آئی ایم ایف کے مالی پیکیج کو ایف اے ٹی ایف پروگرام سے علیحدہ رکھا جائے: پاکستان
- جمعرات 31 / اکتوبر / 2019
- 4640
پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے 6 ارب ڈالر کے قرض کے تحت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق شرائط میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے 4 ارب ڈالر سے زائد اضافے کے لیے بانڈز کے اجرا کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
پاکستان نے رواں مالی سال میں غیر ملکی رقم کی ترسیل کے لیے بین الاقوامی مارکیٹس میں 3 ارب ڈالر کے بانڈز (450 ارب روپے) جاری کرنے کا بجٹ تیار کیا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت مقامی بینکوں سے 2 سو ارب روپے قرض لینا چاہتی ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو انسداد منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے اور ایف اے ٹی اے کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے اکتوبر 2019 تک موثر اقدامات کرنے ہیں۔ وزارت خزانہ نے ایف اے ٹی ایف کا معاملہ آئی ایم ایف کے معاشی پروگرام سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ معاملہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاسوں کے دوران اٹھایا گیا تھا۔
وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر اور فنانس سیکریٹری کامران بلوچ پر مشتمل وفد نے آئی ایم ایف کی انتظامیہ اور گورنرز سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکام نے بتایا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور جغرافیائی و سیاسی لحاظ سے اس کا معاشی تعاون پیکیج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔