آزادی مارچ: حکومت کے خلاف یا حاکمیت کے
- تحریر اطہر مسعود وانی
- بدھ 30 / اکتوبر / 2019
- 5470
توقع ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے مطالبے میں صوبہ سندھ سے شروع ہونے والا مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں لانگ مارچ جمعرات کو اسلام آباد پہنچے گا۔انتظامیہ کے ساتھ اتفاق کے مطابق اسلام آباد میں اتوار بازار سے ملحقہ کھلی جگہ جلسے کے لئے تیار کی جارہی ہے۔
اس حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جلسے کے بعد لانگ مارچ کے قائدین شاہراہ آئین سے منسلک پریڈ گراؤنڈ کی طرف جاتے ہیں یا نہیں۔فوج کی طرف سے عمران خان حکومت کی حمایت کے باوجود ایسا تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو بھی ان کی حمایت حاصل ہے۔گزشتہ چند دنوں سے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں گھروں کی تلاشی کی جارہی ہے۔اسلام آباد کے ایک شہری چودھری خالد عمر نے سوشل میڈیا پہ بتایا ہے کہ ” آج صبح پانچ فوجی، پانچ پولیس والے دو خواتین پولیس اہلکار میرے گھر آئے۔، فوجی بھائی دور اپنی پوزیشنز سنبھالے کھڑے تھے۔وقتی طور پر میں اپنے آپ کو کوئی مجرم تصور کرنے لگا۔ یہ جی الیون اسلام آباد میں گھر گھر تلاشی کا واقعہ ہے۔
جب انہوں نے میرے گھر کا دروازہ کھٹ کھٹایا تو میں نے ان سے نوٹیفکیشن دکھانے کو کہا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس شخص بدتمیز تھا جس نے مجھے بھی غصہ دلایا۔میں نے کہا کہ کیا آپ لوگ مولانا سے اتنا ڈر گئے ہیں کہ یہ نوبت آ گئی ہے۔ اس نے کہا نہیں ایسی بات نہیں۔ میں نے استفسار کیا تو پھر کیسی بات ہے؟جس پر مجھے کوئی جواب نہ ملا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرے بچے پولیس کا نام سن کر سہم گئے ہیں جو کہ پہلے سے بخار میں مبتلا ہیں۔ میں بھی تھوڑی دیر پہلے سویا تھا اوپر سے گھر کی تلاشی کا سن کر غصہ آ گیا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس شخص نے کہا یہ ٹرپل ون بریگیڈ کا حکم ہے۔ جس پر مجھے تعجب ہو۔ا میں نے عرض کی کہ گھر میں بچے اور خواتین ہیں۔ مرد نہیں خواتین اندر آ جائیں جس پر سادہ کپڑوں میں اور وائریس فون تھامے موصوف نے کہا نہیں مرد بھی جائیں گے۔میں نے کہا نہیں میں پھر گھر کی تلاشی نہیں دوں گا۔ کافی بحث مباحثہ کے بعد سادہ کپڑوں والے اہلکار نے میرے گھر کی تصویر اور میرا نام نوٹ کیا اور غصے سے چلے گئے۔“
سابق حکومت کے خلاف عمران خان کا لانگ مارچ اور دھرنا ملک میں فوج کی حاکمیت کو مستحکم کرنے کے لئے تھا۔اب مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اپوزیشن کا لانگ مارچ،دھرنافوج کی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف ہے۔کیا کٹھ پتلی حکومت کے خاتمے سے ملک پہ فوج کی حاکمیت میں کوئی فرق پڑے گا یا یہ عمل محض سول چہروں کی تبدیلی تک ہی محدود رہے گا ؟ گزشتہ دنوں اس طرح کی باتیں بھی زیر گردش رہیں کہ ملک کی تمام ناکامیوں کاذمہ دار قرار دیتے ہوئے فوجی حکام کی طرف سے عمران خان حکومت کی قربانی دی جا سکتی ہے۔
اس لانگ مارچ اور متوقع دھرنے سے عمران خان کی حکومت ختم ہوتی ہے یا نہیں تاہم یہ واضح ہے کہ مارچ کے شرکاء کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی حکومت کی چولیں ہل گئی ہیں۔ اور فوج کی طرف سے بھرپور حمایت کے اقدامات کے بغیر حکومت کو بچانا اور چلانا مشکل ہو جائے گا۔ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران خان حکومت کے جانے سے ملک پہ قائم فوج کی حاکمیت کی صورتحال برقرار رہے گی یا اس میں کمزوری دیکھنے میں آئے گی؟
اقتصادی پالیسی ہی نہیں بلکہ دفاع اور خارجہ امور کے حوالے سے بھی پاکستان کی خود مختاری اور اقتدار اعلی پر سوالیہ نشان لگ چکے ہیں۔نت نئے ٹیکسز اور قاتلانہ مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ملک میں معاشی سرگرمیوں کا پہیہ سست ترین رفتار میں محدود نظر آ رہا ہے۔ملک کی سلامتی اور بقاء سے مربوط مسئلہ کشمیر بھی ”کمپرو مائیز“ کی بھینٹ چڑھتے محسوس ہو رہا ہے۔
فوجی آمریت کے خلاف عوامی شعور میں بہتری آتی جا رہی ہے اور یہ عوامی مطالبہ شدت اختیار کرتاجا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کھل کر فوج کی سیاست اور حکومتی امور میں نام لے کر تنقید اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرکے باقی اپوزیشن جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جو براہ راست فوج کا نام لینے کے بجائے،خلائی مخلوق،فرشتے،حکام بالا،مقتدر ادارہ جیسی اصلاحات استعمال کرتے ہیں۔عوامی حلقوں میں یہ سوچ ہے کہ ملک میں فوج کی حاکمیت تو قائم ہے۔ عدلیہ، پارلیمنٹ، انتظامیہ،ہر ادارہ،محکمہ مغلوب و تابعدار ہے لیکن یہ تمام طریقہ کار ماورائے آئین و قانون ہے۔ پاکستان میں حاکمیت کا مسئلہ کب حل ہو گا؟ ملک ایسے ہی چلتا رہے گا یا ان سنگین عوامل کے نتائج ملک کو بھگتنا پڑیں گے؟