ہڑتال کے بعد حکومت نے تاجروں کے مطالبے مان لئے

  • بدھ 30 / اکتوبر / 2019
  • 5590

وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اعلان کیا ہے کہ احتجاج کرنے والے تاجروں سے مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پاگیا ہے۔

 

تاجروں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو 'کاروبار مخالف' کہتے ہوئے 29 اور 30 اکتوبر کو ملک بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی تھی۔ مشیر خزانہ نے اسلام آباد میں تاجر برادری کے نمائندوں، چیئرمین وفاقی بورڈ آف ریوینیو شبر زیدی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاجر اور وفاقی بورڈ آف ریونیو کے درمیان طے پانے والے 11 نکاتی معاہدے کی تفصیلات بتائیں۔

 

تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان معاہدہ کے مطابق 10 کروڑ تک کے ٹرن اوور والے تاجر سے 1.5 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے بجائے 0.5 فیصد ٹرن اوور ٹیکس لیا جائے گا۔ 10 کروڑ  10 کروڑ تک کے ٹرن اوور والا تاجر ودہولڈنگ ایجنٹ نہیں بنے گا۔  سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کے لیے سالانہ بجلی کے بل کی حد 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ کم منافع رکھنے والے شعبے کے ٹرن اوور ٹیکس کا تعین ازسر نو کیا جائے گا جو تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا۔ جیولرز ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر جیولرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ آڑھتیوں پر تجدید لائسنس فیس پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا۔

 

تاجروں کے مسائل کے فوری حل کے لیے ایف بی آر اسلام آباد میں خصوصی ڈیسک قائم کرے گا جس میں 20/21 گریڈ کا افسر تعینات ہوگا اور ماہانہ بنیادوں پر تاجروں کے نمائندوں سے ملاقات ہوگی۔ نئے تاجروں کی کمیٹیاں نئے رجسٹریشن کے سلسلے میں بھرپور تعاون کریں گی۔

 

ایک ہزار مربع فٹ کی کوئی بھی دکان سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن سے مستثنیٰ ہوگی اور اس کا فیصلہ تاجروں کی کمیٹی سے مشاورت سے ہوگا۔ ہول سیل اور ریٹیلرز دونوں کا کاروبار کرنے والوں کی سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کا فیصلہ تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا۔

 

شناختی کارڈ کی شرط پر خرید و فروخت پر تادیبی کارروائی 31 جنوری 2020 تک مؤخر کردی گئی ہے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ باہمی مشاورت سے ہونے والے فیصلے کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ 'حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان میں جو لوگ صاحب حیثیت ہیں وہ ٹیکس ادا کریں'۔

 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ہماری ہر پالیسی کا محور ہیں اور ہمارے تمام مقاصد اس وقت ہی پورے ہوسکتے ہیں جب ہماری معیشت بہتر ہوگی۔ معاہدے میں قومی مقاصد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہؤا بلکہ کاروباری برادری کے لیے آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔

 

اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈ کا قانون اب بھی برقرار ہے اور ابھی صرف اتنی بات ہوئی ہے کہ 31 جنوری تک کوئی تادیبی کارروائی نہیں ہوگی۔

 

چیئرمین انجمن تاجران برادری خواجہ محمد شفیق کا کہنا تھا کہ تاجر برادری گزشتہ کئی ماہ سے ہیجان کی صورتحال میں مبتلا تھی تاہم اچھے ماحول اور اچھی فضا میں ہم نے معاملات کو درست کرلیے ہیں۔