کیا مفاہمت کا راستہ ممکن ہوسکے گا؟
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 31 / اکتوبر / 2019
- 4840
پاکستان کی سیاست، سماج ا و ر معیشت کو بنیادی طو رپر مفاہمت کی سیاست ضروری ہے۔ کیونکہ سیاسی استحکام او رمفاہمت پر مبنی سیاسی استحکام کے بغیر نہ سیاست پنپ سکے گی او رنہ ہی معیشت کی ترقی یا بحالی ممکن ہوگی۔
بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست عملی طور پر انتشار، بداعتمادی، سیاسی تعصب، نفرت اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ کوئی بھی سیاسی فریق ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ایک مسئلہ حکومت او رحزب اختلاف کی قوتوں کے درمیان ہے تو دوسرا مسئلہ مجموعی طور پر سیاسی جماعتوں کے داخلی بحران کی وجہ سے افہام و تفہیم کے امکانات کا راستہ نظر نہیں آرہا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی خواہشات کے باوجود سیاسی استحکام پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔
یہ سیاسی ناکامی کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہورہی بلکہ اس کا براہ راست اثر ملک کی مجموعی ترقی، خوشحالی، استحکام اور قومی سلامتی کی کمزوری کی صورت میں ہورہا ہے۔ بحران کسی ایک فریق کا پیدا کردہ نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد حکومت یا حزب اختلاف کو انفرادی سطح پر ذمہ دارقرار دینا ہے۔ عملی طور پر ہم سب فریق اس بحران کے براہ راست ذمہ دار ہیں اور ہمارا طرز عمل مسائل کے حل کی بجائے اس میں پہلے سے موجود بگاڑ کو بڑھانے کا سبب بن رہاہے۔جب سیاست محض تنقید سے نکل کر محاذ آرائی اور ذاتیا ت پر مبنی دشمنی کی صورت میں تقویت پکڑ لے تو اس کے نتیجہ میں سیاسی استحکام کا راستہ بہت پیچھے چلا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ملک کے موجود ہ سیاسی منظر نامہ میں کوئی بڑی بہتری پیدا ہوسکے گی او رکیا ہم محاذ آرائی کا راستہ چھوڑ کر ایسے سفر کی طرف بڑھ سکیں گے جو واقعی قومی ضرورت کے زمرے میں آتا ہے۔ اس وقت تو حکومت او رحزب اختلاف دومختلف زاویوں کے ساتھ ٹکراؤکی کیفیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ حزب اختلاف کا کردار مفاہمت کا نہیں اور وہ حکومت دشمنی کے ساتھ ساتھ حکومت گراؤ کی پالیسی کو اختیار کرکے نظام او رحکومت کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔جبکہ اس کے برعکس حزب اختلاف کا موقف ہے کہ حکومت حزب اختلاف کے وجود کو قبول کرنے کی بجائے اسے دیوار سے لگانا چاہتی ہے۔ اسی طرح وہ یہ بھی سمجھتی ہے کہ احتساب کا عمل سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں۔ سب سے بڑا نکتہ حکومت کے مینڈیٹ کو جعلی سمجھنا اور نئے انتخابات کا مطالبہ ہے۔
موجودہ سیاسی صورتحال واقعی غیر معمولی ہے اور اس نے موجودہ سیاسی نظام میں زیادہ پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں اور فریقین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر بحران کو حل کرنا ہے تو ا س کی ابتدا کیسے کی جائے۔کیونکہ جارحانہ سیاست اور جارحانہ سیاسی ماحول سمیت جو لب ولہجہ اس وقت سیاست میں بالادست ہے اس کو کیسے ختم کیا جائے او رکیا وہ واقعی ممکن ہوگا؟اگرچہ سب سیاسی جماعتیں جن کا تعلق حکومت یا اتحادی کی صورت میں ہو یا حزب اختلاف کی صورت میں ہو، دونوں کے بقول وہ ملک میں مفاہمت کی سیاست چاہتے ہیں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کی یہ خواہش عملی سیاست میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے بالکل مختلف ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مفاہمت کا ابتدائی راستہ خود حکومت اختیار کرتی ہے۔کیونکہ مفاہمت کا عمل حکومت کی ضرورت ہوتی ہے او ر اسی بنیاد پر وہ حکومت چلاسکتی ہے۔ اس لیے حزب اختلاف کے مقابلے میں زیادہ تدبر، فہم وفراست اور سمجھ بوجھ حکومت کو دکھانی ہوتی ہے اور وہ کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کرتی جو حزب اختلاف میں اشتعال پیدا کرے۔ لیکن یہاں ایک خرابی جہاں حکومت کے اپنے طرز عمل میں ہے وہیں ایک مسئلہ خود حزب اختلاف کا بھی ہے۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں نہ تو اچھی طرز حکمرانی پر مبنی حکومتیں مل سکیں او رنہ ہی ہمیں کوئی ذمہ دار طرز کی حزب اختلاف مل سکیں۔
سیاسی قیادتیں چاہے ان کا تعلق حکومت سے ہو یا حزب اختلاف سے سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مفاہمت کی سیاست کے لئے سیاسی دروازے کسی بڑے سیاسی تعصب یا ذاتی دشمنی کی بنیاد پر ایک دوسرے کے لیے بند نہیں ہونے چاہیے۔ کیونکہ سیاست او رجمہوریت کی بنیادی کنجی کا تعلق بند دروازوں کو کھول کر رکھنا ہوتا ہے او ریہ ہی حکمت عملی سیاسی مفاہمت کا راستہ بھی نکالتی ہے۔ہمارا بڑا مسئلہ سیاست میں ایک سیاسی عصبیت کا بن گیا ہے اور ہم اپنے عمل سے اس سیاسی عصبیت کی لہروں کی شدت کو کم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایسے لگتا تھاکہ ہم 80اور90کی سیاسی دہائی سے باہر نکل آئے ہیں مگر موجودہ بگاڑ ماضی کے بگاڑ سے بھی بڑھ گیا ہے، جو خطرنا ک رجحانات کی نشاہدہی کرتا ہے۔
ہمیں سیاسی استحکام، معاشی ترقی، ادارہ جاتی اصلاحات سمیت داخلی او رخارجی مسائل کے حل میں ایک بڑی سیاسی قیادت کا تدبر درکار ہے۔ ہمارا ایجنڈا حکومتوں کو گرانا، غیر مستحکم کرنا یا سیاسی محاذ آرائی پیدا کرکے سیاسی ماحول کو خراب کرنا نہیں ہونا چاہیے او راسی طرح حکومت کو بھی حزب اختلاف کے لیے سیاسی دروازے کھولنے ہوں گے۔ یہ جو عمومی تاثر ابھر رہا ہے کہ پاکستان کی سیاست او رسیاسی قیادت قومی مفاد یا قومی مسائل کی حساسیت کے باوجود ذاتی مسائل میں الجھی ہوئی ہے اس کو ختم ہونا چاہیے۔کیونکہ سیاست میں بداعتمادی کا مسئلہ ہے۔ اس کی سیاسی ساکھ بھی بحال ہونی چاہیے او روہ سیاست دانوں کے مثبت طرز عمل سے جڑا ہوا ہے۔ مسائل کی نوعیت کتنی بھی سنگین ہواور کتنے بھی سخت تحفظات سیاست میں موجود ہوں، اس کے حل کا راستہ ہی مفاہمت او ربات چیت کے ساتھ جڑا ہے او ریہ ہی ہماری قومی سیاست کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔
اسی طرح ایک بند دروازہ سیاست او راسٹیبلیشمنٹ کے درمیان بھی ہے۔ ایک طرف سیاست دانوں میں بداعتمادی تو دوسری طرف یہ تاثر بھی موجود ہے کہ ہماری سیاست کو پس پردہ قوتیں ریموٹ کنٹرول کی مدد سے چلارہی ہیں۔اس میں جہاں بہت سی حقیقتیں بھی ہیں وہیں ہم اپنا کردار ادا کرنے یا اپنی خامیوں کا جائزہ لینے یا اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ عمل بھی مسائل کو حل نہیں بلکہ خراب کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ادارو ں سمیت سیاسی فریقین کو ایک دوسرے کے سیاسی وجود کوقبول کرنے او راپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کرنے کو ترجیح دینی ہوگی۔لیکن یہ عمل اسی صورت میں ممکن ہوگا جب طاقت کے مراکز سمیت سیاسی قوتوں میں بات چیت کا راستہ نکالا جائے گا۔ ایک دوسرے پر الزام لگاکر مسائل کا حل ممکن نہیں ہوگا۔
اہل سیاست اور طاقت کے مراکز یہ سمجھیں کہ عدم سیاسی اتفاق رائے یا مفاہمت کی سیاست کے نہ ہونے کا براہ راست اثر عام لوگوں کی زندگی میں بدحالی پیدا کررہا ہے۔ کمزور طبقات طاقت ور طبقات کی لڑائی میں اور زیادہ استحصال کا شکار ہورہے ہیں او ران کی زندگیوں میں مسائل بڑھ رہے ہیں۔اگر سیاست دان یہ سمجھتے ہیں کہ عام آدمی ترجیحات کا حصہ ہے تو تضاد یہ ہے کہ یہ ساری لڑائی ان کو قربان کرکے لڑی جارہی ہے۔ اقتدار پرستی اور عام آدمی کی سیاست کے درمیان جو فرق ہوتا ہے وہ ہمیں اپنی قومی سیاست کے تناظر میں واضح نظر آنا چاہیے۔
مسئلہ صرف داخلی مسائل کا ہی نہیں۔ اس محاز آرائی کی سیاست کا ایک بڑا نتیجہ خارجی،علاقائی سیاست پر بھی پڑرہا ہے۔ بھارت، افغانستان، ایران، امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں جو مسائل ہیں ان کے حل کا براہ راست تعلق بھی داخلی مسائل او را س کے حل سے جڑا ہوا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم قومی اور حساس معاملات پر بھی ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی بجائے ایسی سیاست کررہے ہیں جو خود ملک کے مفاد اور قومی سلامتی کو کمز ور کرتا ہے۔
یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست او رجمہوریت کی کامیابی ہماری سیاست او راس سے جڑے افراد کے طرز عمل، فیصلہ سازی اور بہتر حکمت عملی کے ساتھ جڑی ہے۔ کیونکہ جوسیاسی او رجمہوری طرز عمل یہاں پنپ رہا ہے یا اسے طاقت دی جارہی ہے، وہ ایک ایسی سیاست ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔اب بھی وقت ہے کہ ہم ایک ذمہ دارانہ سیاست کو فروغ دیں او راسی کو اپنی سیاسی ترجیحات کا حصہ بنا کر آگے بڑھنا ہی قومی مفاد میں ہوگا۔