تیزگام ایکسپریس میں آگ لگنے سے 75 افراد جاں بحق
- جمعرات 31 / اکتوبر / 2019
- 5350
کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے قریب گیس سلنڈر پھٹنے سے آگ لگ گئی جس سے75 افراد جاں بحق، 30 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے۔
ٹرین کو حادثہ صبح 6:15 منٹ پر پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور میں چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر پیش آیا۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ایک ویڈیو پیغام میں 64 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ جاں بحق افراد میں سے کسی کی بھی شناخت نہیں ہوسکی۔
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق آگ کی شدید تھی جس نے تیزی سے ساتھ کی بوگیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حادثے کے فوری بعد زخمیوں کو مقامی افراد کی مدد سے قریبی شیخ زید ہسپتال، بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال اور ملتان کے اٹالین برن یونٹ منتقل کیا گیا۔ ضلع بھر کے دیگر ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ آگ ٹرین کی بوگی نمبر 3 میں موجود سلنڈر پھٹنے سے لگی جس نے تیزی سے مزید 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرہ بوگیوں میں سوار مسافر رائیونڈ اجتماع میں شرکت کے لیے جارہے تھے اور آتشزدگی کی لپیٹ میں آنے والی 2 بوگیاں خصوصی طور پر بک کروائی گئی تھیں۔ متاثرہ بوگیوں میں زیادہ تر مرد حضرات سوار تھے جن کے پاس کھانا بنانے کے لیے سلنڈر بھی تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق سلنڈر پھٹنے سے ٹرین میں دھماکا ہوا جس کے آواز سن کر دیگر مسافر تخریب کاری کے خطرے کے پیشِ نظر چلتی ہوئی ٹرین سے کود گئے۔ حکام کے مطابق چلتی ٹرین سے ریلوے ٹریک کے قریب پتھروں پر کودنے کے باعث زیادہ مسافر زخمی ہوئے جن میں 3 سے 4 خواتین بھی شامل ہیں۔ حادثے کے بعد سب سے پہلے مقامی افراد نے فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ کر اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائی شروع کیں۔
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے جیو ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ 13 افراد ٹرین سے چھلانگ لگانے اور مختلف وجوہات کی بنا پر جبکہ مجموعی طور پر 64 افراد جاں بحق جبکہ 33 افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے 15 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ روپے معاوضے کا بھی اعلان کیا۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ مسافروں کا سامان چیک کرنے کی سہولت صرف بڑے اسٹیشنز پر موجود ہے۔ چھوٹے اسٹیشنز پر مسافروں کے سامان کی تلاشی لینے کا کوئی نظام نہیں۔ ریلوے میں یہ روایت موجود ہے کہ تبلیغی جماعت کے لیے امیر کے نام پر بوگی بک کرلی جاتی تھی جبکہ ہر مسافر کی تفصیلات نہیں لی جاتیں۔
انہوں نے بتایا کہ ٹرین کی اکانومی کلاس میں موجود 2 سلنڈر پھٹنے سے بوگیوں میں آگ لگی، جس پر تبلیغی جماعت کے افراد ناشتہ بنارہے تھے۔ حادثے کے سبب دیگر ٹرینوں کو ان کے قریبی اسٹیشنز پر ہی روک لیا گیا۔
دوسری جانب ریلوے حکام کے مطابق ٹرین میں سلنڈر لے جانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے اور تحقیقات کے بعد اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ کس کی غفلت کے باعث مسافر ٹرین میں سلنڈر لے کر سوار ہوئے۔ ڈویژنل کمرشل آفیسر جنید اسلم نے جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ متاثر ہونے والی 2 بوگیاں اکانومی جبکہ ایک بزنس کوچ تھی اور ایک بوگی امیر حسین جبکہ دوسری جماعت کے نام پر بک کروائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے لیے بوگیاں کسی ایک شخص کے نام پر بوگیاں بک کروالی جاتی ہیں اور باقی تفصیلات ان کے امیر کے پاس ہوتی ہیں جس کے باعث تمام مسافروں کی شناخت فراہم نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ ایک بوگی میں 78 جبکہ دوسری بوگی 77 افراد کے لیے بکنگ کروائی گئی تھی۔ بزنس کلاس بوگی میں 54 افراد کی بکنگ کروائی گئی تھی۔
حادثے کے بارے میں جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے چیئرمین ریلویز سکندر سلطان کا کہنا تھا کہ ٹرین میں سلنڈر یا مٹی کا تیل لے جانے کی اجازت نہیں۔ تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے کہ ٹرین میں مسافر سلنڈر لے کر کیسے سوار ہوئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جائے حادثہ پر ریسکیو اور ریلیف فراہم کرنے کے لیے سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کے دستے، ڈاکٹرز اور طبی عملے کو روانہ کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ شدید زخمیوں کومنتقل کرنے کے لیے ملتان سے آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر بھی روانہ کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر پیغام میں سانحہ تیزگام پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری تمام ہمدردیاں غم میں ڈوبے خاندانوں کے ساتھ ہیں اور میں زخمیوں کی جلد شفایابی کے لیے دعاگو ہوں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ حادثے کی فوری تحقیقات ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کے احکامات صادر دیے جاچکے ہیں۔