آزادی مارچ کا آج رات راولپنڈی پہنچے گا

  • بدھ 30 / اکتوبر / 2019
  • 6950

جمعیت علمائے اسلام (ف) کا حکومت مخالف آزادی مارچ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے۔ اس وقت اس کا پڑاؤ لاہور میں ہے۔ یہ جلوس آج رات تک راولپنڈی پہنچ جائے گا۔

مارچ کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں کا اجلاس بھی ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ 2 بڑے مقامات پر تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر مارچ کے لیے استقبالیہ کیمپ لگائیں گی۔

اس سلسلے میں ایک کیمپ راوت ٹی چوک جبکہ دوسرا استقبالیہ کیمپ 26 نمبر چونگی پر لگایا جائے گا اور جمعیت علمائے اسلام (ف)، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنما و کارکنان مل کر لگائیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ضلعی ترجمان حافظ ضیااللہ نے بتایا کہ جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنماؤں نے احتجاجی مارچ راولپنڈی کے مری روڈ سے ہوتا ہوا براستہ فیض آباد اسلام آباد میں داخل ہوگا۔

آزادی مارچ کے شرکا ٹی چوک اسلام آباد یا لیاقت باغ راولپنڈی میں قیام کریں گے اور آزادی مارچ کے پڑاؤ اور اسلام آباد میں داخلے کے لیے جڑواں شہروں کی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں۔

اس سے قبل مولانا فضل الرحمٰن مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اوکاڑہ پہنچے جہاں کارکنان نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ اس موقع پر علامہ راشد سومرو، ڈاکٹر عتیق الرحمٰن، علامہ ناصر سومرو اور دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ترجمان جے یو آئی نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ آزادی مارچ 30 اکتوبر کی رات تک راولپنڈی پہنچنے کی امید ہے اور راولپنڈی میں پڑاؤ کرنے کے بعد 31 اکتوبر کو اسلام آباد مین داخل ہوں گے۔

بظاہر آزادی مارچ کے شرکا کے راستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں البتہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر پیٹرولیم ڈیلرز پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ یا تو اپنے کاروبار بند رکھیں اور جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ میں شامل گاڑیوں، ٹرکوں کو ایندھن فراہم نہ کریں۔ دوسری جانب پیٹرولیم ٹینکرز ایسوسی ایشن نے بھی وعدوں کے باوجود ان کے مسائل حل نہ ہونے پر بدھ کو (آج) پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کے باعث پیٹرول پمپ پر ایندھن کا ذخیرہ تیزی سے کم ہونے کا بھی امکان ہے۔

ایک پمپ مالک نے بتایا کہ ہمیں ایندھن کا ذخیرہ سنبھال کر رکھنے کا کہا گیا ہے لیکن اب تک ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم پمپ بند کریں نہیں گے لہٰذا اگر کوئی ایندھن بھروانے آئے تو ہم منع نہیں کرسکتے کیوں کہ منع کرنے کی صورت میں اگر مارچ کے شرکا نے ہمارے پمپ پر توڑ پھوڑ کی تو کون ہماری حفاظت کرے گا۔

آزادی مارچ 29 اکتوبر کی رات لاہور پہنچا جہاں ٹھوکر نیاز بیگ پر مارچ کے شرکا کا استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر لاہور کے یتیم خانہ چوک پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے شرکا سے مختصر خطاب بھی کیا تھا۔  خطاب میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے  استقبال کرنے پر لاہور کے عوام کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ کہا کہ ’میں پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کا شکر گزار ہوں کہ وہ آزادی مارچ میں آئیں‘۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’اب بھی مہلت ہے کہ عمران خان استعفٰی دیں اور بھیانک انجام سے بچیں۔ کراچی سے اسلام آباد تک قوم یکسو ہے کہ عمران خان مستعفی ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ اب قوم عمران خان کو مزید مہلت نہیں دے گی۔ عمران خان نے ملک کی معیشت تباہ کر دی اور جب معیشت تباہ ہو جائے تو ملک اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے۔