ادارے اپنی غیر جانبداری ثابت کریں، وزیر اعظم کو دو دن کی مہلت: مولانا فضل الرحمان
- جمعہ 01 / نومبر / 2019
- 5250
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کو دو روز کی مہلت دیتے ہیں کہ وہ خود ہی مستعفی ہو جائیں ورنہ عوام کا یہ سمندر قدرت رکھتا ہے کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں گھس کر انہیں خود ہی گرفتار کر لے۔
آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے اداروں کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے۔ لیکن اداروں کو اپنی غیر جانبداری ثابت کرنا ہو گی۔ حاضرین کی جانب سے ڈی چوک جانے کے نعروں پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ نعرے آصف زرداری بھی سن رہے ہیں اور نواز شریف بھی اور وہ قوتیں بھی یہ سن رہی ہیں جنہیں ہم سنانا چاہتے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی کو کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔ ہم فی الحال صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ہم آگے بڑھیں گے۔ 25 جولائی 2018 کے انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ فراڈ الیکشن تھے۔ وہ الیکشن بدترین دھاندلی کا شکار ہوئے تھے۔ ہم نہ تو ان نتائج کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اب قوم ان کو مزید مہلت دینے کو تیار نہیں ہے۔ پاکستان کے گوربا چوف کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے خود ہی دستبردار ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہ "ہمیں کہا گیا کہ کشمیر کی صورتِ حال کے باعث جلسہ نہ کریں لیکن دوسری جانب کرتار پور راہداری کھولنے کے لیے بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ آج کشمیریوں کو موجودہ حکمرانوں نے مودی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔"
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ "ایک کروڑ نوکریوں کے دعوے کیے گئے لیکن 20 سے 25 لاکھ نوجوان بے روزگار ہو چکے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ باہر سے لوگ نوکریوں کے لیے آئیں گے لیکن دو لوگ باہر سے آئے ایک گورنر اسٹیٹ بینک اور ایک وزیر خزانہ جنہیں آئی ایم ایف کے کہنے پر مقرر کیا گیا۔" ہمیں کہا گیا کہ مذہب کارڈ استعمال کر رہا ہوں۔ "میں کہتا ہوں کہ پاکستان اور مذہب اسلام کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ آئین مجھے اجازت دیتا ہے کہ مذہب کارڈ استعمال کروں۔ میڈیا مالکان اور اینکرز کھل کر اس آزادی مارچ کا حصہ بنیں اور حکومت کے فیصلوں پر بغاوت کر دیں۔ اگر میڈیا سے پابندی نہ اٹھائی گئی تو پھر ہم بھی کوئی پابندی نہیں مانیں گے۔"
جمعیت علماء اسلام(ف) کے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بدقسمی یہ ہے کہ 70 سال سے ہم ملک میں شفاف انتخابات نہیں کرا سکے۔ 2008 اور 2013 میں فوج پولنگ اسٹیشن میں تعینات نہیں تھی۔ 2018 میں صرف عمران خان کے لیے فوج کو تعینات کیا گیا۔ ایسے اقدامات سے ادارے متنازع ہوتے ہیں۔
چئیرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ یہ فوج صرف عمران خان کی نہیں بلکہ میری اور پورے ملک کی فوج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا یہ جمہوریت ہے جہاں میڈیا پر قدغنیں ہیں عوام آزاد نہیں۔ یہاں کلبھوشن یادیو اور ابھی نندن سمیت دہشت گردوں کو ٹی وی پر دکھانے کی اجازت ہے لیکن سابق صدر آصف زرداری، سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کو دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ کشمیر کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کشمیر کاز پر تاریخی حملہ کیا ہے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ مقتدر حلقوں نے عمران خان کی بے مثال حمایت کی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان کے مقابلے میں اگر مقتدر حلقوں نے 10 فی صد سپورٹ متحدہ اپوزیشن کو دی ہوتی تو ملک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیتے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی آئینی حق ہے۔ اگر عمران خان مزید اقتدار میں رہے تو سب پچھتائیں گے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جب تک عمران خان اس ملک کے عوام کی جان نہیں چھوڑتے اس وقت تک ہم عمران خان کی جان نہیں چھوڑیں گے۔ شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمن کو کامیاب آزادی مارچ پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے دلیری کا مظاہرہ کیا۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما نیر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں مارچ کو کوریج نہیں دی جا رہی۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکمران گھبراہٹ کا شکار ہیں۔ موجودہ حکومت سے عوام کو نجات دلا کر ملک میں 1973 کا آئین اصل حالت میں بحال کرائیں گے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ جب تک عمران خان اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہو جاتے اس وقت تک شرکا واپس نہیں جائیں گے۔ پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) کا 'آزادی مارچ' دارالحکومت اسلام آباد میں موجود ہے جہاں متحدہ اپوزیشن کا جلسہ جاری ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کر رکھا ہے کہ آزادی مارچ نہ صرف مارچ بلکہ جلسہ بھی ہے اور اس میں دھرنا بھی ہو سکتا ہے۔
ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے جمعیت علماء اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ کو بھی ہری پور جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ مفتی کفایت اللہ آزادی مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
'آزادی مارچ' کے قافلے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب جلسے کے لیے مخصوص مقام سیکٹر ایچ نائن پہنچے جب کہ اب بھی جلسہ گاہ میں قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ مارچ کے شرکا جی ٹی روڈ اور اسلام آباد ایکسپریس وے اور کشمیر ہائی وے سے ہوتے ہوئے جلسہ گاہ تک پہنچے۔ خیبرپختونخوا سے بھی آزادی مارچ کے قافلے اسلام آباد شہر میں داخل ہوئے۔
مارچ کے شرکا کے لیے جمعے کی صبح ناشتے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ اسلام آباد پہنچنے پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کا آج جمعے کی نماز کے بعد باضابطہ افتتاح ہو گا۔ جلسے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم 'انصار الاسلام' نے سیکیورٹی کا حصار قائم کر رکھا ہے۔
حکومت کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت مارچ کے شرکا جلسہ گاہ تک ہی محدود رہنے کے پابند ہیں۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت کو امید ہے کہ مارچ کے شرکا معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ آزادی مارچ 27 اکتوبر کو کراچی سے روانہ ہوا تھا جو سکھر، رحیم یارخان، ملتان، ساہیوال اور لاہور سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچا ہے۔
حکومت کے خلاف آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کا اجلاس آج اسلام آباد میں طلب کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں اپوزیشن رہنما 'آزادی مارچ' کے مستقبل کے حوالے سے لائحہ عمل طے کریں گے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ وہ کسی بھی دھرنے کے خلاف ہیں جب کہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ میں دھرنا بھی ہو سکتا ہے۔