پر بھی دو سال قبل شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئی تھیں۔