اقرا خالد: رکن پور سے رکن پارلیمان کینیڈا تک

  • تحریر
  • جمعہ 01 / نومبر / 2019
  • 9400

رکن پور کی اقرا خالد دوسری مرتبہ کینیڈا پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہو گئیں۔ ڈیلی ایکسپریس میں گزشتہ ہفتے صفحہ اول پرچھپی اس خبر  نے توجہ کا دامن کھینچ لیا۔ رحیم یار خان کے ایک دور فتادہ قصبے رکن پور  سے اقرا خالد کے دادا صوفی فقیر کے حوالے سے خبر میں اس  بات کا خصوصی ذکر تھا کہ ان کی پوتی رکن پور کے پرائمری اسکول میں پڑھتی رہی۔

 بعد ازاں اپنے والدین کے ساتھ کینیڈا شفٹ ہو گئی۔ 34 سالہ اقرا  خالد پیشے کے اعتبار سے وکیل اور ٹورانٹو کے ایک ذیلی شہر مسی ساگا سے جسٹن ٹروڈو کی  قیادت میں لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر دوبار ہ منتخب ہوئی۔ پاکستان سے لاکھوں کی تعداد میں  لوگ ترکِ وطن کرکے دنیا بھر کے ممالک میں آباد ہیں۔ اقتصادی اعتبار سے کچھ ممالک میں کافی لوگ  مستحکم ہیں۔  البتہ مقامی  سیاست میں بہت کم تعداد ہی اپنا نام بنا نے  کا رجحان  رکھتی  ہے۔  اکثر ممالک میں  جنوبی ایشیا کے رجحان کے مطابق اپنی کمیونٹی  میں ہی رچ بس کر رہنے کا رواج ہے۔ برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ وغیرہ میں خاصی معقول تعداد میں  پاکستانی آباد ہیں، اب تو دوسری اور تیسری نسل بھی  جوان ہو چکی لیکن غالب رجحان یہی ہے کہ اپنی کمیونٹی میں ضم رہا جائے یا قریب رہا جائے۔

 مذہبی، معاشرتی اور معاشی سرگرمیوں میں  اپنوں کے ساتھ اس قدر جڑاؤ رہتا ہے کہ الّا ماشاء اللہ مقامی آبادی کے ساتھ  راہ و رسم  رسمی مجبوری سے آگے نہیں بڑھ پاتا، چہ جائیکہ  سیاست، معاشرت، کھیل یا فنون لطیفہ میں ان کے شانہ بہ شانہ ناموری حاصل کرنے کا جذبہ ہو۔  برطانیہ میں   اپنے ہاں کی بہت سی  مخصوص تنگ نظری بھی ساتھ ساتھ زندہ رہتی ہے بلکہ بعض اوقات تو بہت منفی اور شرمناک انداز میں میڈیا پر  نمایاں جگہ پاتی ہے۔ ایسے میں اگر  روشن اور قابل قدر مثالیں  دیکھنے سننے کو ملیں تو ملک کے اندر اور باہر  ہموطنوں کا سر فخر سے بلند  ہو جاتا ہے۔

اقرا خالد کینیڈا   ٹورانٹو کے ذیلی شہر مسی ساگا  کی رہائشی ہیں۔ اس علاقے میں پاکستانیوں  کی  ایک کثیر تعداد آباد ہے۔ اس قدر کثیر کہ انگلش زبان کے  بعد یہاں سب سے زیادہ بولی جانے  والی زبانیں اردو اور پنجابی ہیں۔  مقامی لائبریری تک میں اردو کی کتابیں دستیاب ہیں۔ اقرا خالد اسی حلقے سے پچھلی بار منتخب ہوئی اور  اب ایک بار پھر حلقے کی اکثریت کا اعتماد لے کر کینیڈا کی پارلیمان میں پہنچی۔

رکن پور اور اقرا  خالد کے والد حافظ خالد کے ساتھ ہماری کچھ پرانی یادیں  وابستہ ہیں۔ اس خبر پر دلی خوشی میں اس تعلق کا بھی دخل ہے۔ ہمارا تعلق ر حیم یار خان سے ہے،   ایک دورافتادہ  قصبے باغ و بہار (جو  70  کی دِہائی میں ایک بس اڈے اور دوکانوں  کے مختصر بازار پر مشتمل آبِ حیات نہر کنارے محکمہ انہار کے ایک بنگلے کے طور پر مشہور تھا) کے ہائی اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد خواجہ فرید گورنمنٹ  ڈگری کالج میں  داخل ہوئے تو  ہاسٹل میں  جس کلاس فیلو  کے کمرہ شریک ہوئے، وہ حافظ خالد تھے۔

حافظ خالد کا شعری ذوق بہت عمدہ تھا۔ اردو اور سرائیکی اشعار کا  انتخاب ایک کاپی میں لکھتے  رہتے اور  اکثر سناتے۔ دو ایک بار مقامی مشاعروں میں بھی  اکٹھے شریک ہونے کا موقع ملا۔  ان کی صحبت اور ہم سخنی نے ہمارے شعری ذوق  کو بھی  مہمیز کیا۔ ان کے ساتھ ان کے گاؤں رکن پور بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ کھچا کھچ بھری بس میں تادیر چھت  پر سفر کرنا پڑا،  جوانی اور ایڈوینچر کا شوق کہ اس سفر کو خوب انجوائے کیا۔  ان کے والد صوفی  فقیر کی دوکان تھی۔ حافظ خالد نے لائبیری سائنس میں ایم اے کیا، اسلامیہ یونی ورسٹی  بہاولپور جوائن کی، پی ایچ ڈی کا اسکالرشپ ملا تو  غالباٌ برطانیہ سے پی ایچ ڈی کرکے لوٹے۔ کچھ عرصے بعد مگر  کینیڈا جانے کی ٹھانی اور شفٹ ہو گئے۔

 لائبریری سائنس سے ناطہ چھوٹ گیا مگر والد کی تربیت کام آئی۔  ایک گروسری اسٹور کھول لیا، اہلیہ نے ایک پارلر اور بوتیک کھول کر نئی زندگی کی ابتدا کی۔   بعد میں ایک آدھ بار رابطہ ہوا تو انداز سے لگا کہ کاروبار  کی مصروفیت  اور وہاں کی برفیلی آب و ہوا  میں وہ یادیں  ٹھٹھر سی گئی تھیں، دوبارہ رابطے پر طبیعت  مائل بھی نہ ہوئی۔ ان کی بیٹی کے دوبارہ انتخاب کی خبر سے پرانی یادیں ایک بار پھر سے ذہن  میں  تازہ ہوئیں اور اس تحریر کا سبب بنی گئیں۔

اس  زمانے میں ان کی وساطت سے ہی سرائیکی شاعری کے اپنے وقت کے  بڑے شاعر جانباز جتوئی، اقبال سوکڑی اور دلچسپ کے اشعار، نظمیں اور دوہڑے سنے۔ دو ایک ابھی تک یاد ہیں جبکہ باقی   نسیان کی نذر ہو گئے۔ جانباز جتوئی کا ایک دوہڑا  کچھ یوں تھا؛

رہ سُول سوغاتاں  ڈِتّی توں

میڈی گال تاں سن گھن اِتّی توں

جانباز ڈے ذرا  ڈیکھ تاں سہی

شالا تھیویں تاریاں  جِتّی توں

کینیڈا میں احباب کی زبانی ہی علم ہو ا کہ پاکستان نژاد  سلمیٰ زاہد بھی  دوسری بارممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں۔ ایک دیرینہ دوست راحت جلال جو   ریٹائرمنٹ کے بعد سوشل ویلفئیر کو فل ٹائم  اپنائے ہوئے ہیں کی زبانی بہت سے دیگر احباب کا بھی ذکر سنا جو مقامی سیاست میں فعال ہیں، ان میں ایک  خالد عثمان ہیں جو  مارکھم کے علاقے سے 2000  سے اب تک مسلسل چار بار بطور کونسلر منتخب ہوتے آئے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں لیکن مقامی سیاست میں قابل قدر کردار ادا کر رہے ہیں۔

کینیڈا کی طرح امریکہ میں بھی  پاکستانیوں کی  ایک کثیر تعداد آباد ہیں۔ ڈاکٹرز کمیونٹی  ہو یا  کاروباری و دیگر پیشوں سے   منسلک پاکستانی نژاد، اکثریت مقامی سیاست  سے دامن بچا کر رکھتی ہے۔ پاکستانی کمیونٹی  میں سے بیشتر پاکستان کی ترقی اور مسائل پر خاصے حساس ہیں۔  پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کا غالب حصہ امریکہ میں مقیم اسی کمیونٹی کی وساطت سے جمع ہوتا ہے ۔ اس بار اٹلانٹا  کے سفر میں تیسری نسل سے  وہاں بسنے والے حبیب  چوہدری سے ملاقات ہوئی۔ انتہائی پڑھے لکھے، ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ مقامی سیاست میں شرکت کو پاکستانی نژاد کمیونٹی  کے لئے ضروری جانتے ہوئے  کاوئنٹی لیول کے انتخابات میں ان کا خاندان زور شور سے حصہ  لیتا ہے۔ گزشتہ  الیکشن میں  چند سو ووٹوں سے  ہارے مگر اب پہلے سے زیادہ تگ و دو کر رہے ہیں کہ اگلے انتخاب میں  جیت سکیں۔

امریکہ میں پاکستانی نژاد کمیونٹی  پاکستانی  امریکہ پولیٹیکل ایکشن کمیٹی  (PAKPAC)  کے فورم سے  گزشتہ کئی سالوں سے  اپنے لوگوں کو متحرک کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ 2016 کے انتخابات  میں اس  کونسل کی ڈائریکٹر رفعت چغتائی و دیگر رفقاء کی کوششوں سے امریکہ کے کئی بڑے شہروں میں  امریکن سیاست کے ایکسپرٹ ڈاکٹر عدنان اور واشنگٹن میں  لابی کے ایک معروف ماہر سے مکالمے کے کئی سیشن رکھے گئے تاکہ سیاست اور  پاکستانی نژاد امیدواروں کے لئے کمیونٹی کو مزید متحرک کیا جا سکے۔  مکالموں کی ان نشستوں میں ماہرین نے یہی باور کروانے کی کوشش کی کہ مقامی سیاست میں فعال کردار سے  معاشرے میں ان کا کردار نمایاں ہوگا اور اسلاموفوبیا کا بھی مقابلہ ہو سکے گا۔ امید ہے کہ کمیونٹی اگلے سال الیکشن میں بہتر تیاری اور زیادہ تعداد میں حصہ لے گی۔ 

ا مریکہ کی مانند کینیڈا میں بھی  اقرا خالد،  سلمیٰ زاہد اور سمیر زبیری  سمیت  زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کا  مقامی سیاست میں  سرگرم ہونا   اچھا شگون ہے۔ بھارت اس معاملے میں بہت آگے ہے لیکن پاکستانی نژاد دوسری اور تیسری نسل بھی تعلیم اور مزاج کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ وہ سیاست میں بھی  اپنا نام پیدا کر سکتے ہیں۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!