ریونیو شارٹ فال ایک کھرب 62 ارب روپے تک جا پہنچا
- جمعہ 01 / نومبر / 2019
- 4480
حکومت کی جانب سے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کے باجود پاکستان کا ریونیو شارٹ فال مسلسل بڑھ رہا ہے۔
وفاقی بورڈ آف ریونیو کے سینیئر عہدیداروں نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران صوبائی سطح پر جمع ہونے والا ریونیو 14 کھرب 47 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے12 کھرب 80 ارب روپے رہا۔ 4 ماہ میں شارٹ فال ایک کھرب 67 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جو ستمبر میں ایک کھرب 13 ارب روپے تھا۔ اس فرق میں 5 ارب روپے کی بک ایڈجسٹمنٹ کے بعد معمولی کمی واقع ہوئی اور یہ ایک کھرب 62 ارب روپے کا ہوگیا تھا۔
سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو 12 کھرب 84 ارب روپے کی مجموعی کلیکشن 2018 میں جمع ہونے والے 11 کھرب 4 ارب روپے سے 16 فیصد زائد ہے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق اکتوبر میں ریونیو کلیکشن 3 کھرب 20 ارب روپے رہی جبکہ اس کا ہدف 3 کھرب 76 ارب روپے رکھا گیا تھا۔ یعنی ہدف سے 55 ارب روپے کم آمدن ہوئی تاہم یہ رقم گزشتہ سال کےمقابلے 15 فیصد زیادہ ہے۔
حکام کا مزید کہناتھا کہ اب تک ٹیکس دہندگان کو مجموعی طور پر 34 ارب روپے واپس ادا کیے جاچکے ہیں۔ ماہ اکتوبر میں 4 ارب روپے واپس کیے گئے۔ ریونیو کلیکشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ 4 ماہ کے دوران سب سے زیادہ 5 کھرب 66 ارب روپے سیلز ٹیکس کے ذریعے حاصل ہوئے جس کے بعد انکم ٹیکس سے 4 کھرب 68 ارب روپے اور کسٹم ٹیکس کے ذریعے ایک کھرب 9 ارب روپے کی آمدنی ہوئی۔
فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی کے 71 ارب روپے سمیت ایک کھرب 37 ارب روپے کی رقم دیگر ٹیکسز کی مد میں حاصل ہوئی۔ خیال رہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کے 6 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت رواں مالی سال کے لیے ریونیو کا ہدف 50 کھرب 55 ارب 50 کروڑ روپے رکھا تھا۔
آئی ایم ایف کا وفد پہلی سہ ماہی کے دوران حکومتی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے مشن پاکستان میں موجود ہے۔